راولپنڈی سیمی فائنل میں پہنچ گیا، فیصل آباد کی پیشرفت کا خاتمہ

راولپنڈی ریمز نے گروپ میں مسلسل تیسری فتح سمیٹتے ہوئے سیمی فائنل میں اپنی جگہ پکی کرلی اور مصباح الحق کی زیر قیادت فیصل آباد وولفز کی پیشرفت کا خاتمہ کر دیا۔ راولپنڈی سیمی فائنل میں پشاور پینتھرز کا سامنا کرے گا جس نے مقامی فیورٹ کراچی ڈولفنز کو حیران کن شکست سے دوچار کر کے فائنل فور میں مقام حاصل کیا ہے۔

ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی راولپنڈی ریمز کی اننگز کی خاص بات 46 رنز پر 4 وکٹیں گرنے کے بعد 21 سالہ عمر امین اور وکٹ کیپر جمال انور کی عمدہ بلے بازی تھی۔ عمر امین نے 37 گیندوں پر مشتمل 53 رنز کی اننگز میں 7 چوکے جڑے اور جمال انور کے ساتھ 97 رنز کی فتح گر شراکت قائم کی۔ جمال نے 34 گیندوں پر 41 قیمتی رنز بنائے اور قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز رکھنے والے عمر کا بھرپور ساتھ دیا۔

اٹھارہویں اوور میں سعید اجمل نے عمر امین کو ٹھکانے لگایا تو راولپنڈی کے رنز بنانے کی رفتار دھیمی پڑ گئی تاہم وہ فیصل آباد وولفز کو 166 رنز کا ایک مشکل ہدف دینے میں کامیاب ہوا۔

فیصل آباد کی جانب سے سعید اجمل نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ عبد الرؤف، اسد علی، محمد طلحہ اور خرم شہزاد نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

جواب میں فیصل آباد کو راولپنڈی کی تباہ کن گیند بازی کی تاب نہ لا سکا جو پہلے تینوں اوورز میں اُس کی قیمتی وکٹیں لے اُڑے۔ کپتان سہیل تنویر کے ہاتھوں پہلی ہی گیند پر آصف حسین آؤٹ ہوئے تو محمد رمیز نے دوسرے اینڈ سے آصف علی کو ٹھکانے لگا دیا۔ دونوں اوپنرز صفر پر پویلین سدھارے۔ فیصل آباد ابھی اِس دھچکے سے سنبھلا ہی نہ تھا کہ سہیل تنویر نے اپنے اگلے اوور میں محمد سلمان کو بھی آؤٹ کر کے فیصلہ کن جھٹکا لگا دیا۔

کچھ دیر بعد خرم شہزاد کے رن آؤٹ اور عمر امین کی جانب سے صابر حسین کی وکٹ حاصل کرنے سے فیصل آباد کی 39 رنز پر 5 وکٹیں گر چکی تھیں اور میچ میں اس کی پوزیشن انتہائی نازک ہوچکی تھی لیکن کپتان مصباح الحق نے عمران خالد کے ساتھ مل کر اس مشکل صورتحال میں ٹیم کو سنبھالا اور چھٹی وکٹ پر 66 رنز کا اضافہ کیا۔ اگر دونوں بلے باز آخر تک کھیلتے رہتے تو شاید ممکن تھا کہ فیصل آباد میچ نکال لیتا لیکن 16 ویں اوور میں اویس ضیاء نے میچ کی سب سے قیمتی وکٹ مصباح الحق کی صورت میں حاصل کی جنہوں نے ایک چھکے اور 3 چوکوں کی مدد سے 36 گیندوں پر 43 رنز بنائے۔ 19 ویں اوور میں فیصل آبادکی آخری امید کا چراغ بھی گل ہو گیا جب عمران خالد 48 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے۔ ان کی اننگز ایک چھکے اور 4 چوکوں سے مزید تھی۔ محمد طلحہ اور عبد الرؤف نے اختتامی لمحات میں میچ کو پلٹنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے اور مقررہ 20 اوورز کے اختتام تک فیصل آباد 8 وکٹوں کے نقصان پر 158 رنز ہی بنا پایا اور یوں 7 رنز کے مارجن سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔

راولپنڈی کی جانب سے کپتان سہیل تنویر اور محمد رمیز نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ عمر امین اور اویس ضیاء کو ایک، ایک وکٹ ملی۔

عمر امین کو شاندار آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

رواں سال سپر ایٹ ٹی ٹوئنٹی کپ 2011ء جیتنے والا راولپنڈی ریمز اب سیمی فائنل میں پشاور پینتھرز کے مدمقابل ہوگا۔

Facebook Comments