عالمی درجہ بندی؛ انگلستان کی نظریں نمبر ایک پوزیشن پر

ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں بھارت کی سرفہرست پوزیشن کو انگلستان سے خطرات لاحق ہے جو سری لنکا کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دینے کے بعد بلند حوصلوں کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

لارڈز کا تاریخی میدان ایک تاریخی ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے

بھارت اور انگلستان کے درمیان 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز 21 جولائی سے لارڈز، لندن کے تاریخی میدان میں ہو رہا ہے۔ بھارت اس وقت عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ہے جبکہ انگلستان کا نمبر تیسرا ہے۔ انگلستان کے پاس عالمی نمبر ایک پوزیشن ہتھیانے کا سنہری موقع ہے۔ اس نے حال ہی میں ایشیز سیریز میں آسٹریلیا کو اس کی سرزمین پر شکست دی اور پھر ہوم گراؤنڈ پر سری لنکا کو زیر کیا ہے۔ اب اگر انگلستان کو پہلی پوزیشن حاصل کرنی ہے تو اسے بھارت کو کم از کم 2-0 سے شکست دینا ہوگی۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق یہ سیریز کئی حوالوں سے یادگار ہے۔ ایک تو بھارت اور انگلستان جیسی ٹیسٹ کی بہترین ٹیموں کا آمنا سامنا ویسے ہی شائقین کے لہو گرما رہا ہے لیکن لارڈز میں کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ تاریخ کا 2 ہزار واں ٹیسٹ میچ ہوگا یوں اسے ایک اہم سنگ میل کی اہمیت حاصل ہوگی۔ علاوہ ازیں یہی ٹیسٹ بھارت-انگلستان کا 100 واں ٹیسٹ میچ ہوگا۔

علاوہ ازیں بھارت کے عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر اس ٹیسٹ میچ میں سنچری بنا کر تمام طرز کی کرکٹ میں سنچریوں کی سنچری مکمل کر سکتے ہیں۔ اور ان کے مداحوں کی تمنا ہوگی کہ سچن اس تاریخی میچ میں یہ سنگ میل عبور کریں۔

اگر انگلستان دو ٹیسٹ میچز کی فتوحات کے مارجن سے بھارت کو زیر کرتا ہے تو وہ پہلی پوزیشن حاصل کر لے گا جبکہ بھارت دوسری اور جنوبی افریقہ تیسری پوزیشن پر چلا جائے گا۔ لیکن اگر انگلستان سیریز 1-0 یا 2-1 کے مارجن سے جیتتا ہے تو اس کے اور بھارت کے پوائنٹس برابر ہو جائیں گے البتہ بھارت کی سرفہرست پوزیشن برقرار رہے گی۔ اگر سیریز ڈرا ہو جاتی ہے یا بھارت جیتتا ہے تو اس کی اول پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے گی اور انگلستان بدستور تیسری پوزیشن پر رہے گا۔

ان سب سے زیادہ ڈرامائی تبدیلی سالانہ اپ ڈیٹ کے نتیجے میں ہوگی۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل سالانہ بنیادوں پر عالمی درجہ بندی کو تازہ تر کرتا ہے جس کا مقصد حالیہ میچز کی بنیاد پر درجہ بندی کو بتر بنانا ہوتا ہے۔ اس کے تحت آسٹریلیا کو عالمی درجہ بندی میں 7 قیمتی پوائنٹس سے محروم ہو جانا پڑے گا۔ البتہ آسٹریلیا عالمی درجہ بندی میں بدستور پانچویں نمبر پر رہے گا۔ اس تنزلی کی وجہ 2007-08ء کے سیزن میں جیتی گئی زبردست فتوحات کا درجہ بندی میں سے نکل جانا ہوگا اور تازہ میچزکے نتائج شامل کرنا ہے۔

پاکستان اس وقت عالمی درجہ بندی میں چھٹی پوزیشن پر ہے اور سالانہ اپ ڈیٹ کے نتیجے میں اسے تین قیمتی پوائنٹس ملیں گے جس کے نتیجے میں اس کے اور آسٹریلیا کے درمیان فرق محض 7 پوائنٹس کا رہ جائے گا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تازہ ترین عالمی درجہ بندی ملاحظہ کرنے کے لیے کرک نامہ کا خصوصی صفحہ دیکھئے۔

Facebook Comments