آئی سی سی عظیم ترین ٹیسٹ الیون پر سابق کھلاڑیوں کی شدید تنقید

گو کہ 2 ہزار ویں ٹیسٹ کے جشن کے سلسلے میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے شائقین سے مطالبہ تھا کہ وہ تاریخ کی عظیم ترین ٹیسٹ الیون کا انتخاب کریں، لیکن عوام کے منتخب کردہ کے نام سامنے آتے ہی ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے اور وہ ہے حتمی الیون میں جگہ نہ پانے والے کرکٹ کے عظیم ترین ناموں کا.

تاریخ کی عظیم ترین ٹیسٹ ٹیم میں ماضی کے کئی مایہ ناز کھلاڑی جگہ نہیں بنا پائے جن میں ویسٹ انڈیز کے ویوین رچرڈز، گیری سوبرز، مائیکل ہولڈنگ اور میلکم مارشل، پاکستان کے عمران خان، آسٹریلیا کے ڈینس للی اور سری لنکا کے مرلی دھرن شامل ہیں.

زیادہ تر ووٹ دینے والے موجودہ نسل سے تعلق رکھتے ہیں؛ سابق انگلستانی قائد ایلک اسٹیورٹ

دنیا بھر کے ماہرین نے ویب سائٹ کے ذریعے کرائے گئے پول کی ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں اور چند سابق کرکٹرز نے تو آئی سی سی کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے. ان ناقدین میں انگلستان کے سابق کپتان ایلک اسٹیورٹ اور معروف کمنٹیٹر جیفری بائیکاٹ بھی شامل ہیں. جو خود بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہیں حتمی الیون میں جگہ نہیں ملی.

جیفری بائیکاٹ، جو انگلستان کے سابق کپتان رہ چکے ہیں، نے آئی سی سی کی بہترین ٹیسٹ ٹیم کو بنیادی نقص کی حامل اور ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کی حیثیت گھٹانے کا سبب قرار دیا. انہوں نے کہا کہ اس فہرست کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے مذاق کیا جا رہا ہے، یہ بہت یکطرفہ فہرست ہے اور اس کی کوئی ساکھ ہی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فہرست میں کھیل کی تاریخ اور ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کا کوئی حوالہ ہی موجود نہیں اور یہ ان عظیم ناموں اور ان کے ریکارڈز اور کامیابیوں کی توہین ہے.

برطانیہ کے روزنامہ ٹیلی گراف میں لکھے گئے کالم میں انہوں نے دعوی کیا کہ میں شرط لگانے کو تیار ہوں کہ ڈالے گئے ووٹوں میں سے اکثریت برصغیر سے ڈالی گئی ہے. نیفری بائیکاٹ نے کہا کہ ویب سائٹ پر بیشتر ووٹ برصغیر سے ڈالے گئے جس کی وجہ سے بھارت کے چار کھلاڑی فہرست میں جگہ پانے میں کامیاب ہوئے اس کی وجہ ووٹ ڈالنے کے لیے نہ ماضی کے کھلاڑیوں کے بارے میں جاننے کی کوئی اہلیت درکار تھی اور نہ سمجھ.

واضح رہے کہ فہرست میں صرف ڈان بریڈمین ایسے کھلاڑی ہیں 1970ء سے قبل کرکٹ کھیلنے والوں سے تعلق رکھتے ہیں. عظیم ٹیسٹ الیون میں شامل باقی تمام کھلاڑیوں نے 1970ء کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کھیلی. 11 کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے 25 لاکھ سے زائد افراد نے ووٹ ڈالے. فہرست میں شامل 11 میں پانچ کھلاڑیوں کا تعلق برصغیر سے ہے جن میں سچن ٹنڈولکر، سنیل گواسکر، وریندر سہواگ، کپل دیو اور وسیم اکرم شامل ہیں۔

بائیکاٹ نے کہا کہ ڈان بریڈمین کے علاوہ تمام کھلاڑی کرکٹرز کی موجودہ نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں لوگوں نے براہ راست کرکٹ کھیلتے دیکھا ہے. آپ کے ریکارڈ کو صرف اس لیے نہیں بھلایا جانا چاہیے کیونکہ آپ مر چکے ہیں یا آپ کو براہ راست ٹیلی وژن پر نہیں دیکھا گیا. جارج ہیڈلے، میلکم مارشل، جیک ہوبس اور ڈینس للی جیسے کھلاڑیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حتمی الیون رائے دہندگان کی لاعلمی کو ظاہر کرتی ہے. انہوں نے سوال کیا کہ مجھے بتائيے کہ کون میلکم مارشل اور ڈینس للی کو اپنی ٹیم میں نہیں رکھے گا؟

ان سے پہلے ایلک اسٹیورٹ بھی آئی سی سی کی تاریخ کی عظیم ترین ٹیسٹ ٹیم کو مذاق قرار دے چکے ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اسٹیورٹ نے کہا کہ انتخاب سے واضح اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر ووٹ دینے والے موجودہ نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا اور ان کے بارے میں نہیں جانتے۔

حیرتناک بات یہ بھی ہے کہ تاریخ کے بہترین باؤلنگ اٹیک – مائیکل ہولڈنگ، میلکم مارشل، جوئیل گارنر اور کولن کرافٹ – میں سے کوئی بھی حتمی الیون میں جگہ نہیں پا سکا جبکہ دیگر کئی ماہرین و سابق کھلاڑیوں کی جانب سے تاریخ کے سب سے بہترین کھلاڑی سمجھے جانے والے ویوین رچرڈز بھی حتمی فہرست میں شامل نہیں۔

Facebook Comments