آسٹریلین کوچ ٹم نیلسن عہدے سے مستعفی

آسٹریلیا کے کوچ ٹم نیلسن نے سری لنکا کے خلاف شاندار سیریز فتح کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 2007ء میں جان بکانن کی جگہ آسٹریلیا کی کوچنگ سنبھالنے والے ٹم نیلسن نے یہ اعلان منکل کو کولمبو میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان تیسرے ٹیسٹ کے خاتمے کے بعد کیا جہاں میچ بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد سیریز 1-0 سے آسٹریلیا کے نام رہی۔

ٹم نیلسن کی زیر تربیت آسٹریلیا نے 2007ء سے اب تک ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی ميں سرفہرست پوزیشن پر قبضہ جمائے رکھا

ٹم نیلسن کی زیر تربیت آسٹریلیا نے 2007ء سے اب تک ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی ميں سرفہرست پوزیشن پر قبضہ جمائے رکھا

ٹم نیلسن نے کہا کہ گزشتہ ایشیز سیریز میں 3-1 کی شکست کے بعد انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اب ان کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ ٹم نیلسن کے اس فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آسٹریلیا دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے عارضی کوچ مقرر کرے گا جو ممکنہ طور پر جسٹن لینگر یا اسٹیو رکسون ہو سکتے ہیں۔

ایشیز میں بدترین شکست کے بعد اسباب کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے گئے آرگس کمیشن کی رپورٹ میں ٹیم کے انتظامی معاملات میں بڑی تبدیلیوں کی سفارش کی جس کے نتیجے میں نیلسن کو ایک مرتبہ پھر کوچ کے عہدے کے لیے درخواست جمع کرانا پڑتی تاہم انہوں نے یہ راستہ اختیار کرنے کے بجائے استعفے کو چنا۔

43 سالہ ٹم نیلسن آرگس کمیشن کی سفارشات کے بعد تبدیل ہونے والے نظام میں خود کو موزوں نہ سمجھتے ہوئے عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں۔ انہوں نے جان بکانن کے ماتحت کے طور پر 3 سال اسسٹنٹ کوچ کی ذمہ داریاں نبھائیں اور ان کے جانے کے بعد 2007ء میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی زیر تربیت آسٹریلوی ٹیم نے 15 میں سے 9 ٹیسٹ سیریز میں فتوحات حاصل کیں جبکہ ایک روزہ میں گزشتہ چار سالوں سے ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ٹیسٹ میں ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو ہر گز قابل ستائش نہیں قرار دیا جا سکتا۔ گزشتہ سال پاکستان کے خلاف سیریز برابر کھیلنے کے بعد آسٹریلیا بھارت اور انگلستان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوا اور اب جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف اسے اگلا امتحان درپیش ہے۔

Facebook Comments