زمبابوے کی سنسنی خیز فتح؛ نیوزی لینڈ کا کلین سویپ کا خواب چکنا چور

جب درکار ہدف تین سو رنز کی نفسیاتی حد سے زائد ہو، ٹیم کی ناکامیوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ بھی جاری ہو تو ایسے میں ہوش کے ساتھ جوش سے کام لیتے ہوئے جارحانہ حکمت عملی ہی کام آسکتی ہے. اس کی مثال نیوزی لینڈ اور زمبابوے کے درمیان ہونے والے مقابلے میں سامنے آئی کہ جس میں شکستوں کے بھنور میں پھنسی زمبابوے کی ٹیم نے سیریز ہارنے کے باوجود آخری معرکہ میں بلیک کیپس کا بھرپور مقابلہ کیا اور صرف ایک گیند قبل 329 کا پہاڑ جیسا ہدف حاصل کر کے ایک وکٹ سے سنسنی خیز کامیابی حاصل کرلی.

Malcolm Waller Zimbabwe

زمبابوین بلے باز میلکم والر اسٹروک کھیلنے کے لیے تیار۔ انہیں برق رفتار 99 رنز کی فتح گر اننگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: اے ایف پی)

سیریز کے گزشتہ دونوں میچ ہارنے کے باوجود زمبابوے کی جارحانہ بلے بازی سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ مہمان ٹیم کے سامنے کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے کے تیار نہیں. ہدف کے تعاقب کی شروعات میں اننگ کی دوسری ہی گیند صفر پر پہلی وکٹ گنوانے کے بعد ہملٹن ماساکاٹزا اور کپتان برینڈن ٹیلر نے برق رفتار سی بلے بازی کرتے ہوئے سنچری شراکت داری قائم کی. خصوصاَ ان فارم برینڈن ٹیلر نے قائدانہ ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں نبھاتے ہوئے 2 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 75 رنز اسکور کی زبردست اننگ کھیلی. گو کہ وہ گزشتہ دو مقابلوں کی طرح اس بار سنچری نہ بنا سکے تاہم انہوں نے آنے والے بلے بازوں کے لیے اپنی عمدہ بلے بازی کے ذریعے ایک مثال رکھ چھوڑی. اسی مثال کو دیکھتے ہوئے ٹٹنڈا ٹائیبو اور پھر ایلٹن چگمبرا نے بھی مختصر مگر تیز رفتار اننگ کھیلی جس نے زمبابوے کو کامیابی سے ہدف کے تعاقب میں کلیدی کردار ادا کیا.

اس دوران نیوزی لینڈ کے گیند بازوں نے بھی زمبابوے کی پیش قدمی روکنے کی بھرپور کوششیں جاری رکھیں. نیوزی لینڈ کے تیز گیند بازوں جیکب اورم اور اینڈی مکے کے علاوہ اسپنر لیوک ووڈکوک نے بھی زمبابوین کھلاڑیوں کی راہ میں مشکلات کھڑی کیں. تاہم اس کے باوجود اگر وہ کسی کھلاڑی کو زیر نہ کرسکے تو وہ آل راؤنڈر میلکم والر تھے. میلکم والر نے ایلٹن چگمبرا کے ہمراہ ایک ایسے وقت میں سنچری شراکت قائم کی کہ جب میچ زمبابوے کے ہاتھوں سے پھسلتا جارہا تھا. والر نے 74 گیندوں پر 1 چھکے اور 10 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 99 رنز بنا کر صرف ایک گیند قبل فتح اپنی ٹیم کی جھولی میں ڈال دی.

اس سے قبل نیوزی لینڈ کے کپتان روز ٹیلر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ابتداء میں بلے بازوں کی ناقص کارکردگی سے ان کا یہ فیصلہ زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہوا محسوس نہیں ہوا. زمبابوین بالنگ اٹیک نے اپنی نپی تلی گیند بازی کے ذریعے ابتدائی کھلاڑیوں کے لیے کافی مشکلات پیدا کیں. اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے 1 کے مجموعی اسکور پر نیوزی لینڈ کی پہلی وکٹ گرنے کا سلسلہ 41 کے مجموعہ پر تین مستند کھلاڑیوں کی پویلین واپسی کے بعد تھما. اس کے بعد کپتان روز ٹیلر نے ساتھی کھلاڑی جیسی رائیڈر کے ہمراہ ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے اننگ کو سہارا دیا. 124 کے مجموعی اسکور پر جیسی رائیڈر 53 رنز کی ذمہ دارانہ اننگ کھیلنے کے بعد رخصت ہوئے تو ان کی جگہ کین ولیمسن نے سنبھالی.

زمبابوے کرکٹ ٹیم کے کپتان برینڈن ٹیلر کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا

اپنی شعلہ فشاں بلے بازی کے لیے مشہور روز ٹیلر نے اس بار نسبتاَ سنبھل کر بلے بازی کی تو ان کی جگہ ولیمسن نے انتہائی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 195 اہم ترین رنز کا اضافہ کیا. اننگ کے آخری اوور میں کپتان روز ٹیلر 3 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 119 رنز کی شاندار اننگ کھیل کر رخصت ہوئے تو میچ واضح طور پر نیوزی لینڈ کے حق میں جاچکا تھا. کریز پر موجودہ کین ولیمسن نے صرف 69 گیندوں پر 1 بلند و بالا چھکے اور 11 دلکش چوکوں کی مدد سے سنچری اسکور کر کے نیوزی لینڈ کو 328 جیسا بڑا مجموعہ حاصل کرنے میں مدد کی جس کا حصول زمبابوے کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف سمجھا جارہا تھا.

اس سنسنی خیز میچ میں زمبابوے کے لیے فتح کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرنے والے میلکم والر کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا. جبکہ زمبابوے کے کپتان برینڈن ٹیلر اپنی شاندار بلے بازی کے باعث اس سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے. برینڈن ٹیلر نے حالیہ سیریز کے ابتدائی دونوں میچز میں سنچریاں اسکور کیں اور آخری مقابلہ میں 75 رنز کی ذمہ قائدانہ اننگ سجائی.

بولاوایو میں کھیلے گئے اس آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں زمبابوے کی فتح کے باوجود تین ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی سیریز 2-1 سے نیوزی لینڈ کے نام رہی. مہمان ٹیم نے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میں زمبابوے کو 9 وکٹ سے شکست دی تھی جبکہ دوسرے ایک روزہ میں میں بلیک کیپس نے میزبان ٹیم کے خلاف 4 وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی.

Facebook Comments