فیلڈرز نے مقابلہ ہاتھوں سے گنوا دیا، پاک-سری لنکا پہلا ٹیسٹ ڈرا

ابوظہبی کے صحراؤں میں پاکستانی باؤلرز کی سخت محنت بھی انہیں میچ نہ جتوا سکی، کیونکہ انہیں اپنے ہی فیلڈروں کی ناقص کارکردگی، بلے بازوں کی کچھوا چال اور امپائروں کے غلط فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا، یوں پہلا ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوا۔ میچ کی خاص بات پہلی اننگز میں پاکستانی نوجوان باؤلر جنید خان کی 5 وکٹیں اور بعد ازاں توفیق عمر اور کمار سنگاکارا کی ڈبل سنچریاں تھیں۔ مردِ میدان کمار سنگاکارا کی ڈبل سنچری اس لحاظ سے نمایاں تھی کہ اس کی بدولت سری لنکا شکست کے دہانے سے میچ میں واپس آیا، اور نہ صرف پاکستان کی 314 رنز کی ہمالیہ جیسی برتری کا خاتمہ کیا بلکہ آخری روز پاکستان کو 21 اوورز میں 170 رنز کا مشکل ہدف بھی دیا، جس کو حاصل کرنے کی پاکستانی بلے بازوں سے سرے سے کوشش ہی نہ کی۔

سری لنکا دوسری اننگز میں 483 رنز اس لیے بنا پایا کیونکہ پاکستانی فیلڈرز نے ان کی وکٹ حاصل کرنے کے 7 مواقع گنوائے، جن میں 4 انتہائی آسان کیچ، 2 نسبتاً مشکل کیچ اور ایک رن آؤٹ کے مواقع شامل تھے۔ ان میں سے دو مواقع کمار سنگاکارا کو بھی ملے، جنہوں نے کیریئر کی آٹھویں ڈبل سنچری بنائی اور بقول اُن کے یادگار ترین اننگز کھیلی۔ اس ذمہ دارانہ ڈبل سنچری کے بعد سنگاکارا سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں بنانے والے بلے بازوں میں تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔

کمار سنگاکارا نے دو روز تک پاکستانی بلے بازوں کا جم کر مقابلہ کیا اور میچ بچا لیا (تصویر: AFP)

کمار سنگاکارا نے دو روز تک پاکستانی بلے بازوں کا جم کر مقابلہ کیا اور میچ بچا لیا (تصویر: AFP)

شیخ زید اسٹیڈیم میں پاک سری لنکا سیریز کا پہلا مقابلہ پہلےتین دنوں تک مکمل طور پر پاکستان کی گرفت میں رہا۔ ٹاس جیت کر پہلے گیند پکڑنے کا فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا کیونکہ پاکستانی گیند بازوں نے پہلی اننگز میں سری لنکا کو محض 197 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ خصوصاً جنید خان کی کارکردگی شاندار رہی جنہوں نے صرف 38 رنز دے کر 5 حریف بلے بازوں کو آؤٹ کیا. ان میں مہیلا جے وردھنے کی قیمتی وکٹ بھی شامل تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیٹنگ کے لیے ایک آسان وکٹ پر پاکستان کی پہلی اننگز کی اس کامیابی کے پیچھے فیلڈرز کا بھی ہاتھ تھا، جنہوں نے عمدہ فیلڈنگ کر کے باؤلرز کا بھرپور ساتھ دیا، اور دوسری اننگز میں اسی تال میل میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو خمیازہ بھگتنا پڑا اور وہ میچ گنوا بیٹھا۔

اگر سری لنکا کی پہلی اننگز میں اینجلو میتھیوز 58 رنز کی ناقابل شکست اننگز نہ کھیلتے تو بلے بازی کا جنازہ بہت پہلے نکل چکا تھا، کیونکہ آئی لینڈرز کی ابتدائی 7 وکٹیں محض 114 رنز پر پویلین لوٹ چکی تھیں۔ پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز میں جنید کے علاوہ دیگر گیند بازوں نے بھی عمدہ کارکردگی دکھائی جن میں سعید اجمل اور عمر گل کو 2،2 اور اعزاز چیمہ کو ایک وکٹ ملی۔

