عمران طاہر، جنوبی افریقہ کا پاکستانی کھلاڑی

پاکستان نژاد لیگ اسپنر عمران طاہر جو اب جنوبی افریقہ کی نمائندگی کریں گے۔ (© گیلن امیجز)

پاکستانی نژاد لیگ اسپنر عمران طاہر کو ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد بالآخر جنوبی افریقہ کی شہریت مل گئی ہے۔ اب وہ کرکٹ کے میدانوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرسکیں گے۔

27 مارچ 1979ء کو پنجاب کے شہر لاہور میں پیدا ہونے والے عمران طاہر نے اپنے کیریئر کا آغاز 1996/97ء میں کیا۔ بعد ازاں انہیں پاکستان کی انڈر 19 اور پھر 2004/05ء میں پاکستان اے کی جانب سے کھیلنے کا موقع ملا۔ انہوں نے لاہور کے علاوہ ہمپشائر، یارکشائر اور مڈل سیکس کی طرف سے بھی کاؤنٹی کرکٹ کھیلیں۔

عمران طاہر کی جنوبی افریقہ سے وابستگی کی داستان بہت دلچسپ ہے۔ جنوری 1998ء میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈکپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں جنوبی افریقہ جانے کا موقع ملا۔ وہاں ان کی ملاقات سمیہ دلدار نامی نوجوان خاتون سے ہوئی جس نے کچھ ہی عرصہ میں محبت کا روپ دھار لیا۔ عمران طاہر ورلڈکپ کے بعد واپس پاکستان تو آگئے لیکن ان کا دل جنوبی افریقہ ہی میں رہ گیا۔ 8 سال بعد 2006ء میں انہیں اپنے دوست کے توسط سے ایک بار پھر جنوبی افریقہ جانے کا موقع ملا وہاں انہوں نے سمیعہ دلدار سے شادی کی اور پھر ایک مقامی کرکٹ کلب ٹائٹنز کی جانب سے کرکٹ کھیلنے کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے مستقل طور پر جنوبی افریقہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے ابھی انہیں مزید انتظار کرنا تھا۔

عمران طاہر نے جنوبی افریقہ میں اولاً نیشوا ٹائٹنز میں شمولیت اختیار کی لیکن کچھ ہی عرصہ بعد انہیں نیشوا ڈولفنز کی جانب سے کھیلنے کی پیش کش ہوئی جو انہوں نے قبول کرلی۔ اور اس طرح انہیں ڈولفنز کی جانب سے بھی جنوبی افریقہ کی مقامی کرکٹ سیزن میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ عمران طاہر کا شمار اس وقت جنوبی افریقہ کی فرسٹ کلاس کرکٹ کے سب سے بہترین اور مایہ ناز اسپنرز میں کیا جارہا ہے۔ 2007/08ء میں عمران نے اپنا پہلا سیزن کھیلتے ہوئے صرف 6 میچز میں 23.80 کی اوسط سے 31 وکٹیں حاصل کیں اور سیزن کے سب سے کامیاب بالر قرار پائے۔ دوسرے سیزن میں بھی انہوں نے 8 فرسٹ کلاس میچز میں 32 وکٹیں حاصل کیں۔ مجموعی طور پر انہوں نے کیریئر میں 127 میچز میں صرف 25.4 رنز کی اوسط سے 535 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

عمران طاہر کو جنوری 2010ء میں جنوبی افریقہ کے ہوم گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف کھیلی جانے والی سیریز کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ لیکن آخری لمحات میں چند قانونی پیچیدگیوں کے باعث وہ ٹیم کا حصہ نہ بن سکے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بھی انہیں جنوبی افریقہ کی نمائندگی سے قبل پاکستان اے کی طرف سے کھیلنے کے بعد چار سال کا وقفہ کا درکار تھا۔ جو دسمبر 2010ء میں مکمل ہوچکا ہے۔

عمران طاہر پاکستان، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی مختلف کاؤنٹیز اور مقامی کرکٹ کھیل کر ایک منجھے ہوئے مستند کھلاڑی بن چکے ہیں۔ وہ لیگ اسپن بالنگ میں گوگلی، فلپر سمیت لیگ بریک بالنگ کے تمام گر جان چکے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جنوبی افریقی ٹیم میں ورلڈ کلاس اسپنر کی کمی بہت شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔ اور اب عمران طاہر کی صورت میں جنوبی افریقہ کو ایک ایسا اسپنر میسر آگیا ہے جس مستقبل میں ٹیم کے لیے فاتح کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ انہیں جنوبی افریقہ کے دورے پر آئی ہوئی بھارتی ٹیم کے خلاف ہونے والی ایک روزہ سیریز میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنے کا موقع مل سکے گا۔ اچھی کارکردگی کی صورت میں انہیں ورلڈ کپ 2011ء میں جنوبی افریقہ کی جانب سے کھیلنے کا موقع میسر آسکے گا۔

Article Tags

Facebook Comments