آئی سی سی نے گھٹنے ٹیک دیے، ڈی آر ایس کی لازمی حیثیت ختم

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور امپائر کے فیصلے پر نظر ثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کو ایک مرتبہ پھر اختیاری قرار دے دیا ہے یعنی کہ اگر کھیلنے والے دونوں ممالک رضامند ہوں تو اس کا استعمال کر سکتے ہیں، البتہ اس کا استعمال لازمی نہیں ہوگا۔

آئی سی سی نے رواں سال جون میں ڈی آر ایس کو لازمی قرار دیا تھا تاہم اس نظام کے سب سے بڑے مخالف بھارت کی جانب سے حالیہ بیانات اور بھارت-انگلستان سیریز میں نظام کی مبینہ خرابیاں ظاہر ہونے کے بعد آئی سی سی ایگزیکٹو بورڈ نے اپنی گزشتہ پوزیشن پر جانے کا اعلان کر دیا ہے۔

امپائروں کے فیصلے پر نظرثانی کا نظام صرف تین ماہ لازمی رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچا

امپائروں کے فیصلے پر نظرثانی کا نظام صرف تین ماہ لازمی رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچا

کرک نامہ کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق اس کے باوجود ایگزیکٹو بورڈ ٹیکنالوجی کے استعمال کا حامی رہے گا اور اس کو بہتر بنانے اور استعمال کرنے والے ممالک کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے اعتراف کیا کہ امپائروں کے فیصلوں کو درست بنانے میں ڈی آر ایس نے اہم کردار ادا کیا ہے اور درست فیصلوں کی تعداد میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا لیکن چند حلقے ایسے ہیں جو اس کی قابلیت کے قائل نہیں ہیں۔ ہم اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتے رہیں گے اور ممالک کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ اس کو استعمال کریں یا نہ کریں۔

ہارون لورگاٹ نے ناراض حلقوں کا ذکر کر کے بھارت کی جانب واضح اشارہ کیا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ نارائن سوامی سری نواسن نے گزشتہ ماہ عہدہ سنبھالتے ہی ڈی آر ایس کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے کلی طور پر رد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہم ڈی آر ایس کو استعمال نہیں کرنا چاہتے حتیٰ کہ اس کے کم ترین معیار کے مطابق بھی۔ جون میں ہانگ کانگ میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں آئی سی سی نے ڈی آر ایس کو لازمی قرار دیتے ہوئے ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کو اس کا لازمی جز قرار دیا تھا جبکہ بال ٹریکنگ کو اختیاری حیثیت دی گئی تھی۔

ایگزیکٹو بورڈ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ڈی آر ایس آئی سی سی کے عالمی ایونٹس میں بدستور استعمال ہوگا۔

علاوہ ازیں بورڈ نے 2015ء کے عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے نئے نظام کی منظوری دی جس کے مطابق 10 مکمل اراکین کے علاوہ 4 ٹیمیں عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

آئی سی سی ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ آئینی احکامات کے مطابق 2012ء سے 2014ء تک آئی سی سی کی نائب صدارت کے لیے اپنے امیدواروں کی درخواستیں جمع کروائیں۔

ان اہم فیصلوں کے علاوہ ایگزیکٹو بورڈ نے تصدیق کی کہ وہ 2013ء میں آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کو ترجیح دے گا لیکن چیمپئنز ٹرافی کی جگہ اس کے انعقاد کو ممکن بنانے میں شدید معاشی چیلنج درپیش ہے۔ ہارون لورگاٹ نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہوگی اگر ٹیسٹ چیمپئن شپ کو 2017ء تک موخر کرنا پڑا۔

اجلاس میں آئی سی سی کے صدر شرد پوار، نائب صدر ایلن آئزک اور چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ کے علاوہ پاکستان، زمبابوے، انگلستان، آسٹریلیا، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ، بھارت اور نیوزی لینڈ کے بورڈ سربراہان /نمائندگان نے شرکت کی۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دبئی میں منعقد ہوا جس میں آئی سی سی کے مستقل رکن ممالک کے بورڈ سربراہان اور اعلیٰ شحصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں اہم معاملات پر غور کیا گیا۔

Facebook Comments