سنسنی خیز مقابلے کے بعد سیریز انگلستان کے نام

انگلستان اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ سیریز کا آخری میچ کئی نشیب و فراز لیتا ہوا ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد بالآخر انگلستان کی 16رنز سے فتح اور سیریز میں 3-2 سے کامیابی پر منتج ہوا یوں سری لنکا دورۂ انگلستان سے مکمل طور پر ناکام و نامراد لوٹا جہاں اس کو ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں سیریز میں شکست ہوئی۔ عالمی کپ 2011ء کا فائنل کھیلنے سری لنکا کے خلاف انگلستان کی یہ فتح اسے ٹیسٹ عالمی نمبر ایک اور ایک روزہ عالمی چیمپئن بھارت کے خلاف اگلی سیریز میں بھرپور اعتماد بخشے گی۔

میچ کا فیصلہ کن لمحہ، ڈرنباخ کے ہاتھوں میتھیوز کی وکٹ کا گرنا

اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں کھیلے گئے میچ نے کئی پینترے بدلے، کبھی یہ انگلستان کی جانب جھکا اور کبھی بالکل سری لنکا کی جانب جاتا دکھائی دیا لیکن آخری لمحات تک کوئی بھی واضح طور پر میچ جیتتا نظر نہیں آ رہا تھا لیکن انگلش سیمرز نے آخری لمحات میں سری لنکا کی وکٹیں ٹھکانے لگا کر انہیں 16 رنز پہلے ہی جا لیا۔ اینجلو میتھیوز نے جیون مینڈس کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ پر 102 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی اور میچ کو سری لنکا کے حق میں لے جانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن جب آخری چار اوورز میں سری لنکا کو فتح کے لیے 36 رنز درکار تھے تو مینڈس (48 رنز) کی وکٹ گرنا اہم موڑ ثابت ہوا جس کے بعد جیمز اینڈرسن کے اگلے اوور میں دو مسلسل گیندوں پر نووان کولاسیکرا (4 رنز) اور سورج رندیو (صفر) کی وکٹیں گر گئیں۔ لیکن اوور کی آخری گیند پر لاستھ مالنگا کے چھکے نے ان دونوں وکٹوں کےگرنے کا کچھ ازالہ کر دیا۔

اب تمام تر نظریں اینجلو پر تھیں جو آخری 12 گیندوں پر 17 رنز کے حصول کے لیے سرگرداں سری لنکا کی آخری امید تھے۔ نوجوان جیڈ ڈرنباخ میدان میں آئے اور انہوں نے پہلی ہی گیند آہستہ پھینکی جس پر میتھیوز ایک اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں ٹم بریسنن کو کیچ تھما بیٹھے۔ اینجلو نے 64 گیندوں پر 62 رنز کی اچھی اننگ کھیلی لیکن ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہ کر سکے۔ اگلی گیند پر ڈرنباخ نے مالنگا کو بولڈ کر کے سری لنکن اننگ کی بساط لپیٹ دی۔

قبل ازیں سری لنکا نے 269 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا ایک مرتبہ پھر نئی گیند پر کھیلتے ہوئے جدوجہد کرتا دکھائی دیا۔ ایک اینڈ سرے ٹم بریسنن نے دو اور دوسرے اینڈ سے جیمز اینڈرسن نے ایک وکٹ حاصل کر کے محض 29 تک سری لنکا کے ابتدائی تین بلے بازوں کو ٹھکانے لگا دیا۔ اس موقع پر کمار سنگاکارا اور دنیش چندیمال نے اننگ کو سنبھالا دیا اور چوتھی وکٹ پر 94 رنز کی شراکت قائم کی۔ لیکن یکے بعد دیگرے دونوں کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے نے سری لنکن جوابی کارروائی کو شدید نقصان پہنچایا۔ سنگاکارا بدقسمتی سے نصف سنچری مکمل نہ کر سکے اور 48 رنز پر آؤٹ ہوئے جبکہ چندیمال نے 54 رنز بنائے۔

اس موقع پر میتھیوز اور مینڈس کی زبردست شراکت نے سری لنکا کے جیتنے کے امکانات پیدا کر دیے لیکن 'قسمت خدا کی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند!'

انگلستان کی جانب سے ٹم بریسنن نے تین اہم وکٹیں حاصل کیں جبکہ جیمز اینڈرسن اور جیڈ ڈرنباخ نے دو، دو وکٹیں حاصل کر کے انگلش فتح پر مہر ثبت کی۔ سمیت پٹیل اور گریم سوان کو ایک، ایک وکٹ ملی۔