سری لنکا کو معمولی اسکور پر آؤٹ کرنے کے بعد پاکستانی اوپنرز نے اننگز کا پراعتماد آغاز کیا خصوصاً محمد حفیظ نے اچھی حکمت عملی اپنائی اور اسکور بورڈ کو تیزی سے متحرک کیے رکھا جبکہ دوسرے اینڈ سے توفیق عمر نسبتاً سست رفتاری سے کھیلتے رہے۔ 118 رنز کی ابتدائی شراکت کا خاتمہ حفیظ کے آؤٹ ہونے کے ساتھ ہوا جنہوں نے 75 رنز بنائے جس کے بعد سست رفتاری کے ایک طویل سفر کا آغاز ہوا۔ دوسری وکٹ پر توفیق عمر اور اظہر علی نے 160 رنز کی شراکت قائم کی لیکن یہ رنز بنانے کے لیے انہوں نے 66 اوورز کھیل ڈالے۔ اظہر علی نے 198 گیندوں پر 70، ان کے بعد آنے والے یونس خان نے94 گیندوں پر 33 رنز بنائے۔ کپتان مصباح الحق نے آکر کچھ تیز کھیلنے کی کوشش کی اور 52 گیندوں پر 46 رنز بنائے لیکن اسد شفیق نے 94 گیندوں پر محض 26 رنز بنا کر دوبارہ پاکستان کی رفتار کو سست کر دیا۔ یہی محتاط رویہ پاکستان کو سری لنکا کی دوسری اننگز میں اعتماد نہ بخش سکا، اور ایک دو کیچ ڈراپ ہو جانے کے بعد حوصلہ ہار بیٹھے۔

توفیق عمر کی پہلی ڈبل سنچری نے پاکستان کو سری لنکا پر بڑی برتری حاصل کرنے میں مدد دی (تصویر: AFP)

توفیق عمر کی پہلی ڈبل سنچری نے پاکستان کو سری لنکا پر بڑی برتری حاصل کرنے میں مدد دی (تصویر: AFP)

بہرحال، اوپنر توفیق عمر نے کیریئر کی پہلی ڈبل سنچری 459 گیندوں پر 16 چوکوں کی مدد سے بنائی اور بالآخر 236 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے۔ یہ 1992ء کے بعد پاکستان کے کسی بھی اوپنر کی بنائی گئی پہلی ڈبل سنچری تھی۔ آخری مرتبہ یہ اعزاز 1992ء میں عامر سہیل نے دورۂ انگلستان میں حاصل کیا تھا۔ توفیق عمر کے پویلین لوٹنے کے فوراً بعد عمر گل کی وکٹ گر گئی جس پر مصباح الحق نے 511 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر پہلی اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کر دیا۔

یوں سری لنکا نے 314 رنز کے خسارے کے ساتھ دوسری اننگز شروع کی اور پہلی اننگز میں پاکستانی باؤلرز کی کارکردگی دیکھتے ہوئے واضح طور پر میچ پاکستان کے پلڑے میں دکھائی دیتا تھا اور عمر گل نے سری لنکن اننگز کی پہلی ہی گیند پر تھارنگا پرناوتنا کو ٹھکانے لگا کر پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کر دی لیکن اس کے بعد پاکستانی فیلڈرز کی بدترین کارکردگی نے لاہیرو تھریمانے اور کمار سنگاکارا کو دوسری وکٹ پر 153 رنز کی شراکت جڑنے کا موقع فراہم کیا اور شاید میچ بھی یہیں سے پاکستان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ پاکستانی فیلڈرز میں سے خصوصاً محمد حفیظ کی کارکردگی بہت ناقص رہی جنہوں نے جنید خان کی دو مسلسل گیندوں پر تھریمانے کے سلپ میں دو آسان ترین کیچ چھوڑے۔ دوسری جانب یونس خان بھی سلپ میں سنگاکارا کو دو مواقع دے بیٹھے۔ ایک موقع عمر گل نے آسان کیچ چھوڑ کر دیا جبکہ رن آؤٹ جنید خان کے ہاتھوں ضایع ہوا۔ ایک کیچ متبادل فیلڈر وہاب ریاض نے اُس وقت چھوڑا جب سنچری بنانے والے پرسنا جے وردھنے محض 11 رنز پر تھے۔

