نیوزی لینڈ کی ہار؛ پاکستان فتح سے ہمکنار؛ سیریز برابر

اسکور کارڈ:
پاکستان: 293/7 (محمد حفیظ: 115؛ ساؤتھی: 57/2)
نیوزی لینڈ: 250/9 (اسٹائرس: 46؛ عمر گل: 31/2)
حتمی نتیجہ: پاکستان 43 سے فتحیاب۔

نیوزی لینڈ کے دورہ پر موجود پاکستانی ٹیم نے 6 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی سیریز 1-1 سے برابر کردی۔ کرائسٹ چرچ کے اے ایم آئی اسٹیڈیم پر کھیلا جانے والے سیریز کا تیسرا میچ مکمل طور پر پاکستانی ٹیم کے نام رہا۔ میچ پر ہمہ وقت پاکستانی ٹیم چھائی رہی۔ ماسوائے چند منٹوں کے کسی بھی وقت میزبان ملک کو کھیل پر برتری کا موقع حاصل نہ ہو سکا اور یوں پہلے ایک روزہ مقابلہ میں فتح سے سیریز کا آغاز کرنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم جیت کے سلسلہ کو جاری نہ رکھ سکی۔

میچ سے قبل نیوزی لینڈ کے کپتان روس ٹیلر نے پٹاس جیت کر ہلے پاکستان کو بلے بازی کی دعوت دی۔ اننگ کا آغاز محمد حفیظ اور احمد شہزاد نے بارش سے متاثر ہونے والے گزشتہ میچ کے برعکس محتاط انداز سے کیا۔ صرف 2 رنز کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو پہلا نقصان احمد شہزاد (0) کی صورت میں ہوا جب وہ ٹم ساؤتھی کی گیند پر دوسری سلپ میں کھڑے کائل ملز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد محمد حفیظ کا ساتھ دینے کامران اکمل (6) کو بھیجا گیا تاہم وہ بھی اسکور میں صرف 6 کا اضافہ کرنے کے بعد ساؤتھی کا شکار بنے۔ صرف 4 اوور میں 2 وکٹیں گرنے کے بعد محمد حفیظ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو سمجھیے نیوزی لینڈ کے بالرز کا برا وقت شروع ہوگیا۔ انہوں نے ساؤتھی سے اپنے دو ساتھیوں کو آؤٹ کرنے کا بدلا ان کے اگلے ہی اوور میں 2 چوکے رسید کر کے لیا۔ ان کے ساتھی بلے باز یونس خان تو ایک دو رنز لینے پر اکتفا کرتے رہے تاہم محمد حفیظ نے ہر بالر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ساؤتھی کی جگہ ہمیش بینیٹ کو گیند کرانے کے لیے لایا گیا تو حفیظ نے ایک چوکے اور پھر لانگ آن پر ایک چھکے سے ان کا استقبال کیا۔ پاکستان کا اسکور ابھی 56 تک ہی پہنچا تھا کہ یونس خان (12) نے جیکب اورم کی گیند پر ملز کے ہاتھوں اپنی وکٹ گنوا دیں۔ اس موقع پر مصباح الحق نے کریز پر اپنی "ٹیسٹ اننگ" کا آغاز کیا تاہم دوسری جانب حفیظ کی برقی رفتار اننگ جاری رہی۔

محمد حفیظ نے اپنے کیریئر کی بہترین اننگ تراشی (© گیٹی امیجز)

