پاکستان ٹاسک ٹیم رپورٹ جاری، پی سی بی پر کڑی تنقید، 63 سفارشات

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اپنی پاکستان ٹاسک ٹیم (پی ٹی ٹی) کی تیار کردہ رپورٹ منظر عام پر لے آیا ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو انتظامی معاملات، کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے انتخاب کے طریق کار و دیگر امور کے حوالے سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیاہے۔

رپورٹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ صورتحال پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانے کے لیے کئی سفارشات مرتب کی گئی ہیں

38 صفحات پر مشتمل اور 63 سفارشات کی حامل یہ رپورٹ گزشتہ ہفتے ہانگ کانگ میں آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان ٹاسک ٹیم کی جانب سے ایگزیکٹو کونسل کے روبرو پیش کی گئی تھی جسے آج جاری کیا گیا ہے۔ یہ سفارشات پاکستان میں کرکٹ کی بہتری کے لیے تجویز کی گئی ہیں۔ بین الاقوامی کونسل کی مرتب کردہ ٹاسک ٹیم کے چیئرمین انگلستان سے تعلق رکھنے والے جائلز کلارک ہیں جبکہ ٹیم کے دیگر اراکین میں مائیک بریئرلے، پیٹر چنگوکا، ہارون لورگاٹ، رنجن مدوگالے، رمیز راجا اور ڈیو رچرڈسن شامل ہیں۔

رپورٹ میں پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی پر بھی زور دیا گیا ہے جسے پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کلیدی جز کی حیثیت دی گئی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس ٹیم کے دائرۂ اختیار اور کام کی نوعیت میں بھی اضافہ ہوا۔ ابتداء میں کیونکہ اس کا قیام مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد عمل میں آیا تھا، اس لیے اس کا دائرۂ کار محض پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔ لیکن بعد ازاں اسپاٹ فکسنگ معاملہ اور پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامی معاملات بھی ٹیم کے زیر غور آئے۔

ٹیم نے جو سفارشات مرتب کی ہیں ان میں سب سےاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامی معاملات اور انتظامیہ کے حوالے سے ہے جس میں اس امر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ بورڈ کی سربراہی صدر مملکت کرتا ہے، اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ کھیل کے انتظامی ادارے کی طرح اس میں بھی چيئرمین کو ہی سی ای او کے اختیارات ہونے چاہئیں۔

کھلاڑیوں کے انتخاب کے حوالے سے پاکستان ٹاسک ٹیم نے ایگزیکٹو کمیٹی کے روبرو 10 سفارشات پیش کی ہیں اور اس میں روز بروز سلیکٹرز کی تبدیلی کو نشانہ بنایا گیا ہے اور گزشتہ پانچ سالوں کے مختصر عرصے میں چیئرمین سلیکشن کمیٹی کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ سلیکشن کمیٹی کو کسی بھی "بیرونی مداخلت" کام کرنا چاہیے اور ساتھ میں یہ بھی سفارش کی ہے کہ کمیٹی کے اراکین کا انتخاب انتہائی شفاف عمل اور بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ساتھ میں کھلاڑیوں کے انتخاب میں کسی بھی کھلاڑی کے انتخاب کو ویٹو کرنےکے چیئرمین کے حق کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ٹاسک ٹیم نے مرکزی معاہدے (سینٹرل کانٹریکٹ) میں شامل کھلاڑیوں کی تعداد کو بھی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں 45 کھلاڑیوں کو مرکزی معاہدہ حاصل ہے جس میں 30 کھلاڑیوں کو زمرہ اول،دوئم اور سوئم میں رکھا گیا ہے جبکہ 15 کھلاڑی ماہانہ وظیفہ حاصل کرتے ہیں۔پی ٹی ٹی نےمعاہدے سے نوازے گئے کھلاڑیوں کی تعداد کم کر کے 25 کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ صرف 10 کھلاڑیوں کو ماہانہ معاوضہ دیا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاک بھارت مقابلےنہ ہونے سے کھیل کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی سیریز کی غیر موجودگی دنیا بھر میں کرکٹ کے کروڑوں شائقین ایک شاندار سیریز کا لطف اٹھانے سے محروم کیے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق روایتی حریفوں کے درمیان اس سیریز کا عدم انعقاد عمومی طور پر کرکٹ اور خصوصی طور پر پاکستان کو بہت زیادہ متاثر کر رہا ہے اور دونوں کے درمیان مقابلے کو جلد از جلد دوبارہ شروع کیا جانا چاہیے چاہے وہ کسی تیسرے ملک میں منعقد ہوں۔

