دی اوول، لندن

انگلستان کے مشہور اور قدیم کرکٹ میدانوں میں سے ایک، اوول کا کرکٹ میدان، لندن کے ضلع کیننگٹن میں واقع ہے۔ ماضی میں اسے کیننگٹن اوول کے نام سے بھی پکارا جاتا رہا ہے جب کہ گزشتہ سالوں میں اسے اسپانسرز کی وجہ سے بھی مختلف ناموں سے منسوب کیا گیا۔ یہ میدان سرے کاؤنٹی کرکٹ کلب کا گھر ہے۔ اوول برطانیہ کا پہلا اور دنیا کا دوسرا میدان ہے جس نے ٹیسٹ کرکٹ کی میزبانی کی۔

اوول کے خوبصورت میدان کا ایک طائرانہ منظر

اوول کا قیام 1845ء میں عمل میں آیا جب سرے کاؤنٹی کلب یہ زمین لیز پر حاصل کی۔ اوول پر پہلا ٹیسٹ کرکٹ میچ 6 تا 8 ستمبر 1880ء، انگلستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے مابین کھیلا گیا جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا چوتھا میچ تھا۔ اس میچ میں انگلستان نے پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔ جب کہ اوول پر پہلا ایک روزہ میچ انگلستان اور غرب الہند (ویسٹ انڈیز) کی ٹیموں کے درمیان 7ستمبر 1973ء کو کھیلا گیا جس میں انگلستان کو آٹھ وکٹوں سے عبرت ناک شکست ہوئی۔ اوول پر پہلا ٹی۔ٹوئنٹی میچ بھی انگلستان اور غرب الہند کی ٹیموں ہی کے درمیان 28جون 2007ء کھیلا گیا جس میں انگلستان کو 15رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اوول میدان کے دو کنارے پویلین اینڈ اور واگژیل اینڈ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ سرے کلب نے 2002ء میں واگژیل اینڈ پر تعمیراتی کام شروع کروایا جو مئی 2005ء میں مکمل ہوا۔ اس کے نتیجے میں تماشائیوں کی گنجائش 23 ہزار سے زائد ہوگئی۔ جنوری 2007ء میں سرے نے مزید دو ہزار تماشائیوں کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے پویلین اینڈ پر کام شروع کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن ماحول اور حفاظتی مسائل کے باعث اس پر اعتراضات اٹھائے گئے جس کی وجہ سے یہ کام تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ 2009ء میں فلڈ لائٹس کی تنصیب عمل میں آئی۔

اوول کا میدان صرف کرکٹ ہی تک محدود نہیں بل کہ 5 مارچ 1870ء کو اس میدان پر پہلا عالمی فٹ بال میچ انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس میدان پر رگبی کے بھی چند مقابلے منعقد ہوچکے ہیں۔

اوول کے میدان پر ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ اسکور انگلستان کے 903 رنز ہیں جو اُس نے آسٹریلیا کے خلاف 20 تا 24 اگست 1938ء کھیلے گئے میچ میں بنائے اور انگلستان کو ایک اننگز اور 579رنز سے فتح نصیب ہوئی؛ جب کہ سب سے کم اسکور آسٹریلیا کے 44رنز ہیں جو اُس نے انگلستان کے خلاف 10 تا 12 جولائی 1896ء کو تین روزہ ٹیسٹ میچ میں بنائے اور انگلستان کو 66رنز سے فتح حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ اوول کے میدان کو کئی یادگار اور تاریخی میچوں کے شاہد ہونے کا اعزاز حاصل ہے؛ مثال کے طور پر 1930ء میں آسٹریلیا کے 701 رنز جس میں ڈان بریڈمین کے 244 اور بل پونس فورڈ کے 266 رنز شامل تھے اور انگلستان کے خلاف پاکستان کے 708 رنز جس میں جاوید میانداد کے 260، سلیم ملک کے 102 اور عمران خان کے 118 رنز شامل تھے۔ پاکستان کا یہ اسکور اس میدان کا دوسرا سب سے بڑا اسکور ہے۔

اوول، 1954ء: فضل محمود پاکستان کو تاریخی فتح سے ہمکنار کرنے کے بعد میدان سے باہر آ رہے ہیں

پاکستان نے 1954ء میں اپنے پہلے دورۂ انگلستان میں اوول کے میدان میں ہی تاریخی فتح حاصل کر کے سیریز برابر کی تھی۔ فضل محمود کی یادگار کارکردگی کی بدولت ایک نوآموز پاکستانی ٹیم انگلستان جیسی کرکٹ پاور کو اس کی سرزمین پر ہرانے میں کامیاب ہوئی۔ اوول میں اس فتح کو پاکستان کی تاریخ کی اہم ترین فتوحات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ میدان بہت خوش نصیب رہا ہے کیونکہ پاکستان 1967ء کے دورۂ انگلستان میں یہاں ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد سے آج تک کوئی ٹیسٹ نہیں ہارا۔ اس میدان میں پاکستان کی تاریخی فتوحات میں 1992ء کی فتح بھی شامل ہے جہاں پاکستان نے وسیم اکرم کی تباہ کن گیند بازی کی بدولت انگلستان کو 10 وکٹوں سے ہرا کر سیریز 2-1 سے جیتی تھی۔ اس کے بعد 1996ء میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر سعید انور کی شاندار بلے بازی اور وقار یونس، وسیم اکرم اور مشتاق احمد کی زبردست گیند بازی کی بدولت اوول میں ہی 9 وکٹوں کی بھاری فتح حاصل کر کے سیریز اپنے نام کی تھی۔

ان تمام تاریخی فتوحات کے ساتھ پاکستان اگست 2006ء میں اس میدان میں سیریز برابر کرنے کے عزم کے ساتھ اترا لیکن پاکستانی باؤلرز پر بال ٹیمپرنگ کے الزامات پر تنازع ابھرنے کے بعد اس وقت کے کپتان انضمام الحق نے دوبارہ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں انگلستان کو میچ میں فاتح قرار دے دیا گیا۔ اوول تنازع پاک-انگلستان رقابت کی ایک اور یادگار ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان کے باؤلرز پر بال ٹیمپرنگ کے الزامات انگلستان ہی میں لگے تھے۔

اوول تنازع؛ آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر پاکستانی ٹیم کے میدان میں واپس نہ آنے پر میچ کے باضابطہ خاتمے اور انگلستان کی فتح کا اعلان کرتے ہوئے

اوول تنازع کے بعد پاکستان 2010ء میں آخری مرتبہ انگلستان کے دورے پر گیا جہاں اوول کے اس تاریخی میدان میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں وہاب ریاض اور محمد عامر کی تباہ کن گیند بازی نے پاکستان کو 4 وکٹوں سے فتح دلائی لیکن اس کے بعد لارڈز ٹیسٹ میں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا تنازع یعنی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آ گیا۔

Facebook Comments