بنگلہ دیش نے عالمی کپ کی شکست کا بدلہ لے لیا، ویسٹ انڈیز 61 رنز پر ڈھیر

بنگلہ دیش نے آخری ایک روزہ میچ میں ویسٹ انڈیز کو انتہائی شرمناک طریقے سے ہرا کر عالمی کپ 2011ء میں شکست کا بدلہ لے لیا۔ گوکہ یہ فتح اسے سیریز نہیں جتا سکی، جو ویسٹ انڈیز 2-1 سے جیتا، لیکن ایک لحاظ سے موجودہ سیریز کی ناقص کارکردگی اور عالمی کپ کے اس میچ کا بدلہ ضرور تھی جس میں بنگلہ دیش 58 رنز پر ڈھیر ہوا تھا۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان کی سیریز فتح کا مزا کرکرا ہو گیا (تصویر: AP)

ویسٹ انڈیز کے کپتان کی سیریز فتح کا مزا کرکرا ہو گیا (تصویر: AP)

چٹاگانگ کے ظہور احمد چودھری اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک روزہ سیریز کا تیسرا مقابلہ ایک اننگز کے وقت میں ہی ختم ہو گیا کیونکہ ویسٹ انڈیز پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے محض 61 رنز پر ڈھیر ہو گیا، یوں ویسٹ انڈیز کی اسپنرز کے خلاف کمزوری کھل کر سامنے آ گئی اور بنگلہ دیش کا بچھایا گیا جال دشمن کو پھانسنے میں کامیاب رہا۔ یہ مقابلہ ایک لحاظ سے ٹی ٹوئنٹی ثابت ہوا کیونکہ ویسٹ انڈیز کی اننگز محض 22 اور بنگلہ دیش کی 20 اوورز تک محدود رہی۔ بنگلہ دیش کی جانب سے کیرن پاول 25 رنز بنا کر سرفہرست رہے جبکہ کیریئر کا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے کریگ بریتھویٹ 11 رنز کے ساتھ دہرے ہندسے میں داخل ہونے والے دوسرے کھلاڑی تھے۔ ان کے علاوہ کوئی ویسٹ انڈین بلے باز یہ 'سعادت' بھی حاصل نہ کر سکا۔ ڈینزا ہیاٹ 3، مارلون سیموئلز 5، ڈیرن براوو صفر، کیرون پولارڈ صفر، ڈیرن سیمی 2، دنیش رام دین 4، آندرے رسل 2 اور انتھونی مارٹن محض ایک رن بنانے کے بنگلہ دیشی باؤلنگ کا نشانہ بنے۔

کپتان مشفق الرحیم کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ بہت ہی موزوں ثابت ہوا اور باؤلرز، جن کے سرخیل سابق کپتان شکیب الحسن رہے، کپتان کے اعتماد پر پورا اترے۔ شکیب نے محض 16 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ شفیع الاسلام اور ناصر حسین نے 2،2 اور نظم الحسین اور سہروردی شوو نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

گو کہ 33 رنز تک ویسٹ انڈیز کی صرف ایک وکٹ گری تھی لیکن بنگلہ دیشی باؤلرز نے آخری 9 وکٹوں کو محض 28 رنز بنانے دیے ۔ حیرتناک بات یہ ہے کہ میرپور، ڈھاکہ میں کھیلے گئے پہلے دونوں مقابلوں میں ویسٹ انڈیز کی محض 6 وکٹیں گری تھیں، لیکن آخری میچ میں بنگلہ دیشی باؤلرز نے پچھلی تمام کسریں نکال دیں۔

جواب میں بنگلہ دیش نے با آسانی 20 اوورز میں ہدف کو حاصل کر لیا اور اس کی محض دو وکٹیں گریں۔ تجربہ کار بلے باز تمیم اقبال ناقابل شکست 36 رنز کے ساتھ میچ کے بہترین بلے باز رہے۔

شکیب الحسن کو عمدہ گیند بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ مارلون سیموئلز بہترین بلے بازی پر سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

اب دونوں ٹیمیں دو ٹیسٹ مقابلوں میں آمنے سامنے ہوں گی، جس کا پہلا مقابلہ 21 اکتوبر سے چٹاگانگ کے اسی میدان میں کھیلا جائے گا۔

اسکور کارڈ کچھ دیر میں ملاحظہ کریں

Facebook Comments