طویل العمر پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر اسلم کھوکھر انتقال کر گئے

پاکستان سے تعلق رکھنے والے دنیائے کرکٹ کے طویل العمر ٹیسٹ کرکٹر اسلم کھوکھر طویل علالت کے بعد 22 جنوری 2011ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ وہ 5 جنوری 1920 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔

91 سالہ محمد اسلم کھوکھر 1954ء میں پاکستان کے پہلے دورۂ انگلستان کے لیے ٹیم میں شامل تھے اور انہوں نے ایک ٹیسٹ میچ میں شرکت کی۔ فرسٹ کلاس میں انہوں نے 46 میچز کھیلے اور دو سنچریوں اور 13 نصف سنچریوں کی مدد سے 1863 رنز بنائے۔

انگلستان کے یادگار دورے میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 28.06 کی اوسط سے 421 رنز بنائے لیکن انہیں محض ایک ٹیسٹ میچ میں حصہ لینے کا موقع میسر آسکا۔ انہوں نے پاکستان کو ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے سے قبل بھی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے خلاف لاہور میں پاکستان کا پہلا بے ضابطہ ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

اسلم کھوکھر ایک زبردست اسٹروک پلیئر تھے اور فیلڈنگ کے دوران اپنی پھرتیوں کے باعث بھی معروف تھے۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی فرسٹ کلاس سنچری بھی بنائی جب انہوں نے بعد از تقسیم ہند پاکستان میں کھیلے گئے پہلے فرسٹ کلاس میچ میں سنچری اسکور کی۔ یہ میچ سندھ اور مغربی پنجاب کے درمیان لاہور میں کھیلا گیا تھا۔

کچھ عرصے کے لیے انہوں نے امپائرنگ بھی کی اور 1973ء اور 1977ء میں پاکستان اور انگلستان کے درمیان تین ٹیسٹ میچز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔ بعد ازاں 80ء کی دہائی میں انہوں نے لاہور کے ایچی سن کالج میں سینئر کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور دہائی کے وسط میں قومی تربیتی کیمپ میں بھی کام کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ اعجاز بٹ اور دیگر عہدیداروں نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ ان کے سابق ساتھی حنیف محمد نے کہا ہے کہ وہ انتہائی ہنس مکھ شخص تھے اور ہر کسی کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ تھا۔

اسلم کھوکھر کے انتقال کے بعد اب پاکستان کے سب سے زائد العمر کرکٹر کا اعزاز اسرار علی کے پاس ہے جنہوں نے 1950ء کی دہائی میں چار ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔

Facebook Comments