سری لنکا شکست کے بھنور میں، لیکن بیٹنگ کوچ مطمئن

پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بھنور پھنسی سری لنکن کشتی کا اب تمام تر انحصار بلے بازی کے بادبانوں پر ہے، گو کہ اس وقت بھی اسے پہلی اننگز کا خسارہ کم کرنے کے لیے 267 رنز کی ضرورت ہے اور اس کی 9 وکٹیں اور دو دن کا کھیل باقی ہے تاہم بیٹنگ کوچ مارون اتاپتو پرامید دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اپنے جوانوں پر پورا حوصلہ ہے۔

عمر گل نے دوسری اننگز کی پہلی ہی گیند پر سری لنکا کو دھچکا پہنچایا، اور پاکستان کو بالاتر پوزیشن پر لاکھڑا کردیا (تصویر: AFP)

عمر گل نے دوسری اننگز کی پہلی ہی گیند پر سری لنکا کو دھچکا پہنچایا، اور پاکستان کو بالاتر پوزیشن پر لاکھڑا کردیا (تصویر: AFP)

ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے دوران پاکستان نے سری لنکا کے 197 رنز کے جواب میں اپنی پہلی اننگز 511 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کی تو سری لنکا کو 314 رنز کے ہمالیہ جیسے خسارے کا سامنا تھا، رہی سہی کسر دوسری اننگز کی پہلی ہی گیند پر تھارنگا پرناوتنا کے آؤٹ ہونے نے پوری کر دی لیکن سابق کپتان مارون اتاپتو اب بھی سمجھتے ہیں کہ ہمیں دوسری اننگز میں اچھی بلے بازی کی ضرورت ہوگی اور مجھے امید ہے کہ بلے باز میچ کو بچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

تیسرے روز کے کھیل کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے مارون کا کہنا تھا کہ پہلی اننگز میں ناقص بلے بازی اس میچ میں ہماری کمزور کڑی ہے اور بلاشبہ یہ ایسی پچ نہیں ہے کہ اس پر محض 200 رنز کا مجموعہ اکٹھا کیا جائے، ہمیں کم از کم 100 رنز مزید بنانے چاہیے تھے البتہ میں اتنا ضرور کہوں گا کہ آؤٹ فیلڈ تیز نہیں ہے جبکہ ابتداء میں وکٹ بھی اتنی زیادہ بلے باز دوست نہیں تھی، اس میں گیند بازوں کے لیے ضرور کچھ موجود تھا جس کا پاکستان نے فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ کنڈیشنز بہت سخت ہیں، تاہم کل ایک نیا سورج طلوع ہوگا اور امید ہے کہ ہمارے لیے اچھا دن ثابت ہوگا۔

عرب امارات کے صحراؤں کی تپتی ہوئی گرمی میں جس بلے باز نے سری لنکا کے پہلی اننگز کے معمولی اسکور کے زخموں پر نمک چھڑکا اور بیک وقت حریف گیند بازوں اور گرمی کا سختی سے مقابلہ کیا وہ پاکستان کے توفیق عمر تھے جنہوں نے 12 گھنٹے طویل اننگز میں 236 رنز بنائے اور یوں 1992ء کے بعد ڈبل سنچری بنانے والے پاکستان کے پہلے اوپنر بن گئے۔

کل مقابلے کا چوتھا و اہم ترین دن جو ممکنہ طور پر میچ کے رُخ کا فیصلہ کرے گا تاہم اس وقت میچ مکمل طور پر پاکستان کی گرفت میں ہے اور سری لنکا کو اس گرفت کو کمزور کرنے کے لیے معجزانہ کارکردگی کی ضرورت ہے اور ایسی کارکردگی صرف دو کھلاڑیوں سے متوقع ہے یعنی کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے۔ دیکھتے ہیں کل اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے!

Facebook Comments