سہواگ کی عدم موجودگی بھارت کے لیے سب سے بڑا نقصان ہوگی؛ جان ایمبرے

انگلستان اور بھارت کے درمیان سیریز اب کرکٹ کے ہر ماہر کے ذہن میں اپنا گھر کر چکی ہے۔ 21 جولائی کو لارڈز کے تاریخی میدان میں پہلے ٹیسٹ سے سیریز سے شروع ہونے والا یہ معرکہ 4 ٹیسٹ میچز اور اس کے بعد محدود اوورز کے سلسلے تک شائقین و ماہرین کرکٹ کو اپنے سحر میں جکڑے رکھے گا۔

جان ایمبرے کرکٹ کی تاریخ کے عظیم اسپنرز میں شمار ہوتے ہیں

اتنی بڑی سیریز سے قبل صورتحال "جتنے منہ اتنی باتیں" والی ہے اور لفظی جنگ میں اب انگلستان کے عظیم آف آسپنر جان ایمبرے بھی کود چکے ہیں جنہوں نے میزبان کو خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ٹیم اس معیار و تجربے کی حامل ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال میں ہوتے ہوئے جوابی حملہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے سمرسیٹ کے خلاف ناقص کارکردگی پر انگلستان کو مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔

بھارت کے معروف اخبار ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمبرے نے کہا کہ پریکٹس میچ میں بھارت کی مشکل حالت کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ وہ دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم ہے اور انگلستان میں کھیلنے کا تجربہ و معلومات رکھتی ہے۔ وہ کسی بھی حریف ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت کی حامل ہے۔

مذکورہ پریکٹس میچ کوغور سے دیکھنے والے جان ایمبرے کا کہنا ہے کہ صرف ہوم گراؤنڈ انگلستان کا واحد اثاثہ نہیں ہوگا، بلکہ سیریز میں سب سے بڑا فائدہ جو انگلستان کے حق میں ہوگا وہ بھارت کے شعلہ فشاں بلے باز وریندر سہواگ کی پہلے دو ٹیسٹ میچز میں عدم موجودگی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ "وریندر سہواگ کی عدم موجودگی بھارت کے لیے بہت بڑا نقصان جبکہ انگلستان کے لیے سکھ کا سانس ہوگی۔ وہ شائقین کے بہت پسندیدہ کھلاڑی ہیں اور لارڈز کے میدان میں ان کی عدم موجودگی شائقین کو ایک شاندار کھیل سے محروم کر دے گی۔ گو کہ سچن ٹنڈولکر کے کیریئر کی 100 ویں سنچری جیسا موقع بھی میسر آ سکتا ہے لیکن سہواگ کی بات ہی اور ہے۔

انگلستان کے سابق آف اسپنر نے گریم سوان کو ہربھجن سنگھ کے مقابلے میں زیادہ کارآمد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انگلش آف اسپنر نے گزشتہ دو سال میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ اس وقت بھی اپنے بھارتی ہم منصب سے کہیں زیادہ اٹیکنگ باؤلر ہیں جبکہ ہربھجن گو کہ انگلستان میں اچھا ریکارڈ نہیں رکھتے تاہم وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیریز کے نتیجے کا انحصار دونوں ٹیموں کے قائدین اینڈریو اسٹراس اور مہندر سنگھ دھونی پر ہوگا۔ دونوں ٹیمیں صلاحیتوں کے لحاظ سے برابر ہیں اور میرے خیال میں چاروں ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوں گے الا یہ کہ اسٹراس یا دھونی کچھ خاص کر دکھائیں۔ اسٹراس کو زیادہ اعتماد اور بڑی سیریز سے قبل ذہنی پریشانی سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

ایمبرے نے بھارت کے ظہیر خان اور ایشانت شرما کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انگلش بلے بازوں کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔

بھارت اور انگلستان کے درمیان تاریخی سیریز کا آغاز 21 جولائی کو لارڈز میں ہو رہا ہے۔ اس سیریز کی ابتداء ہی کئی تاریخی لمحات سے ہو رہی ہے۔ لارڈز کا میچ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا 2 ہزار واں اور بھارت انگلستان کا 100 واں مقابلہ بھی ہوگا ۔

Facebook Comments