ذوالقرنین حیدر کی فرسٹ-کلاس کرکٹ میں واپسی؛ آفریدی اور شعیب پر کڑی تنقید

پاکستان کے متنازع ٹیسٹ وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے قائداعظم ٹرافی میں شرکت کے ذریعے اپنے فرسٹ-کلاس کیرئیر کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے. انہوں نے زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے فیصل آباد کی ٹیم کے خلاف پہلا میچ کھیلا اور پہلے روز وکٹ کے عقب میں تین شکار کر کے اپنی اچھی فارم کا بھرپور اظہار کیا ہے.

ذوالقرنین حیدر

ذوالقرنین حیدر گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے درمیان لندن فرار ہو گئے تھے (تصویر: گیٹی امیجز)

ذوالقرنین حیدر نے معروف انگریزی ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج سے اپنے کیرئیر کا از سر نو آغاز کر رہے ہیں. ساتھ ہی ذوالقرنین کا یہ بھی ماننا ہے کہ قومی ٹیم میں ان کی واپسی بہت مشکل ہوچکی ہے تاہم وہ متحدہ عرب امارات سے بغیر کسی اطلاع کے ٹیم کو چھوڑ کر لندن روانگی کے عمل کو اب بھی درست خیال کرتے ہیں.

25 سالہ ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ دنیا انہیں بے وقوف سمجھتی ہے لیکن ان کے خیال میں انہوں نے بالکل درست کام کیا تھا. سابق وکٹ کیپر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر کو خطرے میں ڈال کر غلط چیزوں کے خلاف بلا خوف و خطر آواز اٹھائی ہے.

شاہد آفریدی اور شعیب اختر کے حالیہ بیانات کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وکٹ کیپر بلے باز نے کہا کہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ وہ اپنے عمل سے پورا کیرئیر داؤ پر لگا رہیں ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے حق کا راستہ اپنایا کیوں کہ وہ شاہد آفریدی یا شعیب اختر جیسے نہیں جو اپنے کیرئیر مکمل ہونے کے بعد اس سسٹم پر تنقید کر رہے ہیں. ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ ان دونوں کھلاڑیوں نے اسی نظام سے بے انتہا عزت اور پیسہ کمایا اور اب جب یہ چیزیں ان کی دسترس سے باہر ہیں تو پاکستانی کرکٹ کے نظام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں. ذوالقرنین نے سوال اٹھایا کہ شاہد اور شعیب یہ باتیں اپنا کیرئیر ختم کرنے کے بعد ہی کیوں کر رہے ہیں؟

یاد رہے کہ ذوالقرنین حیدر گزشتہ سال نومبر میں متحدہ عرب امارات میں جاری جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے دوران ٹیم انتظامیہ کو آگاہ کیے بغیر ٹیم کو ابوظہبی چھوڑ کر لندن فرار ہو گئے تھے. بعد ازاں انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی کوشش کی جس میں ناکامی کے بعد رواں سال مئی میں وطن واپس پہنچے. اس دوران انہوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا جسے 12 مئی 2011ء کو واپس لے لیا. دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا باعث بننے والے ذوالقرنین کے اس اقدام پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا. ذوالقرنین حیدر واحد ٹیسٹ میچ کے علاوہ چار ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں.

گفتگو کے دوران ذوالقرنین حیدر نے ایک بار پھر پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ کرکٹ کے لیے ان کا جذبہ اور لگن اب بھی موجود ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ اپنی کارکردگی کے ذریعے سیلیکٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے. انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنا ایک اعزاز کی بات ہے اور اس کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوسکتی.

Facebook Comments