آفریدی کی تیز ترین سنچری؛ 15 سالہ ریکارڈ آج بھی برقرار

1996ء کے عالمی کپ کا آغاز بہت توقعات کے ساتھ ہوا کیونکہ اس میں شریک پاکستانی ٹیم تاریخ کی بہترین قومی ٹیموں میں شمار ہوتی تھی۔ وسیم اکرم اور وقار یونس پر مشتمل پیس اٹیک، سعید انور اور عامر سہیل کی اوپننگ جوڑی، مشتاق احمد جیسا شاندار اسپنر اور انضمام الحق اور جاوید میانداد پر مشتمل مڈل آرڈر کی حامل پاکستانی ٹیم دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی تھی لیکن اس ٹیم کا سفر کوارٹر فائنل میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں تمام ہوا۔ پاکستان میں، جہاں دفاعی چیمپئن اور میزبان ہونے کی وجہ سے کرکٹ بخار اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا، اس شکست کے بعد نفرت کی آگ میں بدل گیا۔ قومی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں پر طرح طرح الزامات لگائے جانے لگے۔ خصوصاً وسیم اکرم شائقین کرکٹ کے زیر عتاب آئے جنہوں نے مظاہروں میں ان کے پتلے تک جلائے۔ یوں پاکستان میں کرکٹ شائقین کی تعداد میں یکسر کمی آ گئی اور عوام کی بڑی تعداد نے کرکٹ دیکھنا چھوڑ دی۔

اس صورتحال میں پاکستان سعید انور کی زیر قیادت کینیا کرکٹ ایسوسی ایشن کے صد سالہ جشن پر منعقدہ ٹورنامنٹ میں شریک ہوا جہاں اس کا مقابلہ میزبان کینیا کے علاوہ جنوبی افریقہ اور سری لنکا جیسے مضبوط حریفوں سے ہوا۔ جنوبی افریقہ دنیائے کرکٹ کی بہترین ٹیموں میں سے ایک تھی جبکہ سری لنکا تو 1996ء میں نیا نویلا عالمی چیمپئن بنا تھا۔

اس چار ملکی ٹورنامنٹ میں پاکستان اپنے اہم اسپنر مشتاق احمد کی خدمات سے محروم تھا اور ان کی جگہ کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاہد آفریدی کو بطور لیگ اسپنر شامل کیا گیا۔ کینیا کے خلاف کھیلے گئے پہلے میچ میں نہ وہ بطور باؤلر کوئی کامیابی حاصل کر پائے اور نہ ہی انہیں بلے بازی کرنے کا موقع مل سکا تاہم سری لنکا کے خلاف اہم مقابلے سے قبل شاید سعید انور اس 16 سالہ نوجوان کی صلاحیتوں کو بھانپ گئے۔ سعید انور کا تعلق کیونکہ خود بھی کراچی سے تھا اور وہ کسی نہ کسی سطح پر شاہد آفریدی سے واقف ضرور تھے اس لیے سری لنکا کے خلاف میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جیسے ہی سلیم الٰہی کی صورت میں پاکستان کی پہلی وکٹ گری سعید انور نے شاہد خان آفریدی کو میدان میں بلا لیا۔

یہ 4 اکتوبر 1996ء ہی کا دن تھا جب شاہد آفریدی نے کیریئر کی پہلی اور ناقابل فراموش بین الاقوامی اننگز کھیلی۔ انہوں نے جس طرح آتے ہی عالمی چیمپئن باؤلرز پر دھاوا بولا، اس نے کرکٹ کی دنیا میں 'شیر کی آمد' کا اعلان کر دیا۔ شاہد نے اننگ کی دوسری ہی گیند کو چھکے کی راہ دکھائی اور پھر تو جیسے ان کے بلے نے رنز کی آگ اگلنا شروع کر دی۔ سری لنکا کی اسپن باؤلنگ شاہد آفریدی کے سامنے بالکل بے بس نظر آرہی تھے جو اس وقت حریف ٹیم کی سب سے مضبوط حصہ سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے سنتھ جے سوریا کی کل 11 گیندوں کا سامنا کیا اور ان پر 41 رنز سمیٹے جس میں ایک ہی اوور میں حاصل کردہ 28 رنز بھی شامل تھے۔

شاہد آفریدی کی اس شعلہ فشاں اننگز میں 11 بلند و بالا چھکوں اور 6 چوکوں سے مزین تھی۔ کرکٹ کی بائبل کہلانے والے جریدے 'وزڈن' اس اننگز پر کچھ یوں تبصرہ کیا نیروبی جیم خانہ کوئی چھوٹا میدان نہیں تھا، اور شاہد آفریدی کے بیشتر چھکے میدان سے باہر کار پارکنگ میں گرے۔ وہ کسی بھی میدان میں چھکے ہی ہوتے۔ یہ اندھادھند لگائے گئے شاٹ بھی نہیں تھے، بلکہ کلین ہٹنگ کا ایک شاندار مظاہرہ تھا۔

شاہد آفریدی نے 37 ویں گیند پر مرلی دھرن کو سویپ شاٹ کھیل کر ایک چوکا حاصل کیا اور یوں ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری بنانے والے بلے باز بن گئے۔ ان سے قبل یہ اعزاز سنتھ جے سوریا کے پاس تھا جنہوں نے 48 گیندوں پر یہ کارنامہ انجام دیا تھا لیکن شاہد نے اس سے کہیں کم گیندوں پر تہرے ہندسے کی اننگز کھیلی۔ شاہد صرف 50 منٹ میدان میں موجود رہے اور اس میں انہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جو اس سے قبل کوئی بلےباز انجام دے سکا تھا اور نہ ہی اس کے بعد سے آج تک کوئی کر سکا۔

