پاکستان ڈی آر ایس کے لیے اسپانسر حاصل کرنے والا پہلا ملک بن گیا

پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے امپائرز کے فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کا خیر مقدم کیا اور اب اس نے نظام کے اطلاق کے لیے اسپانسر حاصل کر کے ایک اور تاریخ رقم کر دی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام نے کرک نامہ کو بتایا ہے کہ باضابطہ شراکت دار 'پیپسی' اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان سری لنکا اور انگلستان کے خلاف سیریز کے ایک روزہ مرحلے کے لیے ڈی آر ایس کے استعمال کو اسپانسر کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ یوں پاکستان یو ڈی آر ایس کے لیے اسپانسر حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے۔

رواں سال بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ڈی آر ایس کو لازمی قرار دیا تھا

رواں سال بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ڈی آر ایس کو لازمی قرار دیا تھا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے ڈی آر ایس کو لازمی قرار دیے جانے کے بعد یہ معاملہ بحث طلب بن چکا ہے کہ اس پر آنے والی کثیر لاگت پاکستان جیسے مالی لحاظ سے کمزور بورڈز کے لیے گمبھیر مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمبابوے اور اب بنگلہ دیش اپنی ہوم سیریز میں اس کو استعمال نہیں کر پا رہے۔ پاکستان سری لنکا و انگلستان کے خلاف 'ہوم سیریز' کے لیے ایک روزہ مرحلے میں ڈی آر ایس کے استعمال کا اعلان پہلے ہی کر دیا تھا تاہم اب اسپانسر ملنے کے بعد وہ اس پر آنے والے اخراجات سے بری الذمہ ہو گیا ہے۔البتہ ٹیسٹ سیریز اب بھی ڈی آر ایس سے محروم رہے گی۔

امپائرز کے فیصلوں پر نظر ثانی کے اِس نظام کے اخراجات ایک دن میں 30 لاکھ روپے ہیں یعنی 5 ایک روزہ مقابلوں کی سیریز پر ڈیڑھ کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

گو کہ پاکستان ملک میں کرکٹ کے خاتمے کے بعد مالی مسائل کا شکار ہے لیکن ڈی آر ایس کے پرانے حامی ہونے کے باعث پاکستان نے اپنی بساط کے مطابق اسے استعمال کر رہا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے رواں سال جون میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں ڈی آر ایس کو تمام ٹیسٹ اور ایک روزہ مقابلوں کے لیے لازمی قرار دیا تھا۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے کی سیریز 18 اکتوبر سے شروع ہو رہی ہے جبکہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں ہی اگلے سال جنوری میں انگلستان کے خلاف تین ٹیسٹ، چار ایک روزہ اور تین ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلوں کی سیریز کھیلے گا۔

Facebook Comments