آئی سی سی کی پاکستان ٹاسک فورس کی پیش کردہ اہم سفارشات

میزبانی/سیکورٹی معاملات

اگر سیکورٹی کا مسئلہ ہو تو آئی سی سی کے اراکین کو فیوچر ٹورز پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے نیوٹرل مقامات پر کھیل کر پی سی بی کی مدد جاری رکھنی چاہیے

اگر سیکورٹی کے مسائل پیدا نہ ہونے کا یقین ہو تو آئی سی سی اراکین کو ایف ٹی پی کے مطابق پاکستان کے دورے پر غور کرنا چاہیے

پی سی بی کو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے امکانات نہ ہونے کے باعث متحدہ عرب امارات میں ہوم میچز سے فائدہ اٹھانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے

سلیکشن کمیٹی

سلیکشن کمیٹی کی تشکیل مستحکم بنیادوں پر ہونی چاہیے

سلیکشن کمیٹی کو مکمل طور پر خود مختاری دی جانی چاہیے اور وہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے تمام معاملات کی واحد ذمہ دار ہو۔ اور ان کے معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کی اجازت نہ ہو

سلیکشن کمیٹی کے لیے چیئرمین سمیت امیدواروں کی نامزدگی و تقرری کا ایک واضح عمل موجود ہو

سلیکٹرز کی تقرری گورننگ بورڈ کی منظوری سے ہونی چاہیے جو ضرورت پڑنے پر سلیکٹرز کو ہٹانے کے اختیار کا بھی حامل ہو

سلیکشن کمیٹی کے اراکین کے انتخاب کے لیے ایک واضح معیار موجود ہو جس میں گزشتہ فرسٹ کلاس اور ترجیحاً بین الاقوامی تجربہ کی شرط بھی شامل ہو

کھلاڑیوں کے انتخاب کو ویٹو کرنےکا چیئرمین کا اختیار ختم کر دینا چاہیے

سلیکشن کمیٹی کو کپتان کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرنی چاہئیں۔ ان کی سفارشات پر غور اور منظوری گورننگ بورڈ کرے گا

ٹیم کے انتخاب سے قبل سلیکشن کمیٹی کو کوچ اور کپتان کے ساتھ باضابطہ رابطہ کرنا چاہیے

ٹیم انتظامیہ

ٹیم کے مینیجر اور کوچ کی تقرری گورننگ بورڈ کی جانب سے ہونی چاہیے

ٹیم مینیجر کا تقرر کل وقتی بنیاد پر اور کم از کم 2 سال کے لیے ہونا چاہیے

ٹیم مینیجر کو دستے کا نظم و ضبط برقرار رکھنے میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے

ٹیم کے عملے کے دیگر اراکین تقرر چیف آپریٹنگ آفیسر ٹیم مینیجر اور ٹیم کوچ کی مشاورت سے کرنا چاہیے

ٹیم انتظامیہ کے اراکین کی ذمہ داریوں کا واضح تعین ہونا چاہیے اور ان کی ذمہ داریاں دستاویزی شکل میں موجود ہوں

مرکزی معاہدہ

مرکزی معاہدے کے حامل کھلاڑیوں کی تعداد کو کم کیا جانا چاہیے (25 تک جبکہ 10 وظیفہ شدہ)

انتظامی معاملات

کھلاڑیوں کو پی سی بی کو درپیش مالیاتی مسائل سے آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے اور یہ پی سی بی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستقل بنیادوں پر کھلاڑیوں کو اس سے آگاہ رکھے
معاہدے کے لیے مذاکرات میں کھلاڑیوں کو مدد/نمائندگی کا موقع دیا جانا چاہیے