شاہد کی اس تاریخ ساز اننگز اور کپتان سعید انور کی سنچری کی بدولت پاکستان نے 371 رنز کا بڑا مجموعہ اکٹھا کیا جو اس وقت ایک روزہ کرکٹ کا دوسرا سب سے بڑا اسکور تھا۔ بعد ازاں پاکستان نے میچ 82 رنز سے جیتا اور شاہد آفریدی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

کینیا کے شائقین کرکٹ جنہوں نے بین الاقوامی سطح کے بہت کم مقابلے دیکھے ہوئے، اک ایسی اننگز دیکھنے والے خوش نصیبوں میں شامل ہوئے جس کی مثال کرکٹ کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ بعد ازاں کئی بلے بازوں نے آفریدی کے اس ریکارڈ کو زیر کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اس کے عشر عشیر کو بھی نہ چھو سکے۔

یہ میچ پاکستان میں براہ راست نہیں دکھایا گیا تھا۔ جب اگلے روز اس اننگز کی خبریں اخبارات کی زینت بنیں تو گویا کرکٹ شائقین کی سب سے بڑی طلب اس وڈیو کی مانگ تھی۔ کچھ عرصے میں جب اس اننگز کی وڈیو کیسٹیں مقامی مارکیٹوں میں دستیاب ہوئیں تو ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔

کیریئر کے اس شاندار آغاز نے گمنام شاہد خان آفریدی کو راتوں رات پاکستان میں سب سے زیادہ چاہے جانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔

شاہد خان آفریدی کی اننگ کی تفصیلات

گیندیں 6s 5s 4s 3s 2s 1s 0s
37 11 0 6 0 2 7 10

گیندوں پر بنائے گئے رنز کی تفصیلات

گیند اوور گیند باز رنز مجموعی رنز 6s 5s 4s 3s 2s 1s
1 10.2 دھرماسینا 0 0* 0 0 0 0 0 0
2 10.3 دھرماسینا 6 6* 1 0 0 0 0 0
3 10.4 دھرماسینا 1 7* 1 0 0 0 0 1
4 11.1 چمندا واس 0 7* 1 0 0 0 0 1
5 11.2 چمندا واس 4 11* 1 1 0 0 0 1
6 11.3 چمندا واس 0 (ن ب) 11* 1 1 0 0 0 1
7 11.3 چمندا واس 0 11* 1 1 0 0 0 1
8 11.4 چمندا واس 6 17* 2 1 0 0 0 1
9 11.5 چمندا واس 0 17* 2 1 0 0 0 1
10 11.6 چمندا واس 0 17* 2 1 0 0 0 1
11 12.2 دھرماسینا 6 23* 3 1 0 0 0 1
12 12.3 دھرماسینا 6 29* 4 1 0 0 0 1
13 12.4 دھرماسینا 1 30* 4 1 0 0 0 2
14 12.6 دھرماسینا 1 31* 4 1 0 0 0 3
15 13.1 سنتھ جے سوریا 6 37* 5 1 0 0 0 3
16 13.2 سنتھ جے سوریا 6 43* 6 1 0 0 0 3
17 13.3 سنتھ جے سوریا 2 45* 6 1 0 0 1 3
18 13.4 سنتھ جے سوریا 6 51* 7 1 0 0 1 3
19 13.5 سنتھ جے سوریا 4 55* 7 2 0 0 1 3
20 13.6 سنتھ جے سوریا 4 59* 7 3 0 0 1 3
21 15.1 سنتھ جے سوریا 0 59* 7 3 0 0 1 3
22 15.2 سنتھ جے سوریا 0 (lb) 59* 7 3 0 0 1 3
23 15.4 سنتھ جے سوریا 6 65* 8 3 0 0 1 3
24 15.5 سنتھ جے سوریا 6 71* 9 3 0 0 1 3
25 15.6 سنتھ جے سوریا 1 (ن ب) 72* 9 3 0 0 1 4
26 16.2 مرلی دھرن 4 76* 9 4 0 0 1 4
27 16.3 مرلی دھرن 1 77* 9 4 0 0 1 5
28 16.5 مرلی دھرن 1 78* 9 4 0 0 1 6
29 17.2 ڈی سلوا 0 (ن ب) 78* 9 4 0 0 1 6
30 17.2 ڈی سلوا 4 82* 9 5 0 0 1 6
31 17.3 ڈی سلوا 1 83* 9 5 0 0 1 7
32 18.1 مرلی دھرن 6 89* 10 5 0 0 1 7
33 18.2 مرلی دھرن 0 89* 10 5 0 0 1 7
34 18.3 مرلی دھرن 6 95* 11 5 0 0 1 7
35 18.4 مرلی دھرن 0 95* 11 5 0 0 1 7
36 18.5 مرلی دھرن 2 97* 11 5 0 0 2 7
37 18.6 مرلی دھرن 4 101* 11 6 0 0 2 7
38 19.2 ڈی سلوا 1 102* 11 6 0 0 2 8
39 19.4 ڈی سلوا 0 102* 11 6 0 0 2 8
40 19.5 ڈی سلوا 0 (و) 102* 11 6 0 0 2 8
40 19.5 ڈی سلوا 0 102* 11 6 0 0 2 8
41 19.6 ڈی سلوا آؤٹ 102 11 6 0 0 2 8

حریف گیند باز

گیند باز
گیندیں رنز 6s 5s 4s 3s 2s 1s
دھرماسینا 7 21 3 0 0 0 0 3
چمندا واس 7 10 1 0 1 0 0 0
سنتھ جے سوریا 11 41 5 0 2 0 1 1
مرلی دھرن 9 25 2 0 2 0 1 2
ڈی سلوا 8 6 0 0 1 0 0 2

Facebook Comments