حفیظ اور فرحت کی ریکارڈ شراکت، پاکستان نے سیریز جیت لی

پاکستان نے اوپنر محمد حفیظ اور عمران فرحت کے درمیان 228 رنز کی ناقابل شکست ریکارڈ شراکت داری کی بدولت پاکستان نے زمبابوے کو مسلسل دوسرے ایک روزہ مقابلے 10 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔ محمد حفیظ نے شاندار کارکردگی کے سلسلے کو برقرار رکھا اور 139 رنز کی زبردست اننگز کھیلی جبکہ زیر عتاب عمران فرحت نے 75 رنز بنا کر پاکستان کی جانب سے پہلی وکٹ کی ریکارڈ شراکت میں اپنا نام امر کر لیا۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ عظیم بلے باز سعید انور اور رمیز راجہ کے پاس تھا جنہوں نے 1993ء میں سری لنکا کے خلاف شارجہ میں 204 رنز کی شراکت داری قائم کی تھی۔

محمد حفیظ کی عمدہ سنچری اننگز، پاکستان کو منزل تک پہنچا گئی (تصویر: AFP)

محمد حفیظ کی عمدہ سنچری اننگز، پاکستان کو منزل تک پہنچا گئی (تصویر: AFP)

ہرارے کے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ایک روزہ مقابلے میں پاکستان کو محض 226 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنا تھا جو ایک آسان پچ پر بہت ہی کم تھا اور پاکستان کے اوپننگ بلے بازوں محمد حفیظ اور عمران فرحت نے ثابت کر دکھایا کہ یہ پچ بلےبازی کے لیے کس قدر آسان تھی۔

محمد حفیظ نے اپنے کیریئر کی تیسری سنچری بنائے جبکہ ٹیم میں واپسی کے بعد دوسرا میچ کھیلنے والے عمران فرحت ے 75 ناقابل شکست رنز بنائے۔ زمبابوین گیند باز تمام تر دوڑ دھوپ کے باوجود کسی پاکستانی بلے باز کی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔

زمبابوے کی مہم کا آغاز ہی غلط انداز میں ہوا جب ٹاس جیتنے کے بعد کپتان برینڈن ٹیلر نے کہا کہ وہ بلے بازی کریں گے لیکن پھر تھوڑی دیر میں بولے کہ وہ گیند بازی کرنا چاہتے ہیں تاہم امپائرز نے انہیں فیصلہ بدلنے کی اجازت نہیں دی یوں بادل نخواستہ زمبابوے کو بیٹنگ ہی کرنی پڑی۔ صبح سیمرز کو ملنے والی مدد کا پاکستانی گیند بازوں خصوصاً جنید خان اور سہیل تنویر نے فائدہ اٹھایا اور زمبابوین بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ رنز بننے میں مشکلات کے باعث ہونے والی جھنجلاہٹ ہی سے دو بلے باز چامو چی بھابھا (9 رنز) اور اِن فارم ووسی سبانڈا (14 رنز) اپنی وکٹیں کھو بیٹھے۔

اس موقع پر ہملٹن ماساکازا اور کپتان برینڈن ٹیلر نے زمبابوے کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے گٹھ جوڑ کیا اور تیسری وکٹ پر دونوں نے 104 رنز کی زبردست شراکت قائم کی۔ گو کہ دونوں کے رنز بنانے کی رفتار سست رہی تاہم انہوں نے 38 ویں اوور تک زمبابوے کو مزید کسی نقصان سے بچائے رکھا۔ برینڈن ٹیلر 76 گیندوں پر 50 رنز بنانے کے بعد جنید خان کا نشانہ بنے جبکہ پاکستان نے میچ کی سب سے اہم وکٹ مصباح الحق کی تھرو پر حاصل کی جب 176 کے مجموعی اسکور پر ہملٹن ماساکازا رن آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے ایک چھکے اور 5 چوکے کی مدد سے 118 گیندوں پر 68 رنز بنائے۔ زمبابوے کے تیسرے قابل ذکر بلے باز تجربہ کار ٹاٹنڈا ٹائبو رہے جنہوں نے 32 گیندوں پر 26 رنز بنائے۔ پاکستان کی باؤلنگ کے لیے یہ بات مایوس کن رہی کہ وہ زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کو ایک مرتبہ پھر آل آؤٹ نہ کر سکے۔ مقررہ 50 اوورز میں وہ 225 پر حریف ٹیم کی محض 6 وکٹیں ہی حاصل کر سکے۔ جن میں سے 2 سہیل تنویر کو ملیں جبکہ ایک، ایک جنید خان اور اعزاز چیمہ کو حاصل ہوئی۔

