عالمی درجہ بندی؛ ایلسٹر کک تیسرے نمبر پر آ گئے

انگلستان کے اوپنر ایلسٹر کک کیریئر کی بہترین اننگز کھیلنے کے بعد ٹیسٹ بلے بازوں کی عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔

ایلسٹر کک آخری ٹیسٹ میں ایک اور عمدہ کارکردگی کے بعد دوسری پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں

ایلسٹر کک آخری ٹیسٹ میں ایک اور عمدہ کارکردگی کے بعد دوسری پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں

کک نے بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں 294 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس کی بدولت انگلستان نے میچ با آسانی ایک اننگز اور 242 رنز سے جیت لیا۔ اس بہترین بلے بازی پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ کک کی یہ شاندار اننگز 545 گیندوں پر مشتمل تھی اور وہ اس اننگز کے دوران 772 منٹ تک کریز پر موجود رہے اور 33 مرتبہ گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھائی۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق آئی سی سی 2011ء ایوارڈز میں سال کے بہترین کرکٹر اور سال کے بہترین کھلاڑی کے اعزازات کے لیے نامزد ہونے والے ایلسٹر کک 8 درجے پھلانگ کر تیسرے نمبر پر پہنچے ہیں۔ وہ عالمی نمبر دو سری لنکا کے کمار سنگاکارا نے محض دو پوائنٹس کے فاصلے پر ہیں اور انہیں چوتھے و آخری ٹیسٹ میں مزید آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

26 سالہ کک نے بھارت کے خلاف سیریز کا آغاز عالمی درجہ بندی میں پانچویں پوزیشن کے ساتھ کیا تھا لیکن لارڈز اور ٹرینٹ برج میں ناقص کارکردگی کے بعد وہ 11 ویں پوزیشن پر چلے گئے تھے۔

وہ عالمی درجہ بندی میں ترقی پانے والے واحد انگلش بلے باز نہیں۔ ان کے علاوہ کیون پیٹرسن بھی دو درجے پھلانگ کر 13 ویں نمبر پر آ گئے ہیں جبکہ اینڈریو اسٹراس اور ایون مورگن بھی عمدہ بلے بازی کے بعد درجہ بندی میں آگے بڑھے ہیں۔

دوسری جانب انتہائی ناقص بلے بازی کا مظاہرہ کرنے پر بھارتی بلے باز مستقل رو بہ زوال ہیں سوائے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے جنہوں نے برمنگھم میں 77 اور 74 رنز کی نسبتاً اچھی اننگز کھیلیں۔ سچن ٹنڈولکر ایک درجہ تنزلی کے بعد چوتھے نمبر پر آ گئے ہیں جبکہ وی وی ایس لکشمن تین درجے پیچھے ہو کر سرفہرست 10 سے باہر ہو گئے ہیں اور 12 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔

پہلے دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں اچھی کارکردگي دکھانے والے راہول ڈریوڈ بھی تین درجہ تنزلی کا شکار ہوئے ہیں اور 14 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں جبکہ تیسرے ٹیسٹ میں 'کنگ پیئر' حاصل کرنے والے وریندر سہواگ سات درجہ تنزلی کے بعد 17 ویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب گیند بازوں کی درجہ بندی میں سب سے زیادہ فائدہ انگلستان کے ٹم بریسنن نے حاصل کیا ہے جنہوں نے 5 وکٹیں حاصل کر کے 16 درجے ترقی پائی ہے اور پہلی مرتبہ سرفہرست 20 میں آ گئے ہیں۔ وہ تازہ ترین رجہ بندی میں 16 پوزیشن پر ہیں۔

میج میں 6 وکٹیں حاصل کرنے والے اسٹورٹ براڈ مزید دو درجے ترقی پا کر پانچویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ہم وطن گریم سوان میچ میں ناقص کارکردگی کے بعد چوتھی سے پانچویں پوزیشن پر آ گئے ہیں۔

جیمز اینڈرسن نے میچ میں 6 وکٹوں کے ساتھ اپنی دوسری پوزیشن مستحکم کر لی ہے اور اب ان کی نظریں سرفہرست پوزیشن پر مرکوز ہیں جو اس وقت جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین کے پاس ہے۔

براڈ اور بریسنن نے آل راؤنڈرز کی عالمی درجہ بندی بھی ترقی پائی ہے جہاں پہلی پوزیشن جنوبی افریقہ کے ژاک کیلس کے پاس ہیں۔ براڈ دوسری جبکہ بریسنن 9ویں پوزیشن پر ہیں۔

درجہ بندی انگلستان اور بھارت کے درمیان چوتھے ٹیسٹ کے بعد دوبارہ تازہ تر کی جائے گی جو 18 اگست سے اوول میں شروع ہوگا۔

تازہ ترین و مکمل عالمی درجہ بندی کے لیے کرک نامہ کا خصوصی صفحہ ملاحظہ کیجیے۔

Facebook Comments