سیالکوٹ اسٹالینز نے دفاعی چیمپئین لاہور لائنز کو شکست دے دی

فیصل بینک ٹی ٹوئنٹی 2011ء کے تیسرے روز شائقین کرکٹ کو جس مقابلے کا سب سے زیادہ انتظار تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ دفاعی چیمپئن لاہور لائنز اور پانچ بار ٹائٹل اپنے نام کرنے والی سیالکوٹ اسٹالینز کے درمیان میچ تھا. کراچی کے نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کئی نامور کھلاڑی تو شریک تھے ہی لیکن سیالکوٹ اسٹالینز کے کپتان شعیب ملک کی موجودگی سب سے زیادہ نمایاں رہی جن کی حوصلہ افزائی کے لیے اہلیہ ثانیہ مرزا اپنے والد کے ہمراہ اسٹیڈیم میں موجود تھیں. شاید یہی وجہ ہے کہ اس میچ میں شائقین زیادہ پرجوش نظر آرہے تھے.

میچ شروع ہونے سے قبل ٹاس لاہور لائنز کے کپتان عبدالرزاق نے جیتا جسے میچ میں ان کی واحد کامیابی کہا جاسکتا ہے. کیوں کہ لاہور لائنز کی بلے بازی میں وہ دم خم نظر نہیں آیا کہ جس کے لیے وہ ایک خطرناک ٹیم سمجھی جاتی تھی. اننگ کے آغاز میں اوپنر احمد شہزاد نے اچھی بلے بازی کی تاہم ان کے ساتھی کھلاڑی کامران اکمل زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہرسکے. شروع ہی میں وکٹ گرنے کے باعث لائنز کی رفتار مزید دھیمی ہوگئی اور اسی دباؤ میں پہلے احمد شہزاد اور پھر عمر اکمل نے بھی اپنی وکٹ گنوادی. ایسے میں کپتان عبدالزاق نے ناصر جمشید کے ہمراہ اچھی شراکت قائم کی اور لاہور لائنز کی سنچری 16 ویں اوور میں مکمل کی. اگلا اوور لائنز کے لیے تباہی کا پیغام لے کر آیا جس میں اسٹالینز ٹیم کے مایہ ناز تیز گیند باز رانا نوید الحسن نے مسلسل دو گیندوں پر دونوں سیٹ بلے بازوں کو رخصت کر کے لاہور لائنز کو پیچھے دھکیل دیا. رہی سہی کسر اگلے اوور میں عبدالرحمن نے مزید دو وکٹ حاصل کر کے پوری کردی. لاہور لائنز کے باقی ماندہ کھلاڑی اسکور میں زیادہ اضافہ نہ کرسکے اورپوری ٹیم 20 ویں اوور میں صرف 121 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی. سیالکوٹ کی جانب سے رانا نوید نے تین جبکہ رضا حسن، سرفراز احمد اور عبدالرحمن نے دو، دو شیر شکار کیئے.

سیالکوٹ کی باری آئی تو ابتداء میں محسوس ہورہا تھا کہ لاہور کے شیر میدان مارنے کے لیے پر عزم ہیں. شعلہ فشاں عمران نذیر کو 8 رنز تک محدود کردینے کے بعد لائنز گیند بازوں نے دوسرے اوپنر فیصل نوید کو بھی جلد رخصت کردیا. اس موقع پر شکیل انصار اور شاہد یوسف کے درمیان 70 گیندوں پر 72 رنز کی شاندار شراکت داری قائم ہوئی جس نے اسٹالینز کو ایک بار پھر برتر مقام پر لاکھڑا کیا. 84 کے مجموعی اسکور پر لائنز گیند باز وہاب ریاض نے شکیل انصار کا کیچ اپنی ہی گیند پر تھام کر انہیں پویلین بھیج دیا. تیسری وکٹ گرنے کے باوجود شاہد یوسف نے کسی بھی گیند باز کو خاطر میں لائے بغیر ہدف کا تعاقب جاری رکھا. بالآخر لائنز کے کپتان عبدالرزاق نے شاہد کو اعزاز چیمہ کی مدد سے قابو کرلیا تاہم اس وقت تک میچ مکمل طور پر لاہور کی گرفت سے نکل چکا تھا. اسٹالینز کو فتح کے لیے محض دو رنز درکار تھے جسے آخری اوور کی پہلی گیند پر شعیب ملک کی جانب سے وہاب ریاض کو چوکا رسید کر کے حاصل کرلیا گیا. لائنز کی گرنے والی چار وکٹیں بالترتیب اعزاز چیمہ، رضا علی ڈار، وہاب ریاض اور عبدالرزاق کے حصے میں آئیں.

سیالکوٹ اسٹالینز کے شاہد یوسف کو بہترین اننگ کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا. انہوں نے انتہائی ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے 52 گیندوں پر صرف 3 چوکوں کی مدد سے 47 رنز بنائے.

لاہور لائنز اور سیالکوٹ اسٹالینز کے درمیان سیمی فائنل تک رسائی کی جنگ، جسے کوارٹر فائنل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، اسٹالینز کے نام رہی. اپنے پہلے میچ سیالکوٹ نے حیدرآباد ہاکس کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے کو 9 وکٹ سے شکست دی تھی. یہی وجہ ہے کہ اب اسٹالینز ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کروانے کی بہترین پوزیشن میں معلوم ہوتی ہے. تاہم اس بات کا فیصلہ تو گروپ اے سے منتخب ہونے والی بہترین ٹیم لاہور ایگلز کے خلاف سیمی فائنل میں ہی ہوگا جو یکم اکتوبر کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم ہی میں کھلا جائے گا.

Facebook Comments