عامر اور مجید اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے، عدالت؛ وکلائے دفاع کے حتمی دلائل مکمل

برطانیہ کی عدالت نے کہا ہے کہ مظہر مجید اور محمد عامر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے اور کیونکہ اس بات پر مقدمے کے تمام فریق متفق ہیں۔ اسی کو بنیاد بنا کر جیوری کے اراکین مقدمے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے تنازع 'اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل' میں بدعنوانی و دھوکہ دہی کا مقدمہ اپنے اختتامی مراحل میں پہنچ چکا ہے اور منگل کو وکلائے دفاع نے اپنے دلائل مکمل کر لیے اور اب عدالت اس معاملے پر جلد ہی اپنا فیصلہ سنائے گی۔

منگل کو حتمی تقریر میں عدالت کے جج نے کہا ہے کہ فیصلہ حقیقی شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور اس میں ہمدردی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو تمام تر شواہد کا بھرپور جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد ہی عدالت کوئی فیصلہ کر پائے گی۔

لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں اسپاٹ فکسنگ مقدمے کی سماعت کے پندرہویں روز سلمان بٹ کے وکیل علی باجوہ نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے عدالت پر زور دیا کہ وہ اپنی غیر معمولی ذمہ داری کو سمجھے کیونکہ اُن کے موکل سلمان بٹ کا مستقبل اب اُن کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موکل پر کوئی الزام ثابت شدہ نہیں ہے اور ان کی آزمائش کو ختم کر کے انہیں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت اپنی غیر معمولی ذمہ داری کو سمجھے کیونکہ میرے موکل کا مستقبل اب ان کے ہاتھوں میں ہے: وکیل سلمان بٹ (تصویر: Getty Images)

عدالت اپنی غیر معمولی ذمہ داری کو سمجھے کیونکہ میرے موکل کا مستقبل اب ان کے ہاتھوں میں ہے: وکیل سلمان بٹ (تصویر: Getty Images)

سلمان بٹ کے وکیل علی باجوہ نے کہا کہ استغاثہ کا کہنا ہے کہ میرے موکل اِس لیے گناہ گار ہیں کیونکہ وہ کپتان تھے، ہم کہتے ہیں کہ وہ مجرم نہیں کیونکہ وہ کپتان تھے۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کو نوبالز کروانے کا معاملہ محمد عامر اور مظہر مجید کی سازش تھی، جس کا ان کے موکل سلمان بٹ کو کوئی علم نہیں تھا۔ علی باجوہ نے یہ بھی کہا ہے کہ محمد عامر پاکستان میں ایک نامعلوم مگر اہم جرائم پیشہ شخصیت کے ساتھ براہ راست معاملات چلاتے تھے اور یہ کہنا کہ سلمان بٹ محمد عامر پر اثرو رسوخ رکھتے تھے، بالکل بے بنیاد ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مظہر مجید نے براہ راست محمد عامر سے معاملات طے کر کے یہ نو بالز کروائیں، عامر کوئی بھولا بھالا یا معصوم لڑکا نہیں تھا، ہم ایک پاکستانی نمبر پر بھیجے گئے اس کے پیغامات بھی دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے محمد آصف کے وکیل کی جانب سے بٹ کی گالم گلوچ کی وجہ سے آصف سے نو بال ہو جانے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

وکیل دفاع علی باجوہ نے کہا کہ میرے موکل کی ہر فون کال ، ہر وصول کردہ موبائل پیغام اور کمایا گیا ہر روپیہ مشتبہ سمجھا جا رہا ہے ، اُن کی زندگی برباد ہو کر رہ گئی ہے، ان کی ہر حرکت حتیٰ کہ ان کی کی والدہ کیا کر رہی ہیں اور ان کے کیا منصوبے ہیں، ان پر بھی کڑی نظر ہے۔ دو روز پر محیط اپنی تقریر میں وکیل نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ان کے موکل کو مجرم ٹھیرانے کے لیے عدالت کے پاس کوئی قابل بھروسہ شہادت موجود نہیں ہے

وکیل دفاع نے اِس تنازع کے مرکزی کردار مبینہ سٹے باز مظہر مجید کی ساکھ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ استغاثہ کا مقدمہ مظہر مجید کے الفاظ و حرکات پر کھڑا ہے جن کا اپنا کوئی اپنا کوئی اعتبار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اک ایسے شخص پر عدالت کیسے بھروسہ کر سکتی ہے جو خود بینکوں کا 7 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ کا مقروض ہو۔ انہوں نے بارہا دہرایا کہ مظہر مجید نے مقدمے میں شہادت پیش نہیں کی اور نہ ہی اُن کے خلاف جرح کی گئی ہے، اس لیے کیا کسی ایسے شخص کے الفاظ پر کسی اور کی مذمت کرنا درست ہے ، جس کو جرح کے لیے عدالت ہی میں پیش نہ کیا گیا ہو۔ انہوں نے مظہر مجید کے بریڈ پٹ، راجر فیڈرر، مائیک گیٹنگ اور جیفری بائیکاٹ سے دوستیوں کے دعوے کا بھی مذاق اڑایا۔

انہوں نے کہا کہ سلمان بٹ ایک سال میں با آسانی 2 لاکھ پاؤنڈز سے زائد کماتے تھے جو برطانوی یا پاکستانی معیارات کے مطابق 'اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر' ہیں۔ انہوں نے مہنگی دستی گھڑیاں خریدنے کے شوق کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ اپنی دونوں بہنوں کی تعلیم پر آنے والے اخراجات بھی ادا کرتے تھے۔

