"پی ٹی ٹی رپورٹ" پی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان نیا تنازع

بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان تعلقات مزید خرابی کی طرف جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کیونکہ پاکستان کی جانب سے آئی سی سی کی مقررہ کردہ پاکستان ٹاسک ٹیم کی سفارشات پر تحفظات کے اظہار کے بعد آئی سی سی نے ٹاسک ٹیم کی رپورٹوں میں خامیوں کے تاثر کو مسترد کر دیا ہے۔

پی ٹی ٹی رپورٹ کے جانبدارانہ ہونے کا تاثر غلط ہے: ہارون لورگاٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ٹی ٹی رپورٹ کو جانبدارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے اپنا تحریری جواب آئی سی سی کو ارسال کیا تھا جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے آئی سی سی کے سالانہ اجلاس سے قبل پی ٹی ٹی رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کو دکھائی گئی تھی ۔ اگر پاکستان کو رپورٹ پر اعتراضات تھے تو اس کو پہلے اعتراض کرنا چاہیے تھا۔

ہارون لورگاٹ نے رپورٹ کے جانبدارانہ ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کا مقصد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی اور پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل بغیر کسی تصادم کے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ٹی کی سفارشات پر عمل کر کے پاکستان ملک میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا سکتا ہے کیونکہ یہ سفارشات ملک میں کرکٹ کی بہتری کے لیے پرخلوص انداز میں مرتب کی گئی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے کہا ہے کہ ٹاسک ٹیم کی سفارشات کی حیثیت حکم نامے کی سی نہیں ہے، ان پر عمل کرنا یا نہ کرنا پاکستان پر منحصر ہے۔

ایک انٹرویو میں اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ ٹاسک ٹیم سفارشات پر پی سی بی کے ردعمل کو مثبت انداز میں لینا چاہیے ۔ ہم ٹیم کی کوششوں کا احترام کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ چند نکات حقیقت بالکل برعکس ہیں۔

اعجاز بٹ نے یہ تک کہہ ڈالا کہ رپورٹ میں کئی معاملات واضح تضادات کا شکار ہیں اور ان میں حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے ہم نے اس پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے درمیان یہ نیا تنازع کیا روپ اختیار کرتا ہے، اس سے قطع نظر واضح امر یہ ہے کہ اس کا نقصان براہ راست پاکستان کرکٹ کو ہوگا۔

Facebook Comments