دورۂ انگلستان بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب، فلیچر کے مستقبل پر سوالیہ نشان

ٹیسٹ کرکٹ میں عالمی نمبر ون پوزیشن کے حصول کے بعد بھارت ایک روزہ کرکٹ کا عالمی چیمپئن بھی بنا۔ عرصہ دراز سے مسائل میں گھری ٹیم کا فتوحات کے جھنڈے گاڑنا اک خوابناک سفر لگتا تھا لیکن عالمی کپ جیتنے کے بعد بھارت کے لیے پہلا اہم دورہ ہی ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔

بھارتی ٹیم کی کارکردگی سے قطع نظر اس وقت بڑا سوال یہ ہے کہ ڈنکن فلیچر کا مستقبل کیا ہوگا؟

بھارتی ٹیم کی کارکردگی سے قطع نظر اس وقت بڑا سوال یہ ہے کہ ڈنکن فلیچر کا مستقبل کیا ہوگا؟

دنیا جو انتظار کر رہی تھی کہ وہ عالمی نمبر ایک کو بہترین ٹیموں میں قرار دی جانے والی انگلش ٹیم کے مدمقابل دیکھیں اور سب کو توقع تھی کہ یہ سیریز ایسی ہوگی جو مدتوں یاد رکھی جائے گی لیکن بھارت نہ صرف یہ کہ تمام چار ٹیسٹ میچز میں بری طرح شکست کھا گیا بلکہ ایک روزہ سیریز میں بھی ایک مرتبہ بھی جیت سے اپنا دامن نہ بھر سکا۔ ان دونوں کے علاوہ واحد ٹی ٹوئنٹی مقابلہ بھی میزبان انگلستان کے نام رہا یوں اس دورے کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے گزشتہ دورۂ آسٹریلیا سے مشابہت دی جا سکتی ہے جہاں بھارت کا پڑوسی تمام ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شکست سے دوچار ہوا۔

بھارت کی ان پے در پے شکستوں نے تازیانے کا کام کیا اور کرکٹ ماہرین اور شائقین، جن کی ایک بڑی تعداد بھارت میں مقیم ہے، نے مختلف عناصر کو ٹیم کی ہار کا ذمہ دار قرار دیا۔ زیادہ تر ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ مستقل کرکٹ کھیلنے اور آرام کا موقع نہ ملنے کے باعث بھارتی ٹیم تھک چکی ہے لیکن اب وہ عناصر ایک ایک کر کے سر اٹھا رہے ہیں جنہوں نے عالمی کپ کے بعد ڈنکن فلیچر کو کرکٹ ٹیم کا کوچ بنانے کی مخالفت کی تھی۔ دبے دبے لفظوں میں ڈنکن کی اہلیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ڈنکن فلیچر چاہے کتنے ہی اہل کوچ کیوں نہ ہو لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہو چکی ہے کہ بھارت میں ان کا مستقبل تاریک ہے کیونکہ ان کی زیر نگرانی ہی بھارتی کرکٹ ٹیم اپنے سب سے بڑے امتحان میں ناکام ہوئی۔ اگر بھارت کاکرکٹ بورڈ آسٹریلیا کی طرز پر وسیع البنیاد تحقیقات نہیں کرواتا تو یہ بھارت میں کرکٹ خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ کے زوال کا نقطہ آغاز ہوگا۔ آسٹریلیا نے رواں سال کے اوائل میں انگلستان کے ہاتھوں ایشیز میں شکست پر آرگس کمیشن نامی ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے طویل غور و خوض کے بعد سفارشات مرتب کیں جن کی روشنی میں گزشتہ ماہ کرکٹ آسٹریلیا میں وسیع پیمانےپر تبدیلیاں لائی گئیں۔ انگلستان میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت کو بھی اب ایسے ہی کمیشن کی ضرورت ہے جو بے لاگ تجزیہ کرے اور اپنی سفارشات بورڈ کے روبرو پیش کرے۔

اگر اس طرح کا کوئی کمیشن ترتیب دیاجاتا ہے تو سب سے بڑا سوال ڈنکن فلیچر کے کیریئر پر لگے اس وقت چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ سابق کوچ گیری کرسٹن کے مقابلے میں ڈنکن کا بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نظم و ضبط کی یہی کمی ٹیم کی شکست کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تاہم اتنی بڑی شکست صرف ایک عنصر کی وجہ سے نہیں ہو سکتی، اس لیے تمام وجوہات کو جاننے کے لیے ایک جامع تحقیقات کی ضرورت ہے۔

ڈنکن فلیچر کو عالمی کپ 2011ء کے بعد سابق کوچ گیری کرسٹن کے استعفے کے باعث بھارت کا نیا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ 62 سالہفلیچرماضی میں انگلستان کی کوچنگ کر چکے ہیں۔ 8 سال تک انگلش ٹیم سے وابستہ رہنے کے دوران انگلستان نے سری لنکا اور پاکستان کو اس کی سرزمین پر زیر کیا حتیٰ کہ جنوبی افریقہ کو بھی اُن کے گھر میں شکست دی۔ ان تمام فتوحات کا نقطہ عروج 2005ء کی ایشیز سیریز تھی، جس میں انگلستان نے 18 سال کے بعد آسٹریلیا کے خلاف ایشیز جیتی تھی۔

تاہم انگلش ٹیم کی تربیت کے دوران انہیں بدترین لمحات سے بھی دوچار ہونا پڑا جبکہ 2006-07ء کی ایشیز سیریز میں انگلستان کو 0-5 کی ذلت آمیز شکست ہوئی۔ پھر 2007ء کے عالمی کپ میں بھی ٹیم نے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو ان کو کوچنگ سے برخاست کرنے کا سبب بنا۔

اس کے بعد وہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے لیے بیٹنگ مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

بھارت کے کوچ کی حیثیت سے فلیچر کی تعیناتی کے وقت ملک میں اعتراضات بھی اٹھائے گئے تھے۔ سابق کپتان کپل دیو نے یہ تک کہہ ڈالا کہ یہاں ڈنکن فلیچر کے نام تک سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ دوسری جانب سنیل گواسکر نے بھی اُن کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی۔

اب انگلستان کے خلاف سیریز میں بدترین شکست کے بعد ڈنکن فلیچر کے مستقبل پر سیاہ بادل چھا چکے ہیں اور خصوصاً بھارت کے ماہرین کرکٹ کے تجزیے اور بھارتی میڈیا کی رپورٹیں کوچنگ کی ذمہ داریوں کو 'کانٹوں کا بستر' بنا دیں گی۔

Facebook Comments