شاہد آفریدی میرے ہوتے ہوئے دوبارہ کپتان نہیں بن سکتے؛ اعجاز بٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ شاہد آفریدی اب دوبارہ پاکستان کے کپتان نہیں بنائے جا سکتے کم از کم ان کے ہوتے ہوئے تو کبھی نہیں۔

اعجاز بٹ کا تازہ انٹرویو شاہد آفریدی کے ساتھ تنازع کی شدت کا عکاس ہے

پاکستان کے معروف کھیلوں کے ٹی وی چینل جیو سوپر کو انٹرویو دیتے ہوئے اعجاز بٹ نے کہا کہ شاہد آفریدی قیادت کے لیے اہل ہی نہیں تھے، اور ان کے معاملے میں مجھ پر بہت زیادہ سیاسی دباؤ ڈالا گیا حتیٰ کہ اس وقت کے گورنر سندھ عشرت العباد خان اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف تک نے ان کو فون کر کے شاہد آفریدی کا معاملہ جلد حل کرنے کی سفارش کی۔ تاہم بقول اعجاز بٹ کے کہ انہوں نے سب پر واضح کر دیا کہ یہ سیاسی معاملہ نہیں ہے اور وہ سیاسی شخصیات کے دباؤ میں آکر نظم و ضبط کی قربانی ہر گز نہیں دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اُن پر اِس حد تک سیاسی دباؤ ڈالا گیا کہ شاہد آفریدی کے معاملے کی سماعت کے لیے جو انضباطی کمیٹی تشکیل دی گئی، گورنر سندھ نے فون کر کے اس کے تمام اراکین کو ناقابل قبول قرار دیا کہ مجھ سے کہا کہ انضباطی کمیٹی کے اراکین تبدیل کیے جائیں تو اسی صورت میں شاہد آفریدی کمیٹی کے روبرو پیش ہوں گے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ شاہد آفریدی میں قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت کی اہلیت سرے سے نہیں ہے اس لیے کم از کم وہ میرے ہوتے ہوئے تو دوبارہ قیادت کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میری ذاتی رائے میں شاہد آفریدی کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور قیادت کی نااہلی ہی تھی جس کی وجہ سے ہی پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ ایک روزہ میچز کی سیریز کے آخری دونوں مقابلے ہارا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم مینیجر انتخاب عالم اور کوچ وقار یونس نے بھی شاہد کے رویے کے حوالے سے منفی رپورٹس دی ہیں۔

اعجاز بٹ نے مزید بتایا کہ صرف گورنر سندھ اور سابق وزیر اعظم تک ہی معاملہ نہیں رکا بلکہ 15 سے 20 سیاست دانوں نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں شاہد آفریدی کو کلیئر قرار دینے کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے تمام تر دباؤ برداشت کرتے ہوئے صرف قانونی راہ پر زور دیا۔

واضح رہے کہ دورۂ ویسٹ انڈیز میں ٹیم انتظامیہ اور شاہد آفریدی کے مابین پیدا ہونے والا تنازع پاکستان کی کرکٹ میں مزید بھونچال کا سبب بنا جس کے بعد شاہد آفریدی نے کرکٹ سے مشروط ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ جس کے جواب میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کا کرکٹ کھیلنے کا اجازت نامہ اور مرکزی معاہدہ (سینٹرل کانٹریکٹ) دونوں منسوخ کر دیے، جس کے باعث شاہد آفریدی نہ صرف قومی کرکٹ ٹیم بلکہ دنیا میں کہیں بھی کرکٹ کھیلنے سے نااہل ہو گئے۔

شاہد آفریدی نے معاملے کو عدالت میں گھسیٹ لیا لیکن بعد ازاں فریقین کے تصفیے کے باعث مقدمہ واپس لے لیا گیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاہد پر 45 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے انہیں اجازت نامہ دے دیا جس کے بعد شاہد آفریدی ہمپشائر کاؤنٹی کی نمائندگی کے لیے انگلستان روانہ ہو گئے۔

اعجاز بٹ کے اس تازہ ترین انٹرویو سے فریقین کے مابین تنازع کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے ۔

Facebook Comments