پاکستانی کھلاڑیوں پر الزامات ثابت ہوئے تو کیا ٹیسٹ کے نتائج پر اثر پڑے گا؟

پاکستان کےکھلاڑی سلمان بٹ اور محمد آصف مبینہ اسپاٹ فکسنگ پر لندن کی عدالت میں مقدمہ بھگت رہے ہیں اگر ان پر الزامات ثابت ہوئے اور سزا ملی تب بھی جن مقابلوں میں اسپاٹ فکسنگ کا یہ گندا کھیل کھیلا گیا ہے کیا اُن کے نتائج باطل قرار دیے جائیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت مختلف ماہرین کرکٹ ذہنوں میں کلبلا رہا ہے۔ لیکن بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے موجودہ قوانین میچ اور اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو سزاؤں کی تو وضاحت کرتے ہیں لیکن کسی مقابلے میں بدعنوانی یا بے ایمانی کے نتیجے میں بگڑنے والے کھیل کے حلیے اور ناقص نتیجے کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

محمد عامر اسپاٹ فکسنگ کا اعتراف کر چکے ہیں

محمد عامر اسپاٹ فکسنگ کا اعتراف کر چکے ہیں

اس حوالے سے نمائندہ کرک نامہ نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے بذریعہ ای میل وضاحت طلب کی کہ اگر کھلاڑیوں کو سزا دی جاتی ہے تو اس سے میچ کے نتائج پر کیا فرق پڑے گا؟ جس کے جواب میں دونوں کا موقف یکساں تھا کہ چونکہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر غور ہے اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔

تاہم اس حوالے سے سابق چیف ایگزیکٹو عارف علی خان عباسی کا کہنا ہے کہ "آئی سی سی کو ان مقابلوں کے نتیجے باطل قرار دینے چاہئیں کیونکہ میرے خیال میں وہ میچ نہیں تھے بلکہ پاکستانی کھلاڑیوں کی بے ایمانی و دھوکہ دہی کے باعث پہلے سے طے شدہ مقابلے تھے۔"

گو کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قوانین کے مطابق میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ ایک سنگین جرم ہے اور اس کی کڑی سزائیں ہیں لیکن اس حوالے سے قوانین میں مکمل طور پر انفرادی حیثیت میں مرتب کیے گئے ہیں اور میچ یا اسپاٹ فکسنگ کی کم از کم سزا 5 سال اور زیادہ سے زیادہ تاحیات پابندی مقرر ہے۔ یعنی آئی سی سی کے تمام تر قوانین اس وقت مکمل طور پر میچ اور اسپاٹ فکسنگ کو ایک انفرادی قدم سمجھتے ہیں اور اس کے مجموعی نتائج پر پڑنے والے اثرات کا احاطہ نہیں کرتے۔

پاکستان کے تین کھلاڑی اُس وقت کے کپتان سلمان بٹ اور تیز گیند باز محمد آصف اور محمد عامر پر گزشتہ دورۂ انگلستان کے دوران سٹے بازوں سے رقوم وصول کرنے اور میچ کے دوران جان بوجھ کر میڈن اوور کھیلنے اور نو بالز پھینکنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ تینوں کھلاڑیوں پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے کم از کم 5 سال تک پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ برطانیہ میں بدعنوانی و دھوکہ دہی کے الگ مقدمے میں، جو ابھی جاری ہے، تیز گیند باز محمد عامر اپنے جرم کا اعتراف بھی کر چکے ہیں جبکہ بقیہ دونوں کھلاڑی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔

پاکستان اور انگلستان کے درمیان گزشتہ سال کھیلی گئی سیریز کے جن دو مقابلوں پر اسپاٹ فکسنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ان میں اوول اور لارڈز ٹیسٹ شامل ہیں جن میں سے اول الذکر میں پاکستان نے 4 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ دوسرا مقابلہ انگلستان نے با آسانی اننگز اور 225 رنز سے جیتا تھا۔

Facebook Comments