حفیظ کو 18 ویں اوور میں 49 کے انفرادی اسکور پر ایک موقع ملا جب جیکب اورم کی گیند پر بریڈن میکولم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوتے بال بال بچے تاہم اس کے بعد بھی ان کے رنز بنانے کی رفتار میں کمی نہ آئی۔ ان کے ساتھی کھلاڑی مصباح الحق کو بھی ایک موقع 8 کے انفرادی اسکور پر ملا جب اپنا پہلا ایک روزہ میچ کھیلنے والے لیوک ووڈکوک کی گیند پر میکولم نے انہیں اسٹمپ کرنے کا موقع گنوایا۔ ان دونوں پاکستانی بلے بازوں کے درمیان 94 رنز کی شراکت کا اختتام مصباح الحق (35) کے آؤٹ ہونے پر ہوا۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی اسکور 150 تھا جب عمر اکمل حفیظ کا ساتھ دینے کریز پر پہنچے اور جلد ہی حفیظ کا سا انداز اپناتے ہوئے جارحانہ کھیل شروع کردیا۔ 42ویں اوور میں حفیظ نے ایک روزہ مقابلوں میں اپنی پہلی سینچری مکمل کی اور پھر 44ویں اوور میں ملز کو ایک چھکا لگانے بعد اگلی ہی گیند پر روس ٹیلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ ان کی 115 کی شاندار اننگ میں 2 چھکے اور 12 چوکے شامل تھے۔ حفیظ کی رخصتی کے بعد آفریدی نے میدان میں قدم رکھتے ہی اسکور بنانے کی رفتار کو دوگنا کردیا۔ کپتان شاہد آفریدی نے عمر اکمل کے ہمراہ نیوزی لینڈ کے بالرز کی گیندوں کو باؤنڈری کی بھرپور سیر کروائی اور چھٹی وکٹ کی شراکت میں صرف 26 گیندوں پر 69 رنز بنائے۔ 271 کے مجموعی اسکور پر عمر اکمل (44) بھی پویلین لوٹ گئے جس کے بعد عبدالرزاق کو گراؤنڈ میں بھیجا گیا۔ آخری اوور کی دوسری گیند پر آفریدی بینیٹ کی گیند پر کاٹ بی ہائینڈ ہوگئے۔ 25 گیندوں پر 65 رنز کی دھواں دھار اننگ کے دوران آفریدی کے بلے نے 5 چھکے اور 5 چوکے اگلے۔ یوں پاکستان جارحانہ بلے بازی کی بدولت 293 کا مشکل ہدف نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کے سامنے رکھ چھوڑا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اپنے نئے کپتان روس ٹیلر کے پہلے بالنگ کرنے کے فیصلہ کو کوستے ہوئے بلے بازی کے آغاز کیا جس کے لیے مارٹن گپٹل اور جیمی ہاؤ کو میدان میں بھیجا گیا۔ دونوں اوپنرز نے تیز کھیل سے اننگ کی شروعات کی اننگ کی دوسری ہی گیند پر گپٹل نے عبدالرزاق کو چوکا رسید کردیا۔ اگلے اوور میں جیمی ہاؤ نے سہیل تنویر کی پہلی ہی گیند پر چوکا جڑ کر پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ گپٹل اور ہاؤ نے پاکستان بالر کی ہر خراب گیند کو باؤنڈری لائن کی راہ دکھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 44 کے مجموعی اسکور پر نیوزی لینڈ کو پہلا نقصان اور پاکستان کو پہلی کامیابی ملی جب جیمی ہاؤ (24) کو سہیل تنویر نے عمر اکمل کے ساتھ ٹھکانے لگا دیا۔ اس کے بعد کپتان روس ٹیلر (6) آئے تاہم وہ بھی عمر گل کی گیند پر پہلی سلپ میں کھڑے یونس خان کو کیچ تھما کر جلد ہی پویلین لوٹ گئے۔ تین اوور بعد وہاب ریاض نے احمد شہزاد کی مدد سے دوسرے اوپنر گپٹل (39) کو بھی قابو کر لیا۔ 80 رنز پر 3 کھلاڑیوں کے نقصان کے بعد اسکاٹ اسٹائرس اور کین ولیمسن نے ٹھہر کر بیٹنگ کی اور ٹیم کے مجموعی اسکور کو سست رفتاری سے آگے بڑھانے لگے۔ اس دوران پاکستانی کھلاڑیوں نے رن آؤٹ کرنے کے کئی مواقع ضائع کیے تاہم 33 ویں اوور میں حفیظ نے اسٹائرس (46) کی اننگ کا خاتمہ کردیا جب بلیک کیپس کا اسکور 161 رنز تھا۔ دو ہی اوور بعد وہاب ریاض نے ولیمسن (42) کو بھی پویلین کی راہ دکھا دی اور رہی سہی کسر اگلے ہی اوور میں عمر اکمل نے برینڈم میکولم کو رن آؤٹ کر کے پوری کردی۔

