وسیم اکرم جز وقتی باؤلنگ کوچ بننے کو تیار

پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ وہ جز وقتی حیثیت میں پاکستان کے باؤلنگ کوچ بن سکتے ہیں، اور ملک کے لیے ہر قسم کی خدمات دینے کو تیار ہیں البتہ اہل خانہ کی ذمہ داری کے باعث کل وقتی کام نہیں کر سکتے ہیں۔

لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماضی کے عظیم باؤلر کا کہنا تھا کہ کوچ بننا نہایت توجہ طلب کام ہے، اسے ہمہ وقت محنت درکار ہے، اور میں اپنے ذاتی مسائل کے باعث ایسا مصروف کام نہیں کر سکتا۔ میرے دو بچے ہیں جن کا خیال رکھنا اب میری ذمہ داری ہے لیکن اگر پاکستان کو میری خدمات درکار ہیں تو میں کام کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن صرف جز وقتی طور پر۔

پاک سری لنکا سیریز میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہوگا، وسیم اکرم

پاک سری لنکا سیریز میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہوگا، وسیم اکرم

وسیم اکرم ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کوچنگ کرنے کی پیشکشوں کو اپنی کمنٹری کی مصروفیات کے باعث ٹھکرا چکے ہیں اور رواں ماہ کے اوائل میں بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ محض باؤلنگ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کو ترجیح دیں گے جبکہ اب بھی ان کا کہنا ہے کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں تاہم پاکستان میں جتنا بھی وقت گزارتا ہوں، اس دوران تیز گیند بازوں کے لیے کوچنگ کا کام کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا اصرار یہ ہے کہ میں جب بھی پاکستان آؤں تو مجھے ایک ماہ کے لیے 10 سے 15 تیز گیند باز تربیت کے لیے دے دیں۔ ہمارے پاس نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی صورت میں تربیت کے لیے شاندار جگہ ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے سوالات پر انہوں نے کہا کہ سری لنکا ایک بہت مضبوط ٹیم ہے لیکن پاکستان کو ہرانے جتنی اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے مرلی دھرن کی ریٹائرمنٹ کے بعد باؤلنگ میں آنے والی کمزوری کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرلی اور لاستھ مالنگا کے بغیر وہ ٹیسٹ میں پاکستان کو دو مرتبہ آؤٹ کرنے کے اہل نہیں دکھائی دیتے، میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان یہ سیریز ہارے گا الا یہ کہ بہت ہی برا کھیل پیش کرے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان کے پاس تجربہ کار یونس خان اور مصباح الحق موجود ہیں اور شعیب ملک بھی ٹیم میں واپس آ گئے ہیں اور اس لیےٹیم میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں ہے، انہیں صرف مدد اور اچھی کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز آج ابوظہبی میں ہو رہا ہے جبکہ دو ٹیسٹ مقابلے دبئی اور شارجہ میں کھیلے جائیں گے ۔ ملک میں امن و امان کی ناقص صورتحال کے باعث پاکستان کو اپنی ہوم سیریز متحدہ عرب امارت اور دیگر ممالک میں کھیلنا پڑ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ وسیم اکرم اس وقت بھارتی پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے باؤلنگ کوچ کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Facebook Comments