لاہور لائنز نے حیدرآباد کے شاہینوں کے پر کاٹ دیے

فیصل بینک نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ 2011ء کی دفاعی چیمپئن لاہور لائنز کے سامنے حیدر آباد کے شاہینوں کی پرواز دھیمی پڑ گئی اور وہ حریف ٹیم کے بلے بازوں اور گیند بازوں کے حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے پہلے مقابلے میں 82 رنز کی بدترین شکست سے دوچار ہوگئے۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے دوسرے مقابلے میں حیدر آباد ہاکس نے ٹاس جیت کر لاہور لائنز کو بلے بازی کی دعوت دی تو گویا لاہور کے شیر بھی تیار بیٹھے تھے۔ گروپ 'ڈی' کے اس مقابلے میں اوپنرز نے حیدرآباد کے گیند بازوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور پہلی ہی وکٹ پر سنچری شراکت بنا ڈالی۔ احمد شہزاد اور کامران اکمل پر مشتمل بین الاقوامی تجربہ رکھنے والی جوڑی نے حیدرآباد کے گیند بازوں کو سکھ کا سانس نہ لینے اور وکٹ کے چاروں طرف ان کے خلاف خوب اسٹروکس کھیلے۔ بدقسمتی سے کامران اکمل ناصر اویس کو ایک گیند کو آگے بڑھ کر میدان بدر کرنے کی کوشش میں وکٹوں کے پیچھے اسٹمپ ہو گئے ورنہ ان کی یہ شراکت داری اور زیادہ طویل ہوتی۔ کامران اکمل نے محض 41 گیندوں پر ایک چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے 62 رنز بنائے۔

کامران کے پویلین سدھارنے کے بعد ان کے بھائی عمر اکمل میدان میں اترنے جنہوں نے سلسلے کو وہیں سے جوڑا جہاں سے وہ منقطع ہوا تھا تاہم اننگز کے حتمی مرحلے میں داخل ہوتے ہی احمد شہزاد انہیں داغ مفارقت دے گئے جس کا لاہور کو حتمی اوورز میں نقصان ہوا۔ احمد شہزاد نے 50 گیندوں پر 9 چوکوں کی مدد سے 72 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور نعمان علی کا شکار بنے۔

ان کے بعد لاہور لائنز کی اننگز سنبھل نہ سکی اور عبد الرزاق (8 رنز) اور وہاب ریاض (1 رن) کو ناصر اویس نے ایک ہی اوور کو میدان سے باہر کا راسہ دکھایا تو لعل کمار نے آخری اوور میں تنزیل الطاف (5 رنز) کی وکٹ بھی گرا دی ۔ یوں مقررہ 20 اوورز کی تکمیل پر لاہور لائنز کا اسکور 5 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز تک ہی پہنچ پایا تاہم یہ ہدف بھی حیدرآباد کی پہنچ سے کہیں دور تھا۔

حیدرآباد کی جانب سے ناصر اویس نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک، ایک وکٹ لعل کمار اور نعمان علی کو ملی۔

جواب میں حیدرآباد ہاکس نصف اننگز تک پہنچتے پہنچتے اب سب سے اچھے کھلاڑیوں کپتان عظیم گھمن اور شرجیل خان سے محروم ہو چکا تھا اور رن اوسط بھی 6 سے کچھ ہی زیادہ تھا، اس لیے حیدرآباد کی فتح کی امیدیں تو نصف اننگز ہی میں تمام ہو چکی تھیں۔ اس کی وجہ لاہور کی طویل اور تجربہ کار باؤلنگ لائن اپ تھی۔ لاہور لائنز نے حیدرآباد ہاکس 7 گیند باز آزمائے جس میں عبد الرزاق، وہاب ریاض اور اعزاز چیمہ جیسے بین الاقوامی تجربہ رکھنے والے گیند باز بھی شامل تھے جنہوں نے حیدرآباد کے بلے بازوں کی ایک نہ چلنے دی۔ لاہور کی باؤلنگ کی خاص بات ان کے آزمائے گئے تمام 7 باؤلرز کا وکٹیں حاصل کرنا تھا۔ جن میں وہاب ریاض اور رضا علی ڈار نے 2، 2 جبکہ عبد الرزاق، اعزاز چیمہ، عدنان رسول، عمران علی اور تنزیل الطاف نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

حیدرآباد کی جانب سے شرجیل خان 30 رنز کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ فیصل اطہر نے 23 اور عظیم گھمن نے 20 رنز بنائے۔

لاہور لائنز کے کامران اکمل کو عمدہ بلے بازی اور وکٹوں کے پیچھے تین شکار کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

شکست خوردہ حیدرآباد ہاکس کل (سوموار کو) ٹورنامنٹ کی ایک اور مضبوط ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز سے ہوگا جبکہ دفاعی چیمپئن لاہور لائنز اسی حریف کے خلاف سیالکوٹ اسٹالینز سے 27 ستمبرکونبرد آزما ہوگا۔

اسکور کارڈ کچھ دیر میں ملاحظہ کریں

Facebook Comments