چوتھے روز پاکستانی باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کو فیلڈرز نے گہنا دیا (تصویر: AFP)

چوتھے روز پاکستانی باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کو فیلڈرز نے گہنا دیا (تصویر: AFP)

گو کہ 153 کے مجموعی اسکور پر تھریمانے (68 رنز) کو ٹھکانے لگانے کے بعد پاکستان وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور 233 تک نصف حریف بلے بازوں کو پویلین بھیج چکا تھا لیکن اس موقع پر وکٹ کیپر پرسنا جے وردھنے میدان میں اترے جن کی سنگاکارا کے ساتھ 201 رنز کی میچ بچاؤ شراکت داری قائم کی۔ دونوں بلے باز چوتھے اور پانچویں روز میچ پر چھائے رہے اور انہوں نے چھٹی وکٹ پر پاکستان کے خلاف سری لنکا کی سب سے بڑی شراکت قائم کی۔ پانچویں روز چائے کے وقفے کے بعد سری لنکا کی دوسری اننگز کا اختتام 483 رنز پر اُس وقت ہوا جب آخری دن کے محض 21 اوورز رہ گئے تھے، جن میں پاکستان کو 170 رنز بنانے تھے، جس کے حصول کی پاکستان نے حسب عادت کوشش ہی نہ کی اور میچ کو ڈرا کی جانب ہی لے گئے۔ 10 اوورز کھیلنے کے بعد آخری گھنٹے کا کھیل شروع ہوا تو پاکستانی بلے بازوں نے امپائر کی پیشکش قبول کرتے ہوئے میچ ختم کرنے میں عافیت سمجھی۔ پاکستان کا دوسری اننگز کا اسکور 21 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ رہا۔ واحد گرنے والی وکٹ پہلی اننگز کے ڈبل سنچری میکر توفیق عمر کی تھی جو محض 2 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ یوں پہلا ٹیسٹ ایک ڈرا نہیں بلکہ سری لنکا کی اخلاقی فتح پر منتج ہوا۔

پاکستان کے فیلڈرز کی ناقص کارکردگی کے علاوہ میچ کے بے نتیجہ ہونے میں اہم کردار امپائرز کا بھی رہا خصوصاً ٹونی ہل نے سری لنکن بلے بازوں اور پاکستانی بلے بازوں کے خلاف اور حق میں کئی ناقص فیصلے دیے بلکہ میچ کے اہم ترین مواقع پر چوتھے اور پانچویں روز بھی اُن کے فیصلوں نے پاکستان کے امکانات کو معدوم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ امپائرز ٹونی ہل اور روڈ ٹکر کی ناقص کارکردگی نے سیریز میں نظر ثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کی عدم موجودگی کا احساس دلایا۔

کمار سنگاکارا کو یادگار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دونوں ٹیمیں اب 26 سے 30 اکتوبر تک دبئی میں دوسرا ٹیسٹ کھیلیں گی۔

پاکستان بمقابلہ سری لنکا : پہلا ٹیسٹ مقابلہ

(بتاریخ: 18 تا 22 اکتوبر 2011ء بمقام: شیخ زید اسٹیڈیم، ابوظہبی)

نتیجہ: مقابلہ بغیر نتیجے ختم

بہترین کھلاڑی: کمار سنگاکارا (سری لنکا)

سری لنکا پہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
تھارنگا پرناوتنا ک عدنان اکمل ب عمر گل 37 128 3 0
لاہیرو تھیریمانے ک یونس خان ب سعید اجمل 20 69 0 0
کمار سنگاکارا ک عدنان اکمل ب اعزاز چیمہ 2 6 0 0
مہیلا جے وردھنے ک محمد حفیظ ب جنید خان 28 63 0 1
تلکارتنے دلشان ک عدنان اکمل ب سعید اجمل 19 22 2 0
اینجلو میتھیوز آؤٹ نہیں ہوئے 52 99 4 1
پرسنا جے وردھنے ب جنید خان 0 3 0 0
رنگانا ہیراتھ ایل بی ڈبلیو جنید خان 0 1 0 0
سورنگا لکمل ک محمد حفیظ ب عمر گل 18 31 3 0
چناکا ویلیگیدرا ک توفیق عمر ب جنید خان 11 25 1 0
نوان پردیپ ک عدنان اکمل ب جنید خان 1 3 0 0
فاضل رنز (3 لیگ بائے، 1 وائڈ، 5 نوبالز) 9
مجموعہ (تمام کھلاڑی آؤٹ) 197

