وسیم اکرم کا جوابی حملہ، پاکستان کے لیے بلامعاوضہ خدمات پیش کرنے کو تیار ہوں

پاکستان کرکٹ ٹیم سابق کپتان اور مایہ ناز باؤلر وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کے بیان کے بعد پاکستان کے لیے بلامعاوضہ خدمات پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاہم ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھی شاکی نظر آتے ہیں جن کے بارے میں وسیم کا کہنا ہے کہ پی سی بی ان کی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرنا چاہتا۔

وہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے لندن میں معروف برطانوی ادارے اسلامک ریلیف کے تحت ہونے والے پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے۔ اس پروگرام میں سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے عظیم سری لنکن باؤلر مرلی دھرن اور پاکستان کے مایہ ناز موسیقار سلمان احمد کے علاوہ سابق پاکستانی آل راؤنڈر اظہر محمود اور کاؤنٹی کرکٹ کے لیے انگلستان میں موجود پاکستانی کھلاڑیوں سعید اجمل اور وہاب ریاض نے بھی شرکت کی۔

وسیم اکرم آجکل کولکتہ نائٹ رائیڈر کے باؤلنگ کوچ ہیں

رواں ہفتے کے اوائل میں لندن کے رائل گارڈن ہوٹل میں وسیم اکرم کے ساتھ ہونے والے اس عشائیے کا مقصد اقوام متحدہ کے معیار کے مطابق سیلاب اور زلزلے سے محفوظ گھروں کی تعمیر، فراہمی و نکاسی آب کے نظام کی تشکیل، صحت عامہ کے کلینکس کی تعمیر ، اسکولوں کی تعمیر نو، متاثر افراد کے لیے ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاء کی فراہمی اورزرعی بیج، آلات اور مال مویشی فراہم کرنے کے لیے 30 ملین برطانوی پاؤنڈزکے اسلامک ریلیف منصوبے کے لیے رقوم اکٹھی کرنا تھا۔

اسلامک ریلیف پاکستان میں مندرجہ بالا معیارات کے مطابق 60 دیہات بنانا چاہتا ہے جن میں سے 6 دیہات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 15 زیر تعمیر ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے وہ مزید اس طرح کی تقریبات میں شرکت کریں گے کیونکہ اپنے مصیبت زدہ ہم وطنوں کی بحالی ان سمیت تمام افراد پر فرض ہے۔

پاکستان کرکٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ بغیر کسی معاوضے کے قومی کرکٹ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن پی سی بی کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے اور وہ ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل ہی نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے پاکستان میں کرکٹ نظام کی تباہی کا ذمہ دار موجودہ چیئرمین اعجاز بٹ کو قرار دیا اور ان کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

وسیم اکرم کا اعجاز بٹ کے حوالے سے گفتگو کرنا جوابی حملہ لگتا ہے کیونکہ چند روز قبل ہی چیئرمین پی سی بی نے کہا تھا کہ وہ وسیم اکرم کو کوچنگ کی پیشکش کر چکےہیں لیکن وہ پاکستان کے بجائے بھارت میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ ان کی دلچسپیوں کا محور بھارت ہے، وہ تو پاکستان کرکٹ کے ساتھ 15 دن کام کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔

وسیم اکرم کے جوابی بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ اور وسیم اکرم کے درمیان تعلقات کی نوعیت خراب ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ غالباً شاہد آفریدی تنازع پر وسیم اکرم کا بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنانا اور شاہد کو کپتان بنائے جانے کی حمایت کرنا ہے۔

Facebook Comments