خفیہ اشتہار

کرکٹ تو ہم دیکھتے نہیں اور کھیلتے تو بالکل بھی نہیں اور جو کبھی کھلائے بھی گئے تو گیند کو مرا ہوا چوہا ہی سمجھتے رہے۔ مشرقی روایات و آداب کے پیش نظر تاہم لازمی ہے کہ ہم اسی پہلو پر بات کریں جس کا ہم کو سرے سے علم ہی نہ ہو۔ اس طرح بات کرنے میں آسانی رہتی ہے اور آدمی اپنی مرضی کی بات اور اپنا مدعا حسب منشا بیان کر سکتا ہے جب کہ علم ہونے کی صورت میں ظاہر ہے کہ ہر جملے کو نام نہاد حقائق وغیرہ سے خوامخواہ ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے ،ناحق تنگی ہوتی ہے جس کے ہم چنداں قائل نہیں۔دلیل اس امر کی وہ علما بھی ہیں جو پاکستان کو قائداعظم کی منشا کے مطابق سیکولر ریاست بنانے کے حامی ہیں۔ یوں تو مشرقی آداب کی مناسبت سے اس دعوے کے پیچھے حقیقت کا ہونا بہت شرمنا ک حد تک غیر ضروری مطالبہ ہے لیکن عین ممکن ہے کہ قائد اعظم نے ایمبولینس کے راستے میں چند احباب کو ایس ایم ایس کر دیا ہو کہ بھائی وہ ہم کو یاد آیا کہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا مقصود تھا نیز ہمارا کف سیرپ جو تپائی پر پڑا تھا اس کا ڈھکن بھی بند کر دیجیے گا۔

 ہر کسی کی سننے سے ادارے تباہ ہو جایا کرتے ہیں۔ امیدوار کو آلہ سماعت سمیت بھی کم سنائی دینا لازمی ہے

ہر کسی کی سننے سے ادارے تباہ ہو جایا کرتے ہیں۔ امیدوار کو آلہ سماعت سمیت بھی کم سنائی دینا لازمی ہے

یہ بھی عین ممکن ہے کہ زیارت میں قیام کے دوران آپ نے کوئی ایسا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کیا ہو یا ٹویٹ کی ہو جو زبردست پرائیویسی سیٹنگز کے سبب باقی عوام کالانعام کی نظر سے پوشیدہ رہی ہو اور محض مخصوص لوگوں کو ہی اس بات کا علم ہو سکا۔ بہرکیف، ان علما کی خاص بات ایسی دستاویزات ڈھونڈ نکالنا ہے جو بے حد نایاب ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی عالم فاضل بننے کا بے حد شوق ہے بلکہ حقائق کی درستگی کے لیے لکھے دیتے ہیں کہ شوق ہوا کرتا تھا اب تو ہم عالم فاضل ہیں اور ہم نے بھی اپنے قارئین کے لیے ایک ایسی ہی دستاویز ڈھونڈی ہےجس میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی آسامی کو مشتہر کیے جانے سے متعلق کچھ نکات درج ہیں۔ افادہ عامہ نیز آئندہ چیئرمینوں کے احسن انتخاب کے واسطے ذیل میں درج کیے دیتے ہیں:

پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامات کو چلانے کے لیے چیئرمین کی ضرورت ہے

چیئرمین شپ کے لیے امیدوار کا مندرجہ ذیل شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے:

1۔ کرکٹ کھیلے ہوئے کم از کم ڈھائی سو سے پانچ سو برس کا عرصہ بیت چکا ہو۔کرکٹ کی مبادیات سے بالکل بے بہرہ ہو تاآنکہ روز مرہ امور مکمل اور مثالی غیر جانبداری سے چلا سکے۔

2۔ قدآور شخصیات ہی ادارے بنایا کرتی ہیں۔ امیدوار کا قدآور شخصیت ہونا ضروری ہے۔ امیدوار کا قد اتنا ہو کہ ضرورت پڑنے پر اسٹیڈیم کے بلب خود کھڑے کھڑے تبدیل کر سکے۔

3۔ ہلکے اور بے وقعت امیدوار قطعی غیر موزوں ہیں۔ وزنی شخصیات ہی اداروں کو حدود میں رکھنے کی ضامن ہیں۔ وزن اتنا ہو کہ پچ پر ایک آدھ چکر پر فاسٹ ٹریک تیار ہو جائے اور اتفاقی طور پر بال ٹھاکری پچ اکھاڑی ذہنیت کا ہنگامی طور پر مقابلہ کیا جاسکے۔

4۔ ہر کسی کی سننے سے ادارے تباہ ہو جایا کرتے ہیں۔ امیدوار کو آلہ سماعت سمیت بھی کم سنائی دینا لازمی ہے۔

5۔ تعلقات عامہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مالی وسائل کے لیے بے حد اہم ہیں۔ امیدوار کے تعلقات ہونا بے حد ضروری ہیں۔ کسی کا وزیر سفیر کا سالا ہو تو مستحسن ہے۔

سو یہ تھا وہ اشتہار۔ وطن عزیز میں ہر اہم عہدے کے لیے اسی قسم کے خفیہ اشتہارات دیے جاتے ہیں۔ وزیراعظم اور صدر پاکستان کے لیے اشتہارات کی نوعیت کیا رہی ہوگی؟ یہ تحقیق ہم اپنے قارئین میں موجود محققین اور علما پر بطور ہوم ورک چھوڑتے ہیں۔

Facebook Comments