آئی سی سی صدارت؛ جنوبی افریقہ بھی روٹیشن پالیسی کے حق میں تھا

بھارت کے کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے عالمی کرکٹ خصوصاً بین الاقوامی کرکٹ کونسل پر اثرات کسی سے ڈھکی چھپی چیز نہیں ہیں۔ اس کا واضح اظہار آئی سی سی کے حالیہ سالانہ اجلاس میں ہونے والے بیشتر فیصلے ہیں جو بین الاقوامی انجمن کے بھارت کی جانب واضح جھکاؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ ظاہر ہے بھارت سے بین الاقوامی کرکٹ کو ہونے والی آمدنی ہے اور یہی ایک وجہ بھارت کے اثرات کو اور زیادہ بڑھا رہی ہے۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ بھارت کی مانی جائے، حالیہ سالانہ اجلاس میں ایک فیصلہ ایسا بھی ہوا جس پر بھارت کو خفت کا سامنا کرنا پڑا وہ تھا آئی سی سی کی صدارت کے لیے روٹیشن کی پالیسی کو تبدیل کرنا جس کا مقصد آئی سی سی کی صدارت کے لیے پاکستان کی باری کا خاتمہ کرنا تھا۔

آئی سی سی کی صدارت پر حتمی فیصلہ اب اکتوبر تک موخر ہو چکا ہے

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے طریق کار کے مطابق رواں سال صدارت و نائب صدارت کے لیے پاکستان و بنگلہ دیش کی باری تھی اور جیسے ہی یہ خبریں پھیلنے لگیں کہ آئی سی سی سالانہ اجلاس میں اس طریق کار کو بدلنے لگا ہےتو ان دونوں ممالک کے علاوہ کسی ملک نے اس ممکنہ فیصلے کے خلاف احتجاج نہیں کیا لیکن حیران کن طور پر سالانہ اجلاس میں اس معاملے کو موخر کر دیا گیا۔

ماہرین حیران تھے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور ممکنہ طور پر سری لنکا کے علاوہ وہ کون سا ملک ہو سکتا ہے جس کے ووٹ نے بھارت کو خفت سے دوچار کیا۔ گزشتہ روز (اتوار کو) بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا تھا کہ چوتھا ووٹ جنوبی افریقہ نے دیا تھا۔ اور آج (بروز پیر) جنوبی افریقہ نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ روٹیشن پالیسی کے حق میں انہوں نے ووٹ ڈالا تھا۔ اس پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے آئی سی سی کے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے اور اس ترمیم کے لیے 10 میں سے 8 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔

جنوبی افریقہ کرکٹ کے صدر ایم توتوزیلی نیوکا نے پیر کو معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنوبی افریقہ آئی سی سی کی صدارت کے لیے نامزدگی کمیٹی کا حامی ہے ۔ نامزدگی کمیٹی 2007ء سے قبل صدارت کے لیے کام کرتی تھی لیکن بعد ازاں روٹیشن پالیسی لاگو کرتے ہوئے اسے کو ختم کر دیا گیا۔

اب یہ معاملہ گورننس ریویو کمیٹی کے روبرو جائے گا جو اس پر غور کرنے کے بعد اکتوبر میں ایگزیکٹو بورڈ کے اگلے اجلاس سے قبل آئی سی سی کو سفارشات پیش کرے گا۔

ماہرین کے لیے جنوبی افریقہ کا یہ موقف اختیار کرنا بہت حیران کن ہے کیونکہ یہ ایسا خال خال ہی ہوا ہے کہ جنوبی افریقہ نے بھارت سے مختلف موقف اپنایا ہو۔ دونوں ممالک سالوں سے مضبوط تعلقات میں بندھے ہیں اور اس کا واضح اظہار 2009ء میں بھارت میں سیکورٹی خدشات کے باعث آئی پی ایل کا جنوبی افریقہ میں منعقد ہونا تھا۔

Facebook Comments