کنگسٹن ٹیسٹ تنازع؛ ڈیرل ہارپر کی بھارت اور آئی سی سی پر کڑی تنقید

بین الاقوامی کرکٹ کونسل پر بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرات اس وقت دنیائے کرکٹ کا اہم ترین موضوع ہیں اور بھارت کے علاوہ ہر ملک سے اس پر تنقید کی جا رہی ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں کو بھی شاید اپنے ملک کی اس برتری کا احساس ہو گیا ہے اور اس کا ہلکا سا اظہار بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان حالیہ سیریز میں ہوا جہاں بھارتی کھلاڑیوں کے ناقص رویے سے نالاں ہو کر معروف بین الاقوامی امپائر ڈیرل ہارپر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا اور دونوں ٹیموں کے درمیان اگلے میچ میں فرائض انجام دینے سے انکار کر دیا۔

بھارت کے کپتان سے تنازع ڈیرل ہارپر کو مہنگا پڑ گیا

کنگسٹن، جمیکا میں کھیلے گئے بھارت-ویسٹ انڈیز ٹیسٹ کے بعد احتجاجاً ریٹائرمنٹ لینے والے امپائر ڈیرل ہارپر نے ایک حالیہ انٹرویو میں بھارتی کرکٹرز کے رویے اور آئی سی سی کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ان کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اور ان کے قبل از وقت امپائرنگ سے ریٹائر ہونے کا اہم ترین سبب یہی رویہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسا کہ بھارتی ٹیم نے مجھے ہدف پر رکھا ہوا ہے اور وہ اب ریٹائرمنٹ کے بعد اس پر روشنی ڈال رہے ہیں کیونکہ آئی سی سی میں رہتے ہوئے وہ بول نہیں سکتے تھے۔ اس وقت آئی سی سی واضح طور پر بھارت کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے۔

ڈومینکا میں اپنے کیریئر کے 96 ویں اور آخری ٹیسٹ سے قبل ہی ریٹائرمنٹ لینے والے ہارپر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ واقعہ کنگسٹن میں پروین کمار کو بار بار پچ کے درمیان دوڑنے پر باؤلنگ سے ہٹانے پر پیش کیا۔ ہارپر نے دعوی کیا کہ اس واقعے کے بعد دھونی ان کے قریب آئے اور کہا کہ "ڈیرل، ہمارے ساتھ تمہارے پہلے بھی مسائل رہے ہیں،" جسے انہوں نے ایک طرح کی دھمکی قرار دیا۔

دھونی کا ردعمل کنگسٹن ٹیسٹ میں امپائرنگ کی متعدد غلطیوں کے بعد پریس کانفرنس میں منظرعام پر آیا کہ "اگر درست فیصلے کیے جاتے تو میچ کہیں پہلے ختم ہو جاتا اور میں اس وقت ہوٹل میں ہوتا۔" دھونی کے اس ردعمل نے کئی ماہرین کرکٹ کے کان کھڑے کر دیے اور آئی سی سی کے جنرل مینیجر برائے کرکٹ ڈیوڈ رچرڈسن نے بھی دھونی کی تنقید کو بے جا قرار دیا، لیکن نہ انہون نے اور نہ ہی میچ ریفری جیف کرو نے بھارتی کپتان کو طلب کیا حالانکہ وہ واضح طور پر آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھیرے تھے۔

ڈیرل ہارپر نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں وہ نامناسب تبصروں کے مرتکب ٹھیرے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پورے میچ میں صرف ایک فیصلہ نظر ثانی کے نظام کے باعث واپس لیا گیا اور میں نے کل ہی پڑھا ہے کہ اس میچ میں میں نے 9 غلطیاں کی تھیں، اس لیے میں نے سوچا کہ کسی کو بولنا پڑے گا کیونکہ بدقسمتی سے آئی سی سی نے نہ بولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ہارپر نے کہا کہ پروین کمار نے کئی مرتبہ پچ کے ممنوعہ مقام میں داخل ہونے کی حرکت کی اور ٹی وی نے اس کو ظاہر بھی کیا کہ وہ کتنی مرتبہ اس کے مرتکب ہوئے۔ اس کے علاوہ میرے ساتھی این گولڈ سے اپیل کرتے ہوئے ابھینو مکنڈ امپائر کی طرف نصف سے زیادہ پچ پر چلتے ہوئے آئے۔ میرے توجہ دلانا بھارتی کپتان کو پسند نہ آیا۔

ڈیرل ہارپر نے بھارتی کھلاڑیوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے خود پر ڈالے جانے والے دباؤ پر آئی سی سی کی جانب سے مدد نہ دینے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کنگسٹن میچ کے بعد تین کھلاڑیوں کو ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھیرایا گیا جن میں سے دو ڈیرن سیمی اور روی رامپال ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی تھے جو بعد ازاں امپائرز کے کمرے میں آئے اور اپنے رویے پر معذرت بھی طلب کی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں بھارتی کھلاڑی امیت مشرا کا رویہ دیکھئے کہ وہ میچ کے چوتھے روز بھی اس ضد پر اڑے ہوئے تھے کہ وہ امپائر کے غلط فیصلے کا شکار ہوئے۔ میرے لیے یہ رویہ بہت افسوسناک اور کرکٹ کی روح کے خلاف ہے۔

اس کے علاوہ ڈیرل ہارپر نے امپائرز کے فیصلوں پر نظرثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کو موجودہ حالت میں امپائرز کے لیے غیر موزوں قرار دیا۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز بھارت سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایسے کیمرے نصب کیے گئے تھے جو 25 فریمز فی سیکنڈ کی ریکارڈنگ کرتے تھے نتیجتاً اس امر کا امکان بہت زیادہ تھا کہ ری پلے میں فیصلہ کن مقام کی ریکارڈنگ نہ ہو سکے۔ عالمی کپ 2011ء میں 50 فریمز فی سیکنڈ کے حامل تھے۔ ٹیکنالوجی کا یہی مسئلہ امپائرز کے لیے مصیبت کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپر سلو مو کی طرز کے 1800 فریمز فی سیکنڈ کی ریکارڈنگ ہو تو آپ بال کے ٹکرانے سے دستانے کے ہلنے کو بھی دیکھ سکیں گے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیرل ہارپر نے اپنے کیریئر میں 95 ٹیسٹ اور 174 ایک روزہ بین الاقوامی میچز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔

Facebook Comments