182 پر 6 کھلاڑی آؤٹ ہو جانے کے بعد نیوزی لینڈ کا کوئی بھی بلے باز جم کر بلے بازی نہ کر سکا۔ جیکب اورم اور ڈیبیو کرنے والے ساتھی کھلاڑی لیوک ووڈکوک نے کچھ دیر کے لیے بیٹنگ کو سہارا دینے کی کوشش کی۔ اس دوران دونوں کھلاڑیوں کو ایک ایک موقع ملا جب یونس خان نے اورم کا کیچ ڈراپ اور عمر اکمل نے ووڈکوک کو رن آؤٹ کرنے کا موقع گنوا دیا۔ تاہم یہ جوڑی بھی اسکور میں صرف 28 کا اضافہ کر سکی۔ یوں نیوزی لینڈ کو ساتواں نقصان جیکب اورم (17) کی صورت میں اٹھانا پڑا جن کا کیچ سہیل تنویر کی گیند پر محمد حفیظ نے تھاما۔ 210 کے مجموعی اسکور میں صرف 7 رنز اضافہ کے بعد ووڈکوک عمر گل کے گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ 47 ویں اوور میں شاہد آفریدی نے کائل ملز (17) کو ٹھکانے لگا کر پاکستانی فتح پر مہر ثبت کردی۔ آخری اوور کرانے کے لیے گیند احمد شہزاد کو دی گئی جس کی دوسری گیند پر عمر اکمل نے ایک مشکل کیچ پکڑنے کی ناکام کوشش کی۔ اننگ کی آخری گیند پر ٹم ساؤتھی نے احمد شہزاد کو زور دار چھکا لگایا تاہم اب بہت دیر ہوچکی تھی اور فتح پاکستانی کھلاڑیوں کے قدم چوم رہی تھی۔

پاکستانی اننگ کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے والے محمد حفیظ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جنہوں نے اپنے کیریئر کے 61 ویں ایک روزہ مقابلہ میں 115 رنز کی بہترین اننگ تراشی۔ حفیظ کے بعد عمر اکمل اور آفریدی نے بھی پاکستان کی 43 رنز کی فتح میں اہم کردار ادا کیا جس کا اندازہ آخری دس اوور میں 126 رنز کے اضافہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی بالرز خصوصاً عمر گل نے بھی نپی تلی بالنگ کے ذریعے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو ہدف کے تعاقب سے باز رکھا۔ فیلڈنگ کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال دونوں ٹیموں کے لیے کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی۔ پہلے نیوزی لینڈ اور پھر پاکستان دونوں نے مخالف کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے مواقع گنوائے۔

بلیک کیپس اور گرین شرٹس کے درمیان 6 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی سیریز اب 1-1 سے برابر ہوچکی ہے۔ دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کا چوتھا میچ یکم فروری بروز منگل نیپئیر میں کھیلا جائے گا۔ اب دیکھنا ہے کہ جارحانہ بلے بازی کی بدولت میچ میں کامیابی حاصل کرنے والی پاکستان ٹیم جیت کے سلسلے کو طول دیتی ہے یا پھر نیوزی لینڈ سیریز کے پہلے میچ کی طرح پاکستانی شاہین کو زیر کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

Facebook Comments