قبل ازیں انگلستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا انتخاب کیا اور گزشتہ میچ کے ہیروز کریگ کیزویٹر اور ایلسٹر کک کی 85 رنز کی شراکت کی بدولت ایک مستحکم آغاز کیا۔ دھمیکا پرساد اور سورج رندیو نے اس موقع پر انگلستان کی بلے بازی کو ایک دھچکا پہنچایا اور مختصر کے وقفے میں ان کے تین بلے بازوں کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہوئے لیکن جوناتھن ٹراٹ اور ایون مورگن کے درمیان چوتھی وکٹ پر 118 رنز کی شراکت نے انگلستان کو بہترین پوزیشن پر لا کھڑا کر دیا کہ وہ 300 رنز کی نفسیاتی حد بھی عبور کر جائے لیکن سری لنکن باؤلرز خصوصا سورج رندیو کی شاندار باؤلنگ نے انگلستان کو اس جگہ تک نہیں پہنچنے دیا۔ انگلستان کی 6 وکٹیں محض 55 رنز کا اضافہ کر پائیں اور یوں انگلش باؤلرز کو ایک سخت ہدف ملا کہ وہ 269 رنز کا دفاع کریں۔

انگلستان کی جانب سے جوناتھن ٹراٹ نے 72 جبکہ ایون مورگن نے 57 رنز بنائے جبکہ کیزویٹر 43 بنانے میں کامیاب ہوئے۔

سری لنکا کے سورج رندیو نے 42 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں دھمیکا پرساد کو اور ایک وکٹ تلکارتنے دلشان کو ملی۔

جوناتھن ٹراٹ کو میچ کا بہترین اسکور بنانے پر بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ ایلسٹر کک کو شاندار کپتانی اور بہترین بلے باز پر سیریز کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازا گیا۔

یوں انگلستان نے ایک مرتبہ پھر ہوم گراؤنڈ پر 3-2 سے سیریز اپنے نام کی۔ اپنے گھر میں کھیلی گئی گزشتہ 8 میں سے 6 سیریز انگلستان نے جیتی ہیں جن میں سے 3 ایسی ہیں جن میں فتح کا مارجن محض 3-2 تھا۔

اب انگلستان کی ٹیم عالمی چیمپئن بھارت کے خلاف ہوم سیریز کھیلے گی جس کا آغاز 21 جولائی سے لارڈز کےتاریخی میدان میں پہلے ٹیسٹ میچ سے ہوگا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا دو ہزارواں میچ ہوگا۔

دوسری جانب سری لنکا اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈزکے خلاف میچز کھیلنے کے بعدوطن واپسی کا رخ کرے گا۔

انگلستان بمقابلہ سری لنکا

نیٹ ویسٹ سیریز (پانچواں میچ)

تاریخ: 9 جولائی 2011ء

بمقام: اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر

نتیجہ: انگلستان 16 رنز سے کامیاب

میچ کا بہترین کھلاڑی:جوناتھن ٹراٹ (انگلستان)

انگلستان رنز گیندیں چوکے چھکے
کریگ کیزویٹر  ب پرساد  43 44 5 1
ایلسٹر کک  اسٹمپ سنگاکارا ب رندیو 31 35 3 0
جوناتھن ٹراٹ  ب رندیو  72 87 3 0
کیون پیٹرسن  ک سنگاکارا ب پرساد  5 7 0 0
ایون مورگن  اسٹمپ سنگاکارا ب دلشان  57 60 2 0
این بیل  ک کولاسیکرا ب رندیو  4 8 0 0
سمیت پٹیل  ک میتھیوز ب رندیو  8 14 0 0
ٹم بریسنن ک سنگاکارا ب رندیو  6 15 0 0
گریم سوان رن آؤٹ  5 9 0 0
جیمز اینڈرسن ناٹ آؤٹ  12 17 0 0
جیڈ ڈرنباخ  ناٹ آؤٹ  3  4 0 0
فاضل رنز  (ب 1، ل ب 6، و 15) 22
مجموعہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 268
سری لنکا اوورز میڈن رنز وکٹ
تلکارتنے دلشان  10  0 49 1
نووان کولاسیکرا  8  0  51 0
لاستھ مالنگا  10  0  60 0
دھمیکا پرساد  6  0  26 2
سورج رندیو  10  0  42 5
جیون مینڈس  6  0  33 0
سری لنکا(ہدف 50 اوورز میں 269 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے
دیموتھ کرونارتنے ک ٹراٹ ب بریسنن 4  7 1 0
تلکرتنے دلشان  ک ڈرنباخ ب بریسنن  4  6 0  0
کمار سنگاکارا  ب بریسنن  48  75 3  0
مہیلا جے وردھنے  ک کک ب اینڈرسن  9  15 0  0
دنیش چندیمال  اسٹمپ کیزویٹر ب سوان  54  64 5  2
اینجلو میتھیوز  ک بریسنن ب ڈرنباخ  62  64 6  0
جیون مینڈس  ک پیٹرسن ب پٹیل  48  53 4  0
نووان کولاسیکرا  ک مورگن ب اینڈرسن  4  4 0  0
سورج رندیو  رن آؤٹ  0  0 0  0
لاستھ مالنگا  ب ڈرنباخ  6  2 0  0
دھمیکا پرساد  ناٹ آؤٹ  0  0  0  0
فاضل رنز (ل ب 9، و 4) 13
مجموعہ  48.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 252
انگلستان اوورز میڈن رنز وکٹ
جیمز اینڈرسن 10 0 55 2
ٹم بریسنن 9 0 49 3
جیڈ ڈیرنباخ 9.2 0 49 2
سمیت پٹیل 10 0 49 1
گریم سوان 10 2 41 1

Facebook Comments