ابتدائی اطلاعات رد، سری لنکا ڈی آر ایس استعمال کرے گا

سری لنکا کرکٹ نے حیران کن طور پر ابتدائی اطلاعات کو رد کرتے ہوئے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں امپائرز کے فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کے استعمال کا اعلان کر دیا ہے۔ سری لنکا کرکٹ نے ایک روز قبل ہی اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے مالی مسائل کے باعث آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں ڈی آر ایس استعمال نہیں کرے گا، جس کا ایک دن کا تخمینہ اندازاً 5 ہزار ڈالرز ہے لیکن محض ایک روز بعد 'یو ٹرن' لے لیا ہے جس کا اہم سبب آسٹریلیا کا دباؤ لگتا ہے جو ڈی آر ایس کا بہت بڑا حامی ہے۔

ڈی آر ایس کے اخراجات سری لنکا جیسے چھوٹے ملکوں کے لیے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں

سری لنکا کرکٹ کی عبوری کمیٹی کے چیئرمین اُپالی دھرماسینا نے ہفتہ کے روز معروف ویب سائٹ کرک انفو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہانگ کانگ می‍ں آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں اس فیصلے کے بعد کہ ڈی آر ایس اب تمام ٹیسٹ اور ایک روزہ مقابلوں میں استعمال ہوگا، یہ سری لنکا کے لیے ترجیح رہا ہے۔

آئی سی سی نے تمام اراکین کی رضامندی سے ایک نظر ثانی شدہ نظام متعارف کروایا جس میں بال ٹریکنگ ٹیکنالوجی لازمی نہیں ہے جو ایل بی ڈبلیو کے درست فیصلوں کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ آئی سی سی کے فیصلے کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ سری لنکا کرکٹ کے بارے میں یہ اطلاعات منظرعام پر آئیں کہ وہ اپنے مالی مسائل کی وجہ سے ڈی آر ایس کو استعمال نہیں کرے گا جس سے اسے ڈیڑھ لاکھ ڈالرز کی بچت متوقع ہے۔

دھرماسینا نے کہا کہ بال ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہم نے آئی سی سی کو خط بھیجا ہے اور اس کا حتمی فیصلہ بدھ کو ایس ایل سی کے اجلاس میں ہوگا۔

سری لنکا کرکٹ اس وقت بدترین مالی بحران سے دوچار ہے کیونکہ 2011ء عالمی کپ کے لیے اسٹیڈیمز کی تعمیر کے بعد اس کے خزانے خالی ہیں۔ گزشتہ ماہ ایس ایل سی نے دورے کے لیے اپنا میزانیہ (بجٹ) 300 سے گھٹا کر صرف 100 ملین ڈالرز کر دیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات یہ تھیں کہ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے سری لنکا سیریز میں ڈی آر ایس استعمال نہیں کرے گا لیکن بعد ازاں سری لنکا کرکٹ نے ان اطلاعات اور گزشتہ بیانات کو رد کرتے ہوئے اس کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔

سری لنکا اور آسٹریلیا کے مابین طویل سیریز تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلوں پر مشتمل ہے۔

Facebook Comments