فاسٹ ٹریک کوچنگ پروگرام میں وکٹ کیپنگ کی عدم شمولیت بڑی غلطی ہے: سلیم یوسف

پاکستان کے سابق وکٹ کیپر سلیم یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ ٹریک کوچنگ پروگرام میں وکٹ کیپنگ کو شامل نہ کر کے بڑی غلطی کی ہے کیونکہ وکٹ کیپنگ اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کو درپیش اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔

سلیم یوسف پاکستان کے عظیم ترین وکٹ کیپر وسیم باری کے جانشیں تھے

کرک نامہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماضی کے عظیم وکٹ کیپر نے کہا کہ پاکستان کا اوپننگ کے بعد سب سے بڑا مسئلہ وکٹ کیپنگ ہے، جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت تھی لیکن اسے حیران کن طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی سے مستقبل میں پاکستان کو اس شعبے میں بڑے مسائل کا سامنا ہو سکتا ا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں دورہ ویسٹ انڈیز میں بطور وکٹ کیپر محمد سلمان کی کارکردگی اچھی تھی اور انہیں مستقبل میں بھی برقرار رکھنا ٹیم کے مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آف سیزن میں منعقد ہونے والے اس فاسٹ ٹریک کوچنگ پروگرام میں ملک کے بہترین وکٹ کیپروں کو جمع کر کے راشد لطیف یا کسی دوسرے ماہر وکٹ کیپر کی زیر نگرانی کیمپ سے نوجوان وکٹ کیپروں کو حاصل کیا جا سکتا تھا جو مستقبل کے لیے بہت کارآمد ہوتا۔

شاہد آفریدی اور اعجاز بٹ کے معاملے پر سلیم یوسف نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی اور شاہد آفریدی جیسے بڑے کھلاڑی کو تمام معاملات برسرعام نہیں لانے چاہیے تھے بلکہ مل بیٹھ کر انہیں مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ عوام میں لانے سے نقصان صرف قومی کرکٹ کو پہنچا ہے۔

سلیم یوسف نے کہا کہ شاہد آفریدی اچھا کپتان ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہیں اعجاز بٹ کے اس بیان سے بہت حیرت ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شاہد میں قیادت کی صلاحیت موجود نہیں ہے حالانکہ عالمی کپ کے لیے انہوں نے ہی شاہد کو کپتان بنایا تھا۔

سلیم یوسف پاکستان کرکٹ کے بہترین وکٹ کیپرز میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے 1982ء سے 1990ء تک 32 ٹیسٹ اور 86 ایک روزہ بین الاقوامی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ 1987ء کے عالمی کپ کے لیے پاکستانی دستے میں بھی شامل رہے۔ انہیں پاکستان کی تاریخ کے عظیم ترین وکٹ کیپر وسیم باری کے جانشیں کی حیثیت سے بخوبی ذمہ داریاں نبھائیں اور بلے بازی میں بھی اپنے جوہر دکھائے۔

Facebook Comments