باؤلنگ کنسلٹنٹ بننے کو تیار ہوں لیکن کوچ نہیں: وسیم اکرم

ماضی کے عظیم گیند باز وسیم اکرم نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے باؤلنگ اٹیک کی صلاحیتوں کو تراشنے میں مدد دے سکتے ہیں تاہم کوچ کے امیدوار ہر گز نہیں ہیں۔

کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ کوچنگ ایک مشکل کام ہے اور میں بین الاقوامی سطح پر کوچنگ کے لیے خود کو اہل نہیں سمجھتا اور ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہوں لیکن میں باؤلنگ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے اپنی خدمات پیش کر سکتا ہوں۔

نئے کوچ کو کم از کم دو سال کے لیے مقرر کیا جانا چاہیے

نئے کوچ کو کم از کم دو سال کے لیے مقرر کیا جانا چاہیے

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ روز بروز بہتر ہوتی جا رہی ہے، ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں کی حامل ہے، لیکن ان کی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے چند ماہ پاکستانی ٹیم کے لیے بہت اہم ہیں، انہیں متحدہ عرب امارات میں سری لنکا اور انگلستان کے خلاف دو اہم سیریز کھیلنی ہیں، اور مجھے امید ہے کہ یہ دونوں سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو مستقبل قریب میں اچھے نتائج کے حصول کے لیے نئے کوچ کے ساتھ کم از کم دو سال کا معاہدہ کرنا چاہیے اور کپتان کو بھی اتنے عرصے تک مستقل مقرر کرنا چاہیے۔

وسیم اکرم نے کہاکہ حالیہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی بھرپور آمد دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوئی ہے تاہم بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان واپسی میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔

کرکٹ کی تاریخ کے بہترین گیند بازوں میں شمار ہونے والے وسیم اکرم اس وقت بھارتی پریمیر لیگ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے باؤلنگ کنسلٹنٹ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور ماضی میں اسی عہدے پر پاکستان کے لیے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments