نارمن گورڈن ، 100 سال کی عمر پانے والے پہلے کرکٹر

3 مارچ 1939ء کو کنگزمیڈ، ڈربن میں جنوبی افریقہ اور انگلستان کے درمیان کرکٹ کی تاریخ کا واحد ٹائم لیس ٹیسٹ کھیلا گیا تھا جو 10 دن جاری رہنے کے باوجود کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ختم ہوا۔ اس میچ میں حصہ لینے والے تمام کھلاڑی دار فانی سے کوچ کر چکے ہیں سوائے جنوبی افریقہ کے تیز گیند باز نارمن گورڈن کے، جو 100 سال کی عمر پانے والے دنیائے کرکٹ کے پہلے کھلاڑی بن چکے ہیں۔

نارمن گورڈن واحد ٹائم لیس ٹیسٹ کی بچنے والی آخری نشانی ہیں

نارمن گورڈن واحد ٹائم لیس ٹیسٹ کی بچنے والی آخری نشانی ہیں

6ا اگست 1911ء کو جنوبی افریقی ریاست ٹرانسوال میں پیدا ہونے والے مضبوط جسم اور بھرپور فٹنس کے حامل نارمن گورڈن نے اِس ٹائم لیس ٹیسٹ میں 92.2 اوورز پھینکے تھے، وہ بھی اس وقت جب ایک اوور 8 گیندوں کا ہوا کرتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے عالمی جنگ عظیم دوئم کے باعث اس کھلاڑی کا کیریئر محض 5 ٹیسٹ مقابلوں تک ہی محدود رہا۔

نارمن جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں مقیم ہیں جہاں ان کی 100 ویں سالگرہ کا جشن منایا گیا۔ جس میں گورڈن کے ابتدائی تعلیمی ادارے جیپ ہائی اسکول برائے طلبہ نے خصوصی شرکت کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

100 سال کی عمر کو پہنچنے والے نارمن کے حالیہ ایام بڑی مشکل میں کٹے ہیں کیونکہ وہ اپریل کے مہینے میں گر گئے تھے جس سے ان کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ان کے صاحبزادے برائن کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ محض 4 ماہ میں انہوں نے عمر کے مزید 3 سال پھلانگ لیے ہیں۔ وہ بہت سست ہو گئے ہیں۔

واحد ٹائم لیس ٹیسٹ میں نارمن نے 92 اوورز کروائے تھے جو 8 گیندیں فی اوور پر مشتمل تھے۔ یوں وہ آجکل کے 6 گیندوں کے 120 اوورز بنتے ہیں۔ انہوں نے مذکورہ میچ میں 1 ہی وکٹ حاصل کی لیکن 5 میچز کی اس سیریز میں انہیں بحیثیت مجموعی 20 وکٹیں ملیں۔ ٹائم لیس ٹیسٹ نارمن کا آخری مقابلہ ثابت ہوا اور بعد ازاں جنگ عظیم نے ان کے کیریئر کا خاتمہ کر دیا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں انگلستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تاریخ کے 2 ہزار ویں ٹیسٹ کے موقع پر آئی سی سی نے ایک مرتبہ پھر 'ٹائم لیس ٹیسٹ' منعقد کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

Facebook Comments