بھارت مثبت ذہن کے ساتھ میدان میں اترے تو بازی پلٹ سکتا ہے: روی شاستری

معروف بھارتی کمنٹیٹر روی شاستری نے کہا ہے کہ انگلستان کے خلاف سیریز میں 2-0 سے خسارے میں جانے کے باوجود بھارت کو مثبت ذہن کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے، یہی رویہ ہے جس کی وجہ سے وہ سیریز اور عالمی درجہ بندی میں اپنی سرفہرست پوزیشن کو بچا سکتے ہیں.

روی شاستری کے خیال میں بھارتی بلے بازوں کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں روی شاستری نے کہا ہے کہ ظہیر خان اور ہربھجن سنگھ جیسے مرکزی گیند بازوں کی عدم موجودگی میں بھارت کے لیے انگلستان کی 20 وکٹیں حاصل کرنا مشکل تو ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، اس وقت بھارت دیوار کے ساتھ لگ چکا ہے اور یہ ایسی صورتحال ہوتی ہے جس میں کچھ خاص سامنے آنے کی توقع کی جا سکتی ہے.

ایجبسٹن، برمنگھم میں گزشتہ دو ٹیسٹ میچز کے مقابلے میں مختلف کنڈیشنز کے بارے میں روی شاستری نے کہا کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ وہاں کنڈیشنز کتنی مختلف ہوں گی اور اس بارے میں تبھی کچھ کہا جا سکتا ہے جب میچ کے دن صبح پچ دیکھی جائے گی. تاریخ بتاتی ہے کہ برمنگھم کی پچ میں باؤلرز کے لیے مدد ہوتی ہے اور یہاں ہونے والے مقابلے نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں.

بھارت کے باؤلنگ کمبی نیشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گو کہ یہ کنڈیشنز پر منحصر ہے لیکن میرے خیال میں بھارت کو تین سیمرز اور ایک اسپنر کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے.

وریندر سہواگ کی واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گو کہ سہواگ ایک عظیم کھلاڑی ہیں لیکن اتنا عرصہ ایکشن سے باہر رہنے کے بعد واپس آتے ہی میچ کو پلٹ دینے والی کارکردگی پیش کرنا ان کے مشکل ضرور ہوگا. انہوں نے کہا کہ ویرو کے اندر ایک خاص بات ہے کہ وہ ابتداء ہی سے حملہ آور ہو کر حریف ٹیم کو دفاعی انداز اپنانے پر مجبور کر دیتے ہیں اور ایک بات تو یقینی ہے اگر انہیں میچ میں پہلی گیند ہی ہاف وولی پھینکی گئی تو وہ اسے ضرور میدان بدر کرنے کی کوشش کریں گے.

روی شاستری نے کہا کہ بھارت کے لیے یہ ایک اہم ٹیسٹ ہے، صورتحال اب بھی اس کے ہاتھ سے نہیں نکلی. ماضی میں بھی جب بھارت کو دیوار سے لگایا گیا اس نے جوابی حملہ ضرور کیا ہے لیکن اس کے لیے بھارتی بلے بازوں نے مدد کی ہے اس لیے انہیں موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے پہلی اننگز میں بڑا اسکور بنانا ہوگا.

Facebook Comments