انگلستان کی امیدیں برقرار، چوتھے ون ڈے میں فتح

گو کہ آج یوم آسٹریلیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایڈیلیڈ اوول میں آسٹریلیا کا دن نہیں تھا بلکہ یہ دن تھا جوناتھن ٹراٹ کا، جن کی شاندار سنچری اور دو قیمتی وکٹوں کی بدولت انگلستان نے آسٹریلیا کو چوتھے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں 21 رنز سے شکست دے سیریز میں امیدوں کو برقرار رکھا ہے۔

3-0 کے خسارے میں جانے کے بعد انگلستان کے پاس سیریز جیتنے کا ایک ہی آپشن ہے کہ وہ اگلے تمام میچ جیتے۔ اس سخت ہدف کے حصول کے لیے انگلستان میدان میں اترا تو اس کے ذہن میں محض جیت سمائی ہوئی تھی۔ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور ابتداء ہی میں کپتان اینڈریو اسٹراس پویلین سدھار گئے تو اس موقع پر پرائیر اور ٹراٹ نے اننگ کو سنبھالا دیا اور 113 رنز کی زبردست شراکت داری کی۔ گو کہ ان کےبعد مڈل آرڈر بیٹنگ لڑکھڑا گئی اور کیون پیٹرسن 12 اور این بیل پہلی ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے لڑھک گئے لیکن ایون مورگن کے 24اور پال کولنگ ووڈ کے 27 اور سب سے قابل ذکر میٹ یارڈی کے 39 رنز کی بدولت انگلستان اسکور بورڈ پر ایک اچھا مجموعہ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا۔ مقررہ 50 اوورز میں انگلستان نے 8 وکٹوں پر 299 رنز بنائے اور آسٹریلیا کو 300 کا مشکل ہدف دیا۔ آسٹریلیا کی جانب سے اسپنرز سے اہم کردار ادا کیا۔ ڈیوڈ ہسی نے 21 رنز دے کر 4 جبکہ اسٹیون اسمتھ نے 33 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ ایک وکٹ بریٹ لی کے ہاتھ لگی۔

اہم وکٹیں حاصل کرنے کے بعد ٹراٹ کا فاتحانہ انداز (گیٹی امیجز)

جواب میں آسٹریلیا کا آغاز بھی شاندار نہ تھا خصوصا اوپنر بریڈ ہیڈن (20 رنز) کے آؤٹ ہونے کے فورا بعد شان مارش کا پویلین لوٹ جانا ٹیم کو بہت بھاری پڑا لیکن مرد بحران شین واٹسن بدستور کریز پر موجود تھے۔ انہوں نے کپتان مائیکل کلارک کے ساتھ مل کر اسکور کو 87 رنز تک پہنچایا جہاں کلارک کی 15 رنز کی سست رفتار اننگ کا کولنگ ووڈ کے ہاتھوں خاتمہ ہو گیا۔ آسٹریلیا کے امکانات آدھے سفر میں ہی اس وقت تمام ہو گئے جب 24 ویں اوور کی آخری گیند پر شین واٹسن 64 رنز بنا کر اجمل شہزاد کا نشانہ بن گئے۔ اس کے بعد کیمرون وائٹ اور ڈیوڈ ہسی نے میچ بچانے کی کوشش کی لیکن بلے بازی میں اپنے جوہر دکھانے والے جوناتھن ٹراٹ ایک مرتبہ پھر آسٹریلوی پیشرفت میں حائل ہو گئے۔ انہوں نے مسلسل دو اوورز میں ڈیوڈ ہسی (28 رنز) اور وائٹ (44 رنز) کو ٹھکانے لگا کر میچ مکمل طور پر انگلستان کے حق میں پلٹ دیا۔ کالنگ ووڈ اور جوناتھن ٹراٹ کی کفایتی باؤلنگ کی بدولت ہی انگلستان میچ میں واپس آیا ورنہ اس کے دیگر تمام باؤلرز آسٹریلوی بیٹسمینوں کو رن بنانے سے روکنے میں ناکام رہے۔ آخر میں اسٹیون اسمتھ نے 46 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی لیکن آٹھویں وکٹ پر بریٹ لی (39 رنز) کے ساتھ 77 رنز کی شراکت کی لیکن وہ میچ بچانے میں کامیاب نہی ہو سکے اور مقررہ 50 اوورز کے اختتام تک آسٹریلیا 278 رنز ہی بنا سکا۔

انگلستان کی جانب سے ٹراٹ اور جیمز اینڈرسن نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک، ایک وکٹ اجمل شہزاد، کرس ٹریملٹ اور پال کالنگ ووڈکے ہاتھ لگی۔

جوناتھن ٹراٹ کو شاندار آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

چار مقابلوں کے بعدآسٹریلیا کو 3-1 کی واضح برتری حاصل ہے۔اب دونوں ٹیمیں 30 جنوری کو برسبین میں آمنے سامنے ہوں گی۔

Facebook Comments