شاہد آفریدی نے ایک مرتبہ پھر ریٹائرمنٹ واپس لے لی، پاکستان کی نمائندگی کے خواہاں

پاکستان کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے ریٹائرمنٹ واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی چاہتے ہیں اور انہیں کپتانی کی کوئی خواہش نہیں ہے۔

وہ منگل کو جامعہ کراچی کے ولیکا گراؤنڈ میں ایک مقامی کرکٹ میچ میں بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے تعلقات خراب ہونے کی وجہ سابق چیئرمین اعجاز بٹ تھے۔ لیکن اب اُن کی رخصتی کے بعد میرا بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کا ارادہ ہے اور ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتا ہوں۔

ملک کی نمائندگی کا خواہاں ہوں، اب تمام تر انحصار سلیکشن کمیٹی پر ہے: شاہد آفریدی

ملک کی نمائندگی کا خواہاں ہوں، اب تمام تر انحصار سلیکشن کمیٹی پر ہے: شاہد آفریدی

شاہد آفریدی نے کہا کہ قیادت دوبارہ حاصل کرنے کی بھی کوئی خواہش میرے دل میں نہیں ہے، بلکہ ایک کھلاڑی کی حیثیت سے ہی کھیلوں گا کیونکہ میری نظر میں ملک کی نمائندگی کرنا سب سے اہم ہے۔

شعلہ فشاں بلے باز کو رواں سال دورۂ ویسٹ انڈیز کے دوران کوچ وقار یونس اور ٹیم انتظامیہ سے الجھنے کے باعث اپنی قیادت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ بورڈ کے ساتھ معاملات خراب ہونے کے بعد انہوں نے احتجاجاً بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی تاہم اُسی وقت کہہ دیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ میں تبدیلی کے بعد وہ پاکستان کے لیے ایک مرتبہ پھر کھیلنے پر غور کریں گے۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ اب یہ سلیکشن کمیٹی پر منحصر ہے کہ وہ آنے والے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے لیے ان کی شمولیت پر غور کرتی ہے یا نہیں کرتی۔

واضح رہے کہ سلیکشن کمیٹی کے عبوری سربراہ اس وقت محمد الیاس ہیں، جن کے ساتھ شاہد آفریدی رواں سال زبردست کشمکش میں مبتلا رہے ہیں، حتیٰ کہ ذرائع ابلاغ پر بیان دے کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر محمد الیاس بورڈ کی جانب سے پابندی بھی بھگت چکے ہیں۔

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم اس وقت سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہے جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 5 ایک روزہ بین الاقوامی اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی سیریز کھیلی جائے گی جس کے لیے دستے کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

کرک نامہ چند روز قبل یہ خبر دے چکا تھا کہ شاہد آفریدی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لیے پر تول رہے ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments