بھارت انگلستان سیریز میں ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی استعمال نہیں ہوگی

بھارت اور امپائرز کے فیصلوں پر نظرثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر نیا تنازع کھڑا ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ نارائن سوامی سری نواسن کے بیانات نے ڈی آر ایس کے لازمی جُز 'ہاٹ اسپاٹ' کے مالک ادارے کو ناراض کر دیا ہے اور انہوں نے بھارت-انگلستان ایک روزہ سیریز کے لیے ٹیکنالوجی نہ لانے کا اعلان کیا ہے۔

بلے کا کنارہ چھو کر وکٹوں کے پیچھے آؤٹ یا بیٹ اینڈ پیڈ کیچز کا فیصلہ کرنے میں ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرتی ہے

بلے کا کنارہ چھو کر وکٹوں کے پیچھے آؤٹ یا بیٹ اینڈ پیڈ کیچز کا فیصلہ کرنے میں ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرتی ہے

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے حال ہی میں ڈی آر ایس کو تمام اقسام کی کرکٹ کے لیے لاگو کرتے ہوئے ہاٹ اسپاٹ کو اس کا لازمی جز قرار دیا تھا جبکہ بھارت کے شدید اعتراضات کے باعث بال ٹریکنگ ٹیکنالوجی کو اختیاری رکھا گیا تھا۔ لیکن بھارت کے حالیہ دورۂ انگلستان میں ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی بھی تنازع کی زد میں آئی خصوصاً ویزلین تنازع نے ڈی آر ایس کو اک نئے موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے۔گو کہ ہاٹ اسپاٹ کا مالک ادارہ بی بی جی اسپورٹس اس معاملے پر اپنی وضاحت پیش کر چکا ہے لیکن بھارت جیسے اہم ملک کا سامنا کرنا ان کے بس کی بات نہیں لگتی۔

رہی سہی کسر گزشتہ ماہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سالانہ عمومی اجلاس کے بعد سری نواسن نے پوری کر دی جنہوں نے کہا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ ہاٹ اسپاٹ کی صلاحیتوں پر اگلے آئی سی سی اجلاس میں سوال اٹھائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہاٹ اسپاٹ ناکافی ہے ، اور موجودہ صورتحال میں ہم ڈی آر ایس کو استعمال نہیں کرنا چاہتے حتیٰ کہ آئی سی سی کے مرتب کردہ کم ترین معیار پر بھی۔

ان تمام معاملات کے بعد اب جبکہ بھارت-انگلستان ایک روزہ سیریز سر پر کھڑی ہے ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کے مالک بی بی جی اسپورٹس کے چیف ایگزیکٹو ویرن برینن نے نارائن سوامی سری نواسن کے ہاٹ اسپاٹ اور ڈی آر ایس کے بارے میں تبصرے کے باعث ہاٹ اسپاٹ کی ٹیکنالوجی بھارت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگلستان میں کھیلی گئی حالیہ سیریز میں ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کے نتائج مایوس کن ضرور رہے اور متعدد مواقع پر ہم اس سے زیادہ بہتر نتیجوں کی توقع کر رہے ہیں تاہم بہتری کی گنجائش ہر وقت رہتی ہے اور ادارہ ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں چار نئے کیمرے خریدے گئے ہیں جو ہمارے خیال میں ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں میں زبردست اضافہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نئے کیمرے جنوبی نصف کرے کے موسم گرما کے دوران جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مقابلوں میں استعمال کیے جائیں گے۔

بھارت اور انگلستان کے درمیان 5 ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کا آغاز 14 اکتوبر کو ہو رہا ہے جس کے لیے انگلستان کی ٹیم بھارت پہنچ چکی ہے۔

Facebook Comments