نیا کوچ ملکی ہونا چاہیے یا غیرملکی؟ ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کوچ وقار یونس کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد ملک کے کرکٹ کے حلقوں میں اک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ پاکستان اگلا کوچ ملکی ہونا چاہیے یا غیر ملکی۔ اس حوالے سے مختلف ماہرین مختلف آراء رکھتے ہیں اور اس حوالے سے فریقین کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں جو اپنی جگہ بہت مضبوط بھی ہیں۔

جیف لاسن پاکستان کے آخری غیر ملکی کوچ تھے

جیف لاسن پاکستان کے آخری غیر ملکی کوچ تھے

پاکستان ماضی میں تین غیر ملکی کوچز کے ساتھ کام کر چکا ہے جن میں دو کا تعلق جنوبی افریقہ سے تھا یعنی رچرڈ پائی بس اور باب وولمر جبکہ وقار یونس سے قبل کوچنگ کی ذمہ داریاں نبھانے والے جیف لاسن آسٹریلیا سے تعلق رکھتے تھے۔ ان تینوں غیر ملکی کوچز کے ادوار کے مثبت و منفی دونوں پہلو تھے جن کو ماہرین اپنی دلیل کے حق میں استعمال کرتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ خصوصاً باب وولمر کے دور میں پاکستان کرکٹ ٹیم انتہائی پروفیشنل ہو گئی تھی اوریہی دور تھا جس میں پاکستان ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن تک عرصے تک قابض رہا۔

تاہم ملکی یا غیر ملکی کوچ کے انتخاب کے حوالے سے ماہرین اب بھی دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا ء کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کا نیا کوچ غیر ملکی ہونا چاہیے۔اپنے موقف کے حق میں انہوں نے دلیل دی ہے کہ غیر ملکی کوچ نیوٹرل رہ کر کام سکتا ہے اور بورڈ میں ہونیوالی سیاست سے الگ تھلگ رہ کر وہ پاکستان ٹیم کو ایک بار پھر بلندیوں پر لے جاسکتا ہے ۔سابق چیئرمین نے بھارت کے سابق کوچ گیری کرسٹن کی مثال دیتے ہوئے ہوئے کہا کہ ایشیائی ٹیموں کے لیے غیر ملکی کوچ ہی بہترین ثابت ہوسکتے ہیں ۔

دوسری جانب ون ڈے کرکٹ میں پہلی ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کرنے والے سابق پاکستانی تیز گیند باز جلال الدین صرف اور صرف کوچنگ کی مہارت کے قائل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوچ ملکی ہو یا غیر ملکی کوچنگ کورسز کے بغیر اس کا تقرر فائدہ مند نہ ہوگا۔جلال الدین نے کہا کہ کرکٹ اب ایک سائنٹیفک گیم ہے جس میں کمپیوٹر اینالسٹ اور کوچ ویڈیوز کے ذریعے اپنے کھلاڑیوں کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور بعد ازاں ان کی تکنیک کو بہتر بناتے ہیں جبکہ حریف کھلاڑیوں کو زیر کرنے کے لیے حکمت عملی بھی ایسے ہی ترتیب دی جاتی ہے، ایسا اس وقت ہی ممکن ہے جب کوچ خود کوچنگ کے کورسز کرچکا ہو۔غیر ملکی کوچ کے تجربے پر انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ماضی میں باب وولمر نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنایا تھا اور ٹیم کی رینکنگ بھی بہتر ہوئی تھی ان جیسا غیر ملکی کوچ ہو تو تقرری میں کوئی حرج نہیں ۔

ادھر پاکستان کے سابق کوچ جیف لاسن نے بھی غیر ملکی کوچ کو پاکستان ٹیم کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی کوچ پاکستان کرکٹ کو ایک بار پھر بلندیوں پر لے جاسکتا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ چیئرمین اعجازبٹ غیر ملکی کوچ کے حامی نہیں اس لیے دوبارہ غیر ملکی کوچ کا تقرر مشکل دکھائی دیتا ہے ۔لاسن نے کہا کہ پلیئرز اور کوچ کے درمیان زبان کوئی مسئلہ نہیں ہوتی ، کرکٹ کی اپنی ایک تکنیکی زبان ہے ، جو کھلاڑی باآسانی سمجھ جاتے ہیں ۔ موجودہ چیئرمین اعجاز بٹ نے عہدہ سنبھالتے ہی جیف لاسن کو کوچ کی حیثیت سے فارغ کر دیا تھا اور ان کی جگہ وقار یونس کو قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ کی ذمہ داریاں دی گئیں۔

اُدھر ہر معاملے پر اپنی جداگانہ رائے رکھنے کے باعث معروف سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز غیر ملکی کوچ کے یکسر مخالف ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ کوچ ملکی ہونا چاہئے جو سلیکشن معاملات پر بھی نظر رکھے اور ڈومیسٹک میچز میں کھلاڑیوں کی کارکردگی دیکھ کر ان کی ٹیم میں شمولیت پر رائے دے سکے ۔سرفرازنواز نے وقاریونس کو بھی غیر ملکی کوچ قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ وقار یونس سیریز کے علاوہ سارا وقت بیرون ملک گزارتے تھے ۔اس لیے ان میں اور غیر ملکی کوچ میں کوئی فرق نہیں تھا ۔

ان ماہرین کی آراء اور دلائل کی نظر میں آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اس بارے میں نیچے پول میں اپنی رائے ظاہر کیجیے

وقار یونس کے استعفے کے بعد اب پاکستان کے لیے کون سا کوچ موزوں رہے گا؟


Loading ... Loading ...

Facebook Comments