ایک اور میچ میں شکست، انگلستان عرش سے فرش پر

ریکارڈ شکن مقابلے کے بعد آسٹریلیا نے انگلستان کے حوصلوں کو عرش سے فرش پر پہنچا دیا اور چھٹے ایک روزہ میچ میں بھی کامیابی حاصل کر کے سیریز میں 5-1 کی ناقابل یقین برتری حاصل کر لی ہے۔ ایشیز میں بدترین شکست کے بعد کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ آسٹریلیا ایسا جوابی حملہ کرے گا۔ آسٹریلوی فتح میں کپتان مائیکل کلارک کے 82 رنزاور چھٹی وکٹ پر ڈیوڈ ہسی کے ساتھ 90 رنز کی شراکت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور انہی کی بدولت آسٹریلیا نے334 رنز کاہمالیہ جیسا ہدف آخری اوور میں حاصل کر لیا۔

مائیکل کلارک، نصف سنچری کے بعد داد وصول کرتے ہوئے

آسٹریلیا نے 335 رنز کے حصول کے لیے اننگ کا آغاز کیا تو ایک اچھے اوپننگ آغاز کے بعد اسے یکے بعددیگرے دونوں اوپنرز سے محروم ہو جانا پڑا۔ شین واٹسن نے محض 32 گیندوں پر شعلہ فشاں نصف سنچری بنائی۔ بعد ازاں مائیکل کلارک اور مچل جانسن نے تیسری وکٹ پر 79 قیمتی رنز کا اضافہ کیا اور 30 اوور تک اسکور کو 194 تک پہنچا دیا۔ آسٹریلیا کو اسی رفتار کے ساتھ اسکور آگے بڑھانے کی ضرورت تھی لیکن اس کے لیے لازمی تھا کہ اس کے بلے باز ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اس میچ میں یہ ذمہ داری کپتان مائیکل کلارک نے سنبھالی جنہوں نے ایک چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے 70 گیندوں پر 82 رنز کی یادگار اننگ کھیلی اور آسٹریلیا کو فتح کے دہانے پر لے آئے۔ 224 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد جب آسٹریلیا کو 15 اوورز میں 110 رنز کی ضرورت تھی تو انہوں نے ڈیوڈ ہسی کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ پر 90 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کیا۔ مائیکل کلارک 49 اوور میں اس وقت آؤٹ ہوئے جب آسٹریلیا فتح سے محض 7 رنز کے فاصلے پر تھا۔ اگلے اوور میں جان ہیسٹنگز کے چوکے نے انگلستان کو اک اور شکست سے دوچار کر دیا۔

انگلستان کے اسٹرائیک باؤلر جیمز اینڈرسن نے مقررہ 10 اوورز میں 91 رنز دیے اور محض ایک وکٹ حاصل کر سکے جبکہ اسٹیو فن نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ مائیکل یارڈی اور کیون پیٹرسن بھی ایک،ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

قبل ازیں سڈنی کے تاریخی میدان کی ہموار و بلے بازی کے لیے سازگار پچ پر انگلستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور ان فارم جوناتھن ٹراٹ کے کیریئر بیسٹ 137، کپتان اینڈریو اسٹراس کے 63 اور این بیل کے 45 رنز کی بدولت اسکور کارڈ پر 333 رنز کا بھاری بھرکم مجموعہ اکٹھا کر لیا۔ جبکہ اس مجموعے تک پہنچے میں اس کی محض چھ وکٹیں گریں۔ یہ انگلستان کا آسٹریلوی سرزمین پر تاریخ کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور ہے۔

آسٹریلیا نے انگلش بلے بازوں کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور 8 باؤلرز آزمائے لیکن شان ٹیٹ کو دو وکٹیں مل سکیں جبکہ مچل جانسن، شین واٹسن اور بریٹ لی انتہائی مہنگے ثابت ہوئے اور ایک، ایک حریف بلے باز ہی کو شکار بنا سکے۔

جوناتھن ٹراٹ کو شاندار سنچری بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس میچ میں کئی نئے ریکارڈ بنے۔ یہ انگلستان کا نہ صرف آسٹریلوی سرزمین پر بلکہ بحیثیت مجموعی آسٹریلیا کے خلاف بھی سب سے بڑا اسکور تھا۔ 333 رنز انگلستان کا سب سے بڑا اسکور بھی تھا جس کا وہ دفاع کرنے میں ناکام رہا۔ آسٹریلیا کی جانب 333 رنز کا ہدف عبور کرنا ہوم گراؤنڈ پر سب سے بڑا تعاقب ہے اور یہ کسی بھی ٹیم کا انگلستان کے خلاف سب سے بڑا تعاقب بھی ہے۔ میچ میں مجموعی طور پر 667 رنز بنے جو آسٹریلیا میں سب سے زیادہ مجموعی رنز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ ریکارڈ 2007ء میں آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کے میچ کو حاصل ہے جس میں 678 رنز بنے تھے۔

دونوں ٹیمیں سیریز کے آخری یعنی ساتویں ایک روزہ میچ کے لیے 6 فروری کو پرتھ میں آمنے سامنے ہوں گی۔ جس کے بعد دونوں عالمی کپ 2011ء میں شرکت کے لیے بھارت روانہ ہوں گی۔

عالمی کپ میں اپنے اعزاز کے دفاع کی مہم شروع کرنے سے قبل آسٹریلیا کا ان فارم انگلستان کےخلاف ایسی شاندار سیریز فتح حاصل کرنا اس کے عزم و حوصلے کو تقویت بخشے گا۔ گو کہ انگلستان کو عالمی کپ کے لیے فیورٹ ترین ٹیموں میں شمار کیا جا رہا تھا، لیکن یہ شکست اسے فیورٹ ٹیموں کی فہرست سے باہر کر دے گی۔

Facebook Comments