مصباح نے پاکستان کا بیڑہ پار لگا دیا، پاکستان دو وکٹ سے فتحیاب

قومی ٹیم میں واپسی کے بعد سے بلے بازی میں ذمہ دارانہ کردار نبھانے والے مصباح الحق نے اس مرتبہ ایک روزہ کرکٹ میں اپنی یادگار ترین اننگ کھیل کر پاکستان کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف دو وکٹوں سے فتح دلوا دی۔ فتح میں مصباح الحق کے ناقابل شکست 93 رنز نے اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح پاکستان کو 6 میچز کی سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔

نیپئر کے میک لینز پارک میں کھیلے گئے سیریز کے چوتھے ایک روزہ میچ نے کئی مرتبہ پلٹا کھایا۔ کبھی پاکستانی باؤلرز کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث یہ یک طرفہ میچ لگا تو نیوزی لینڈ کے فائٹ بیک کے باعث ان کی جانب پلٹتا دکھائی دیا۔ کبھی پاکستانی مڈل آرڈر کی ذمہ دارانہ شراکت داری کے باعث پاکستان کا پلڑا بھاری دکھائی دیا تو پے در پے وکٹیں گرنے پر بلیک کیپس کی میچ میں واپسی نظر آئی۔ لیکن یہ اعصاب شکن معرکہ میں مصباح الحق اور یونس خان کے اعصاب کی مضبوطی امتحان تھا۔ اور بالآخر آخری اوورز میں سہیل تنویر کے تین چوکوں نے نیوزی لینڈ کی شکست پر مہر ثبت کر دی۔

فاتحانہ شاٹ کھیلنے کے بعد مسرور مصباح الحق اور سہیل تنویر (گیٹی امیجز)

263 رنزکے تعاقب میں پاکستان یونس خان اور مصباح الحق کی چوتھی وکٹ پر 89 رنز کی ذمہ دارانہ شراکت کے باعث با آسانی میچ جیتنے کی پوزیشن میں تھا۔ اور 173 کے مجموعی اسکور پر اس کی محض تین وکٹیں گری تھیں۔ لیکن یونس خان کے رن آؤٹ اور 194 کے مجموعی اسکور پر ڈینیل ویٹوری کے ایک ہی اوور میں عمر اکمل اور کپتان شاہد آفریدی کے آؤٹ ہونے نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ اس موقع پر عبد الرزاق مصباح کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آئے اور ابتداء ہی میں ایک بلند و بالا چھکا لگا کر اپنے خطرناک ارادوں کو ظاہر کیا۔ اسی اوور میں مصباح الحق نے دو چوکے جڑے اور ٹم ساؤتھی کے اوور سے مجموعی طور پر 17 رنز لوٹے۔ 47 ویں اوور میں ایک گیند کو میدان سے باہر پھینکنے کی کوشش میں عبد الرزاق 23 کے انفرادی اسکور پر پویلین سدھار گئے۔ آخری تین اوورز میں پاکستان کو 24 رنز درکار تھے اور اس کی محض تین وکٹیں باقی تھیں لیکن نئے بلے باز وہاب ریاض نے مصباح الحق کو اسٹرائیک دینے کے بجائے فتح کی ذمہ داری خود لینے کی کوشش کی اور دوسری ہی گیند پر اسٹائرس کا نشانہ بن کر پاکستان کو مشکلات میں ڈال گئے۔

اس موقع پر پاکستان کی شکست کے امکانات بہت زیادہ دکھائی دے رہے تھے لیکن سہیل تنویر، جو قبل ازیں بالنگ میں بالکل ناکارہ ثابت ہوئے تھے، نے تین چوکے رسید کر کے پاکستان کو ایک اوور قبل ہی شاندار فتح دلوادی۔ سہیل کی 6 گیندوں پر 14 رنز کی اننگ نے پاکستان کو فتح سے ہمکنار تو کیا لیکن دوسرے اینڈ پر کھڑے مصباح الحق اپنی پہلی ایک روزہ سنچری سے محروم رہ گئے جو 91 گیندوں پر ایک چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے 93 رنز بنا چکے تھے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے اسکاٹ اسٹائرس نے تین جبکہ ڈینیل ویٹوری اور ہمیش بینیٹ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

قبل ازیں نیوزی لینڈ نے بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن پاکستانی پیسرز کی تباہ کن باؤلنگ کی وجہ سے 79 کے مجموعی اسکور تک پہنچتے پہنچتے اس کی 5 وکٹیں گر گئیں۔ اس موقع پر لوئر مڈل آرڈر نے اننگ کو سنبھالا دیا۔ برینڈن میک کولم اور جیمز فرینکلن کے درمیان چھٹی وکٹ پر 62 رنز کا اضافہ کیا۔ میک کولم نے 37 رنز بنائے۔

اس موقع پر ان کے بھائی ناتھن میک کولم میدان میں آئے اور ادھورا مشن پورا کرنے کے لیے فرینکلن کا ساتھ دینا شروع کیا۔ ساتویں وکٹ پر دونوں کھلاڑیوں نے مزید 64 رنز جوڑے۔ 44 ویں اوور مین جب فرینکلن 75 گیندوں پر 62 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو یہ نیوزی لینڈ کی گرنے والی آخری وکٹ تھی۔ ناتھن میک کولم نے کپتان ڈینیل ویٹوری کے ساتھ مل کر آخری چھ اوورز میں 57 رنز کا اضافہ کیا اور پاکستان کو 263 رنز کا ہدف دیا۔ ناتھن 58گیندوں پر 53 رنز بنا کر ناقابل شکست لوٹے۔ میک کولم برادران اور فرینکلن کی ذمہ دارانہ بلے بازی کی بدولت نیوزی لینڈ نے 170 رنز مزید جوڑے۔ گو کہ میک لینز پارک کی بیٹسمین دوست پچ پر 262 بہت کم اسکور تھا لیکن کم از کم اتنا ضرور تھا کہ ان کے باؤلرز اس کے دفاع کے لیےجان لڑا سکتے تھے۔

آخری اوورز میں نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے پاکستانی باؤلرز کی جم کر پٹائی کی خصوصا سہیل تنویر اور عمر گل کی جنہوں نے بالترتیب 9 اوورز میں 67 اور 7 اوورز میں 49 رنز دیے اور کوئی وکٹ بھی حاصل نہ کر سکے۔ وہاب ریاض نے تین جبکہ محمد حفیظ، شاہد آفریدی اور عبدالرزاق نے ایک، ایک وکٹ حاصل کیں۔ عبد الرزاق نے 7 اوورز میں محض 16 رنز دیے، اس کے باوجود آخری اوورز میں عمر گل اور سہیل تنویر کے کارگر ثابت نہ ہونے پر بھی ان کا استعمال نہ کرنا کپتان کی ناقص حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔

مصباح الحق کو شاندار اننگ کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

عالمی کپ سے چند روز قبل اہم بلے بازوں کا ذمہ دارانہ کردار پاکستان کے لیے خوش آئند ہے۔ لیکن تشویشناک بات باؤلنگ کا اہم کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد فیل ہو جانا ہے۔ جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی حیران کن فیصلے کرنا بھی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے جیسا عبدالرزاق کو بہترین باؤلنگ کرانے کے باوجود آخری اوورز میں موقع نہ دینا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پانچواں ایک روزہ بین الاقوامی میچ 3 فروری کو ہملٹن میں کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments