سپر لیگ اسکینڈل کا پہلا شکار، عرفان پر ایک سال کی پابندی

پی ایس ایل اسپارٹ فکسنگ اسکینڈل فیصلہ کن مرحلے تک پہنچ چکا ہے اور اس کا پہلا شکار طویل القامت تیز گیند باز محمد عرفان بنے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر محمد عرفان کو ایک سال کی معطلی اور 10 لاکھ کے جرمانہ کی سزا سنائی ہے تاہم ڈسپلن بہتر ہونے پر فاسٹ باؤلرز کی سزا چھ ماہ تک محدود کی جا سکتی ہے۔

پی سی بی کی ویجیلنس اور سیکیورٹی کے ڈائریکٹر کرنل ریٹائرڈ محمد اعظم خان نےمحمدعرفان کی سزا کا اعلان کرتے ہوئے مزید بتایا کہ کہ پابندی کے عرصے میں لازم ہو گا کہ عرفان اینٹی کرپشن کوڈ کی مزید خلاف ورزی نہ کریں اور اسپاٹ فکسنگ کیس کی مزید تحقیقات میں ان کے خلاف مزید کوئی ثبوت بھی سامنے نہ آئیں اس کے علاوہ بورڈ کی ہدایت پر کرپشن کے خلاف معاونت کرتے ہوئے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت لیکچر کا حصہ بنیں گے تب جا کر ان کی سزا 6 ماہ تک محدود کر دی جائیگی جبکہ معطلی کا آغاز 14 مارچ سے ہو چکا ہے۔ 4 ٹیسٹ، 60 ون ڈے اور 20 ٹی20 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز رکھنے والے عرفان پر پی سی بی آئین کے آرٹیکل کے کوڈ 2.4.4 کی دو مرتبہ خلاف ورزی کا الزام تھا۔

معطلی کی سزا کے علاوہ محمد عرفان کو 10 لاکھ جرمانے کی مد میں ادا کرنا ہونگے، یہ تو ظاہری جرمانہ ہے مگر حقیقت میں تیزگیندباز کو مزید 30 لاکھ کے خسارے کا بھی سامنا کرے پڑے گا اس کی وجہ سنٹرل کنٹریکٹ کی معطلی ہے چونکہ سنٹرل کنٹریکٹ کے مطابق عرفان کو ماہانہ 5 لاکھ روپے ملا کرتے تھے جو اب کم از کم 6 ماہ تک نہیں مل سکیں گے۔ اس کے علاوہ میچ نہ کھیل سکنے کی وجہ سے میچ فیس سے محرومی بھی الگ سے خسارہ ہو گا۔

محمدعرفان نے میڈیا کے سامنے اپنی غلطی کو واضح اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی ہے اور کہا کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی بس مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ جب بکیوں نے دو مرتبہ رابطہ کیا تھا تو مجھے بورڈ یا اینٹی کرپشن یونٹ کو بتایا چاہئے تھا مگر میں ایسا نہ کر سکا جو یقینا میری غلطی تھی۔

محمدعرفان کو تو اپنی قدر معمولی غلطی کی سزا مل گئی مگر اب دیکھنا یہ ہے باقی ملوث کھلاڑیوں شرجیل خان، خالدلطیف اور خاص کر بکیوں کے مددگار ناصرجمشید کو کس نوعیت کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کب تک حتمی فیصلے آ جائیں گے۔

mohammad irfan

Facebook Comments