زمبابوین بیٹنگ کے دوران پاکستان کے لیے ایک پریشان کن لمحہ آیا جب جنید خان کو سات اوورز کرانے کے بعد ٹخنہ زخمی ہونے کے باعث میدان سے باہر جان پڑا۔ خوش قسمتی سے ان کی انجری زیادہ سنجیدہ نہیں ثابت ہوئی اور بعد ازاں وہ اپنا اسپیل مکمل کرانے کے لیے میدان میں آئے اور پاکستان نے سکھ کا سانس لیا۔
جواب میں پاکستان کے بلے بازوں نے یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی حریف ٹیم کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ کی چوتھی سب سے بڑی اور پاکستان کی ریکارڈ اوپننگ شراکت قائم کی۔

محمد حفیظ نے اپنی اننگز کا واحد چھکا رسید کر کے سنچری مکمل کی جبکہ انہوں نے اننگز میں 13 چوکے بھی لگائے اور 139 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ دوسرے اینڈ پر عمران فرحت نے 106 گیندوں پر 75 رنز کی اچھی اننگز کھیلی جس میں 6 چوکے شامل تھے۔ عمران فرحت کا قومی ٹیم میں انتخاب بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنا اور انہیں اقرباء پروری کی اعلیٰ ترین مثال سمجھا جاتا ہے تاہم انہوں نے ایک اچھی اننگز کھیل کر کسی حد تک اپنے ناقدین کے منہ بند کر دیے ہیں۔

محمد حفیظ اور عمران فرحت کے درمیان ایک شاندار شراکت ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی تاریخ میں پاکستانی بلے بازوں کی 14 ڈبل سنچری شراکت تھی۔ یوں پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ سب سے زیادہ ڈبل سنچری شراکت داریاں بنانے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

پاکستان نے ایک روزہ کی تاریخ میں چوتھی مرتبہ 10 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ آخری مرتبہ حالیہ عالمی کپ کےکوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز وک 10 وکٹوں سے ہرایا تھا۔

محمد حفیظ کو شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قراردیا گیا۔

سیریز کا تیسرا و آخری ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ 14 ستمبر کو ہرارے کے اسی میدان میں کھیلا جائے گا۔ جس کے بعد دونوں ٹیمیں دو ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلوں میں آمنے سامنے ہوں گی۔

زمبابوے بمقابلہ پاکستان : دوسرا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

(بتاریخ: 11 ستمبر 2011ء بمقام: ہرارے اسپورٹس کلب)

نتیجہ: پاکستان 10 وکٹ سے فتحیاب

بہترین کھلاڑی: محمد حفیظ (پاکستان)

سیریز:زمبابوے: 0؛ پاکستان: 2

Zimbabwe زمبابوے رنز گیندیں چوکے چھکے
ووسی سبانڈا ک عدنان اکمل ب اعزاز چیمہ 14 35 0 1
چامو چیبھابھا ک مصباح الحق ب سہیل تنویر 9 12 1 0
ہملٹن ماساکاٹزا رن آؤٹ (مصباح الحق) 68 118 5 1
برینڈن ٹیلر ک متبادل (اسد شفیق) ب جنید خان 50 76 2 0
ٹاٹنڈا ٹائبو ب سہیل تنویر 26 32 3 0
میلکم والر رن آؤٹ (محمد حفیظ / عدنان اکمل) 12 9 2 0
ایلٹن چگمبرا آؤٹ نہیں ہوئے 17 10 1 1
پروسپر اتسیا آؤٹ نہیں ہوئے 12 8 2 0
فاضل رنز (10 لیگ بائے؛ 7 وائڈ) 17
مجموعہ (50 اوورز؛ 6 کھلاڑی آؤٹ) 225

 

پاکستان (گیند بازی) اوور میڈان رنز وکٹ
سہیل تنویر 9 3 33 2
جنید خان 10 1 29 1
اعزاز چیمہ 10 0 57 1
یونس خان 1 0 11 0
محمد حفیظ 10 0 43 0
سعید اجمل 10 0 42 0

 

Pakistan پاکستان رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ آؤٹ نہیں ہوئے 139 147 13 1
عمران فرحت آؤٹ نہیں ہوئے 75 106 6 0
فاضل رنز (3 لیگ بائے؛ 11 وائڈ) 14
مجموعہ (42.1 اوورز؛ کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں) 228

 

زمبابوے (گیند بازی) اوور میڈان رنز وکٹ
کرس ایم پوفو 9.1 0 52 0
برائن وٹوری 8 0 43 0
پروسپر اتسیا 8 0 44 0
ایلٹن چگمبرا 4 0 29 0
رے پرائس 9 0 40 0
چامو چیبھابھا 2 0 10 0
ہملٹن ماساکاٹزا 2 0 7 0

Facebook Comments