اسپاٹ فکسنگ مقدمہ: وکیل صفائی کی زبردست جرح، فون ہیک کرنے کے الزامات

برطانیہ کی عدالت میں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف دھوکہ دہی و بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے چھٹے روز تیز گیند باز محمد آصف کے وکیل نے استغاثہ کے اہم ترین گواہ اور اسکینڈل کو بے نقاب کرنے والے مصالحہ اخبار 'نیوز آف دی ورلڈ' کے سابق صحافی مظہر محمود کے خلاف سخت جرح کی۔ جس میں الزام لگایا گیا کہ مذکورہ صحافی نے پاکستانی کھلاڑیوں کے فون ہیک کیے، اور کھلاڑیوں کے ٹیکسٹ پیغامات غیر قانونی طور پر حاصل کیے۔

محمد آصف کے وکیل الیگزینڈر ملنے سے "نیوز آف دی ورلڈ" کی دکھتی رگ "فون ہیکنگ" پر ہاتھ رکھا (تصویر: AP)

محمد آصف کے وکیل الیگزینڈر ملنے سے "نیوز آف دی ورلڈ" کی دکھتی رگ "فون ہیکنگ" پر ہاتھ رکھا (تصویر: AP)

محمد آصف کے وکیل الیگزینڈر ملنے نے رواں سال نیوز آف دی ورلڈ کی بندش کی وجہ یعنی غیر قانونی فون ہیکنگ کو خوب اٹھایا اور اس کمزوری کو پکڑتے ہوئے وکیل صفائی نے مظہر محمود کے سامنے خاص طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کی فون ہیکنگ کے سوال اٹھائے اور کہا کہ کیا ان کی ابتدائی معلومات کا ماخذ غیر قانونی طور پر حاصل کردہ ٹیکسٹ پیغامات نہیں تھے۔ انہوں سے مظہر محمود سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف اپنی خفیہ تفتیش کے دوران کسی بھی فون کو ہیک کیے جانے کے بارے میں جانتے ہیں۔

وکیل صفائی نے اپنی گفتگو کا آغاز مرکزی ملزم سٹے باز مظہر مجید کے ساتھ صحافی کے تجربات کے بارے میں سوالات کے ذریعے کیا، اور اس کے انوکھے دعووں کا بھی ذکر کیا۔ اپنے سوالات میں ملنے نے مظہر محمود سے کہا کہ محمود سمجھ چکا تھا کہ مجید ایک دھوکے باز اور شیخی خور ہے اور کہا کہ اس نے تمہیں متاثر کرنے کی بہت کوشش کی اور کئی نام پھینکے۔ جیسا کہ راجر فیڈرر اور بریڈ پٹ۔ اس نے اپنی رہائش گاہ اور گاڑیوں کے حوالے سے بھی دعوے کیے، تو کیا تم نے اس کا یقین کیا تھا؟ جس پر مظہر محمود نے جواب دیا کہ مجھے ان دعووں میں کوئی غرض نہیں تھی، مجھے صرف اس معاملے میں شامل افراد کی جرائم کاری سے دلچسپی تھی۔

انہوں نے مظہر محمود سے سوال کیا کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف تفتیشی عمل کا آغاز کیسے کیا؟ جس پر مظہر نے جواب دیا کہ انہیں ایک ایسے ذریعے سے (جس کا نام انہوں نےبدستور صیغہ راز میں رکھا) معلومات حاصل ہوئی تھی، جسے وہ عرصے سے جانتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذرائع سے معاہدہ کیا گیا تھا کہ ان کی معلومات شایع ہونے پرانہیں ادائیگی کی جائے گی۔

ملنے نے کہا کہ "کیا یہ ہیک شدہ مواد نہیں تھا؟ ٹیلی فون کے مالک کو مطلع کیے بغیر اس کے فون میں سے ٹیکسٹ ڈاؤنلوڈ کرنا غیر قانونی ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ "میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا نیوز آف دی ورلڈ میں کوئی بھی ایسا شخص تھا جس نے شواہد کو ہیک کیا ہو جو اس مقدمے سے متعلقہ ہیں اور جو افشا کرنے کے قابل ہوں؟

مظہر محمود، جو مسلسل تیسرے دن بھی گواہوں کے چبوترے میں ایک پردے کے پیچھے بیٹھے رہے، ان تابڑ توڑ سوالات پر کچھ دفاعی پوزیشن پر دکھائے دیے اور کہا کہ "مظہر مجید کے فون سے پیغامات ضرور ڈاؤنلوڈ کیے گئے تھے لیکن وہ غیر قانونی نہیں تھے، البتہ مجھے کسی فون ہیکنگ کا کچھ اندازہ نہیں ہے، اور حاصل کردہ معلومات پر کسی کارروائی سے قبل میں نے اخبار میں وکیل سے رابطہ بھی کیا تھا۔"

وکیل صفائی نے مظہر محمود کو کہا کہ انہوں نے اس متنازع معاملے کی اشاعت کے بعد محمد آصف سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے عمران شیخ نامی ایک وکیل کا روپ دھارا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں آصف نے دسمبر اور رواں سال جنوری کے دوران لاہور میں دیکھا تھا۔ البتہ مظہر نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے آصف سے کبھی کوئی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی اس عرصے میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، اس کے لیے عدلیہ ان کا پاسپورٹ دیکھ سکتی ہے۔

مظہر محمود انتہائی جذباتی بھی ہوئے اور یہ تک کہہ ڈالا کہ آصف صرف میچ فکسر نہیں بلکہ انتہائی جھوٹا شخص بھی ہے، اور مجھے اس سے ملنے کی کوئی تمنا نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر لانے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی جان کے خوف سے عدالت میں پردے کے پیچھے سے گفتگو کر رہے ہیں۔

صحافی نے عدلیہ کو بتایا کہ میں نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران تین نو بالز کرانے کے لیے مظہر مجید کو ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز دیے، جو کسی خفیہ مقصد کے لیے اخبار کی جانب سے ادا کردہ سب سے بڑی رقم تھی۔

گزشتہ سال اگست میں لارڈز کے میدان میں کھیلے گئے ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں کثیر رقم لینے کے الزام کو بھگتنے والے پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف نے سماعت کے چھٹے روز بھی اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے بدستور انکار کیا۔

مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

Facebook Comments