مرکزی معاہدوں کا اعلان کر دیا گیا؛ آفریدی اور کامران باہر

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بالآخر طویل انتظار کے بعد اگلے چھ ماہ کے لیے کھلاڑیوں کے مرکزی معاہدوں (سینٹرل کانٹریکٹس) کا اعلان کر دیا ہے اور کرک نامہ کی ابتدائی اطلاعات کے عین مطابق اس فہرست میں زیر عتاب کھلاڑیوں شاہد خان آفریدی اور کامران اکمل کا نام شامل نہیں ہے جبکہ حیران کن طور پر عمران فرحت کو زمرہ دوئم میں مرکزی معاہدے سے نوازا گیا ہے۔

مستقل ناکام کارکردگی کے باوجود عمران فرحت کی شمولیت کو ماہرین اقرباء پروری کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں

مستقل ناکام کارکردگی کے باوجود عمران فرحت کی شمولیت کو ماہرین اقرباء پروری کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں

مرکزی معاہدوں کا اعلان کافی تاخیر کے بعد پیر کو لاہور میں ڈائریکٹر گیم ڈیولپمنٹ پاکستان کرکٹ بورڈ انتخاب عالم نے کیا۔ جس کے مطابق زمرہ اول میں 6، زمرہ دوئم میں 8 اور زمرہ سوئم میں 9 کھلاڑیوں کے ساتھ مرکزی معاہدے کیے گئے ہیں۔

کرک نامہ نے 28 جولائی کو اطلاع دے دی تھی کہ اس مرتبہ بھی شعیب ملک کے ساتھ مرکزی معاہدہ نہیں کیا جائے گا جبکہ انہی دنوں تمام ذرائع ابلاغ شعیب ملک کی جانب جھکاؤ کی خبروں سے بھرے پڑےتھے لیکن آج کے اعلان نے کرک نامہ کی اطلاع کو درست ثابت کر دیا جس کے مطابق شعیب ملک کے علاوہ محمد یوسف اور فواد عالم سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ ان کے علاوہ احمد شہزاد کو بھی محروم کیے جانے کی درست خبر اپنے قارئین تک پہنچائی۔

اعلان کردہ فہرست کے مطابق 2009ء-10ء کے بدقسمت دورۂ آسٹریلیا کے بعد انضباطی کارروائی کے باعث ٹیم سے باہر ہونے والے یونس خان ایک مرتبہ پھر درجہ اول میں مرکزی معاہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ان کے ساتھ موجودہ کپتان مصباح الحق، سینئر کھلاڑی محمد حفیظ، اسپنر جوڑی سعید اجمل اور عبد الرحمن اور تیز گیند باز عمر گل کو زمرہ اول میں معاہدے دیے گئے ہیں۔ عمر گل اس فہرست کے واحد رکن ہیں جنہیں زمرہ اول میں برقرار رکھا گیا ہے۔

اس زمرے بلکہ کسی بھی درجے کے مرکزی معاہدے سے محروم ہو جانے والے شاہد آفریدی نے دورۂ ویسٹ انڈیز کے بعد قیادت سے اخراج پر احتجاجاً بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد کرکٹ بورڈ اور اُن کے درمیان شدید تنازع پیدا ہوا جس کے نتیجے میں شاہد آفریدی کا بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا اجازت نامہ اور مرکزی معاہدہ دونوں منسوخ کر دیے گئے اور بالآخر معاملہ شاہد آفریدی کے اجازت نامے کی بحالی پر منتج ہوا اور یوں ایک طرح سے شاہد کا بین الاقوامی کیریئر ختم ہونے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال میں پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ معاملہ جس نہج تک پہنچا ہے شاہد آفریدی کو مرکزی معاہدہ نہیں ملے گا اور آج اس خبر کی بھی تصدیق ہو گئی۔

زمرہ دوئم میں حیران کن طور پر اوپننگ بلے باز عمران فرحت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ کرکٹ ماہرین ان کی کرکٹ ٹیم میں شمولیت اور مرکزی معاہدے سے نوازنے کو اقرباء پروری کی بدترین مثال قراررہے ہیں۔

دوسری جانب زیر عتاب وکٹ کیپر کامران اکمل اپنے دونوں بھائیوں کے مقابلے میں کرکٹ ٹیم میں موجودگی کی جنگ ہار گئے ہیں۔ عمر اکمل زمرہ دوئم اور عدنان اکمل زمرہ سوئم میں معاہدے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ایک اور حیران کن خبر عبد الرزاق کی فہرست میں شمولیت ہے۔ گو کہ انہیں اچھی کارکردگی کے باوجود زمرہ اول سے زمرہ دوئم میں تنزلی کا شکار ہونا پڑا ہے لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق تو ان کا نام مرکزی معاہدہ پانے والے کھلاڑیوں ہی میں شامل نہیں تھا۔ ان کے علاوہ زمرہ دوئم میں شامل کھلاڑیوں میں نوجوان کھلاڑی اسد شفیق، اظہر علی اور وہاب ریاض شامل ہیں۔

آخری زمرے میں نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 6 وکٹیں حاصل کرنے والے تنویر احمد، وکٹ کیپر عدنان اکمل، یاسر شاہ اور فیصل بینک ٹی ٹوئنٹی میں بہترین بلے باز اور گیند باز کا اعزاز حاصل کرنے والے رمیز راجہ اور سہیل خان شامل ہیں۔ تیز گیند باز جنید خان بھی اس فہرست میں شامل ہیں جبکہ ممکنہ طور پر وکٹ کیپر محمد سلمان کی جگہ کراچی کے سرفراز احمد کو اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے جارح مزاج بلے باز شرجیل خان کو بھی زمرہ سوئم کا معاہدہ دیا گیا ہے۔

چھ ماہ کے اس دورانیے کی مدت رواں سال یکم جولائی سے 31 دسمبر تک کے عرصے کے لیے ہوگی۔

زمرہ اول:

سعید اجمل، عبد الرحمن، عمر گل، محمد حفیظ، مصباح الحق اور یونس خان۔

زمرہ دوئم:

اسد شفیق، اظہر علی، توفیق عمر، سہیل تنویر، عبد الرزاق، عمر اکمل، عمران فرحت اور وہاب ریاض۔

زمرہ سوئم:

تنویر احمد، جنید خان، حماد اعظم، رمیز راجہ ، سرفراز احمد، سہیل خان، شرجیل خان، عدنان اکمل اور یاسر شاہ۔

وظیفہ خوار:

اعزاز چيمہ، ذوالفقار بابر، رضا حسن، محمد ایوب ڈوگر اور محمد طلحہ۔

Facebook Comments