 

پاکستان (گیند بازی) اوور میڈان رنز وکٹ
عمر گل 11 1 37 2
اعزاز چیمہ 15 5 51 1
محمد حفیظ 9 3 12 0
جنید خان 14.1 3 38 5
سعید اجمل 25 5 56 2

 

پاکستان پہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ایل بی ڈبلیو ب ہیراتھ 75 127 8 1
توفیق عمر رن آؤٹ (کمار سنگاکارا / پرسنا جے وردھنے) 236 496 17 1
اظہر علی ب چناکا ویلیگیدرا 70 198 6 0
یونس خان ایل بی ڈبلیو چناکا ویلیگیدرا 33 94 1 0
مصباح الحق ک پرسنا جے وردھنے ب ہیراتھ 46 52 4 1
اسد شفیق آؤٹ نہیں ہوئے 26 94 2 0
عمر گل ک اینجلو میتھیوز ب ہیراتھ 0 2 0 0
فاضل رنز (3 لیگ بائے، 3 بائے، 3 وائڈ، 16 نوبالز) 25
مجموعہ (6 کھلاڑی آؤٹ) 511

 

سری لنکا (گیند بازی) اوور میڈان رنز وکٹ
چناکا ویلیگیدرا 30 5 80 2
سورنگا لکمل 24 3 108 0
رنگانا ہیراتھ 61.4 16 126 3
نووان پردیپ 27 1 107 0
تلکارتنے دلشان 32 6 84 0

 

سری لنکا دوسری اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
تھارنگا پرناوتنا ایل بی ڈبلیو ب عمر گل 0 1 0 0
لاہیرو تھیریمانے رن آؤٹ (اظہر علی / عدنان اکمل) 68 159 4 0
کمار سنگاکارا ایل بی ڈبلیو اظہر علی 211 431 18 0
مہیلا جے وردھنے ب سعید اجمل 4 7 1 0
تلکارتنے دلشان ب جنید خان 9 19 2 0
اینجلو میتھیوز ایل بی ڈبلیو ب عمر گل 22 60 1 0
پرسنا جے وردھنے ک عدنان اکمل ب اعزاز چیمہ 120 273 12 0
رنگانا ہیراتھ آؤٹ نہیں ہوئے 23 44 1 0
سورنگا لکمل ک عدنان اکمل ب عمر گل 8 11 1 0
چناکا ویلیگیدرا ب عمر گل 0 6 0 0
نوان پردیپ رن آؤٹ (اظہر علی / سعید اجمل) 0 0 0 0
فاضل رنز (3 لیگ بائے، 1 وائڈ، 5 نوبالز) 18
مجموعہ (تمام کھلاڑی آؤٹ) 483

 

پاکستان (گیند بازی) اوور میڈان رنز وکٹ
عمر گل 25 3 64 4
اعزاز چیمہ 32 1 108 1
سعید اجمل 55 8 167 1
جنید خان 31 6 83 1
محمد حفیظ 22 4 42 0
اظہر علی 3 1 4 1

 

پاکستان دوسری اننگز (ہدف: 170 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ آؤٹ نہیں ہوئے 12 31 1 0
توفیق عمر ایل بی ڈبلیو ب چناکا ویلیگیدرا 2 11 0 0
اظہر علی آؤٹ نہیں ہوئے 4 21 0 0
فاضل رنز (3 نو بال) 3
مجموعہ (1 کھلاڑی آؤٹ) 21

 

سری لنکا (گیند بازی) اوور میڈان رنز وکٹ
چناکا ویلیگیدرا 5 2 9 1
سورنگا لکمل 2 1 1 0
رنگانا ہیراتھ 2 0 8 0
نووان پردیپ 1 0 3 0

Facebook Comments