پی سی بی کو فرسٹ کلاس سطح پر اپنے مقامی ڈھانچے کا معائنہ کرنا چاہیے۔ اس معائنے میں فرسٹ کلاس ٹیموں کی تعداد اور پنٹاگولر کپ کی ضرورت پر خصوصی توجہ ہو

مقامی کرکٹ

پی سی بی کو طویل اور مختصر طرز کی ڈویژنل کرکٹ میں بین الاقوامی معیار کی گیندیں استعمال کرنی چاہئیں

آئین

پاکستان کرکٹ بورڈ اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل اس وقت آئین پر نظر ثانی کے مشاورتی عمل میں شامل ہیں۔ یہ عمل اگلے چند ماہ تک جاری رہے گا جس کے ذریعے پی سی بی کے آئین میں یہ تبدیلیاں لائی جائیں گی:

اس امر کو یقینی بنانا کہ حکومت پی سی بی کے معاملات میں بلاوجہ مداخلت نہ کر سکے جس میں اس کے آپریشنل معاملات، ٹیم اور انتظامیہ کا انتخاب ، اور کوچز اور دیگر اہلکاروں کی تقرری ہے

چیف ایگزیکٹو کا عہدہ تخلیق کر کے چیئرمین کے مطلق اختیارات کو کم کیا جائے گا، چیف ایگزیکٹو کا تقرر گورننگ بورڈ کی جانب سے کیا جائے گا

پی سی بی کو اپنی طویل المیعاد حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے

چیئرمین/سی ای او

بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ قائدانہ ہونا چاہیے جس کے بعد مکمل اختیارات نہ ہوں

چیف آپریٹنگ آفیسر کی جگہ پر چیف ایگزیکٹو آفیسر کا نیا عہدہ مناسب اختیارات اور مناسب فرد کے ذریعے تخلیق کیا جانا چاہیے

میڈیا/صحافی

پی سی بی کو اپنے میڈیا اینڈ کمیونی کیشن کے شعبے کے لیے ایک تجربہ کار اور موثر فرد کا تقرر کرنا چاہیے جو پی سی بی کی سینئر انتظامیہ کا کلیدی رکن بھی ہو

میڈیا اینڈ کمیونی کیشنز شعبے کا سربراہ پی سی بی کی ساکھ کو بہتر بنانے اور پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کے فروغ کے لیے حکمت عملی مرتب دے

ایک جامع، مستقل اور تجارتی پیمانے پر تیار کی گئی ویب سائٹ کے ذریعے شفافیت کے عمل کو بہتر بنانا چاہیے

پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں ہر سیریز اور آئی سی سی ایونٹ میں ایک میڈیا مینیجر شامل ہونا چاہیے۔ یہ کام غیر ملکی دوروں پر صحافیوں کو اپنے خرچے پر لے جانے کے عمل کے (مکمل یا جزوی) خاتمے سے ہونے والی بچت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے

کسی بھی دورے پر میڈیا مینیجر کو ٹیم انتظامیہ کا ایک قابل بھروسہ حصہ ہونا چاہیے جو فیصلوں پر مشاورت بھی دے سکے اور اثر انداز بھی ہو سکے تاکہ وہ ذرائع ابلاغ کے سامنے موثر انداز میں بات کر سکے

تمام اجلاسوں اور سلیکشن پینل کے مذاکرات کو میڈیا کانفرنس کے ذریعے مشتہر کیا جانا چاہیے تاکہ ذرائع ابلاغ اپنے سوالات کے جواب پا سکے۔ ایک خبری اعلامیہ، جس میں میڈیا کانفرنس کرنے والے فرد کی گفتگو کے اہم حصے شامل ہو، تقسیم کیا جانا چاہیے جبکہ میڈیا کانفرنس کے آڈیو اور وڈیو کلپ بھی ویب سائٹ پر پیش کیے جانے چاہئیں تاکہ کوئی بھی بات سیاق و سباق سے ہٹ کر نہ پیش کی جا سکے یا نہ ہی غلط بیانی پھیلائی جاسکے

تمام میڈیا ریلیزز اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہونی چاہئیں۔

مکمل رپورٹ

آئی سی سی کی پاکستان ٹاسک فورس کی سفارشات کی مکمل دستاویز یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں۔

Facebook Comments