وقاریونس کے استعفے پر کرکٹ ماہرین کا ردعمل

سابق پاکستانی گیند باز اور قومی ٹیم کے موجودہ کوچ وقار یونس کی جانب سے مستعفی ہوجانے کے اعلان پر کرکٹ کے حلقوں سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے. مبصرین کے خیال میں وقار یونس کا استعفی دیئے جانے کا اعلان محض طبی وجوہات کی بناء پر نہیں لگتا بلکہ اس کے پیچھے دیگر کئی عوامل کار فرما ہیں جن میں قومی ٹیم کے سابق کپتان و آل راؤنڈر شاہد آفریدی سے ٹیم سلیکشن پر ہونے والا تنازع، پی سی بی کی جانب سے معاون کوچ عاقب جاوید کی سبکدوشی اور پھر شعیب ملک کو کلیئر قرار دینا بھی شامل ہوسکتے ہیں.

PCB former chairman Tauqeer Zia

قومی ٹیم کے کوچ وقار یونس کا استعفی ایک سوچا سمجھا معاملہ لگتا ہے: توقیر ضیاء

کرک نامہ نے اس حوالے سے قومی کرکٹ کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین سے رابطہ کیا اور ان سے اس معاملے پر رائے جاننا چاہی جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے.

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین جنرل (ر) توقیر ضیا کہتے ہیں کہ وقاریونس کے استعفی کا معاملہ سوچا سمجھا لگتا ہے. اعجاز بٹ کی صدارت کی مدت اکتوبر میں ختم ہورہی ہے، شاید اسی لیے وقار یونس نے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے راستے کا باعزت انتخاب کیا. ممکن ہے وقار یونس کو یہ خوف ہوگا کہ آیا نیا چئیرمین قبول کرے گا بھی یا نہیں. اس کے علاوہ دورہ زمبابوے چونکہ آسان دورہ ہے اس لیے وہ یہاں میچز جیت کر اپنے دور کو کامیابی سے ختم کرنی کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں.

دوسری جانب سابق پاکستانی تیز گیند باز سرفراز نواز اس حوالے سے کچھ مختلف رائے رکھتے ہیں. کرک نامہ نے ان سے بورڈ اور وقار کے درمیان اختلافات کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ وقار یونس اختلافات کی وجہ سے عہدہ چھوڑ گئے اس لحاظ سے درست نہیں ہوگا کہ اگر واقعی ایسی صورتحال ہوتی تو انہیں زمبابوے نہ بھیجا جاتا، یا پھر وقار یونس خود ہی جانے سے انکار کر دیتے. سرفراز نواز نے مزید بات کرتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ ہونے والے فاسٹ ٹریک کوچنگ پروگرام کے دوران بھی وقار یونس طبی مسائل کی وجہ سے شامل نہیں ہوسکے تھے.

سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ عارف عباسی کے خیال میں معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا نظر آتا ہے. انہوں نے وقار یونس کے مستعفی ہوجانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ گزشتہ 15 سال سے مشکلات کا شکار ہے. لہٰذا وقار یونس کا استعفی اور اس کی وجوہات کے مدنظر یہ کہنا آسان نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہوا ہے. تاہم انتظامی طور پر اس طرح کے استعفی سامنے آنا کوئی اچھی علامت نہیں. شعیب ملک پر کرپشن کے الزامات ہیں اور ان کو کلئیر قرار دیئے جانا حیران کن ہے. ایسے کھلاڑیوں کو ٹیم میں لانا بہتر نہیں ہوگا.

Facebook Comments