میرے موکل سے نشان زدہ رقم کا ایک نوٹ بھی برآمد نہیں ہوا: وکیل محمد آصف (تصویر: Getty Images)

میرے موکل سے نشان زدہ رقم کا ایک نوٹ بھی برآمد نہیں ہوا: وکیل محمد آصف (تصویر: Getty Images)

بعد ازاں دوسرے ملزم محمد آصف کے وکیل الیگزینڈر ملنے نے اپنے حتمی دلائل دیے جس میں ان کا کہنا تھا کہ میرے موکل کے خلاف نو بال تنازع میں رقم حاصل کرنے کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظہر مجید کی جانب سے دیے گئے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ کہاں گئے؟ وہ سلمان بٹ اور محمد عامر کے پاس سے ملے لیکن ان میں سے ایک نوٹ بھی محمد آصف کے پاس سے نہیں نکلا۔

اس موقع پر الیگزینڈر ملنے نے 1970ء کی دہائی کے مشہور امریکی مقدمےواٹرگیٹ اسکینڈل کے موقع پر امریکی صدر رچرڈ نکسن کا تاریخی جملہ "follow the money" دہرایا اور کہا کہ محمد آصف کبھی مظہر مجید کے قریبی افراد میں شامل نہیں رہا، حتیٰ کہ دونوں کی چند ہی ملاقاتیں ہوئی تھیں جن میں ویسٹ انڈیز میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ایک ٹینس کورٹ میں اور زیر تفتیش دورے کے دوران ہوٹل میں ہونے والی مختصر ملاقاتیں شامل ہیں۔

الیگزینڈر ملنے نے کہا کہ زیر تفتیش عرصہ یعنی 15 سے 28 اگست 2010ء کے دورن مظہر مجید نے ہر روز محمد عامر اور سلمان بٹ سے رابطہ کیا ہے لیکن محمد آصف سے اُس کی بات نہیں ہوئی۔ مظہر اور آصف کے درمیان آج تک ہونے والی تمام تر گفتگو محض 12 منٹوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈز کی رقم کے حصول سے قبل 36 گھنٹوں میں مظہر مجید نے سلمان بٹ اور عامر سے 65 مرتبہ رابطہ کیا یعنی کہ اس عرصے میں ہر 34 منٹ میں ایک رابطہ۔ لیکن انہوں نے آصف سے نہ کچھ کہا، نہ اشارہ کیا اورنہ ملاقات کی۔

آصف کے وکیل نے سلمان بٹ کے دلائل کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کے لیے کوئی ایڈیڈاس کا معاہدہ، کوئی ٹیگ ہیور، کوئی رے بین یا کچھ اور نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عامر اور سلمان نے مظہر مجید کے ساتھ عشائیے میں بھی شرکت کی لیکن میرے موکل اس میں نہیں تھے۔

واضح رہے کہ عدالت کو پہلے بتایا گیا تھا کہ کرکٹ کی تاریخ کے اس سب سے بڑے تنازع کو منظرعام پر لانے والے برطانوی اخبار 'نیوز آف دی ورلڈ' کے نشان زدہ نوٹوں میں سے ڈھائی ہزار پاؤنڈز کی رقم سلمان بٹ کے کمرے سے اور ڈیڑھ ہزار پاؤنڈز محمد عامر کے کمرے سے اس وقت برآمد ہوئے تھے جب پولیس نے ان کے ہوٹل پر چھاپہ مارا تھا۔ گو کہ محمد آصف کے کمرے سے 8 ہزار پاؤنڈز کی رقم نکلی تھی، لیکن وہ نشان زدہ نہيں تھی اور اس کے بارے میں وکیل کا کہنا تھا کہ اس میں ان کے ٹور الاؤنسز بھی شامل تھے اور باقی رقم وہ اپنی شادی کے سلسلے میں خریداری کے لیے لائے تھے۔

وکیل دفاع نے ایک مرتبہ پھر اپنے گزشتہ موقف کو دہرایا کہ لارڈز ٹیسٹ میں آصف کی جانب سے پھینکی گئی نو بال سلمان بٹ کے توہین آمیز رویے اور کلمات کی وجہ سے ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ محمد عامر کی بڑی نو بال کے مقابلے میں آصف کا قدم حد سے بہت زیادہ آگے نہیں بڑھا تھا بلکہ وہ ایک معمولی سا نو بال تھا۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کا پورا مقدمہ ان دو انچوں پر کھڑا ہوا ہے۔ الیگزینڈر ملنے نے وکلائے صفائی کے اختتامی دلائل کی مختصر ترین تقریر کی اور صرف اہم و کلیدی دلائل پر زور دیا۔

الیگزینڈر ملنے نے اپنے دلائل کا اختتام کرتے ہوئے جیوری کو کہا کہ وہ تسلیم کرے کہ مظہر مجید اور محمد عامر اِس تنازع میں ملوث تھے۔

جس پر جج نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ "آپ اس معاملے کو لے کر آگے بڑھ سکتے ہیں کہ لارڈز میں اسپاٹ فکسنگ معاملے میں مظہر مجید اور محمد عامر ملوث تھے، کیونکہ مقدمےکے تمام فریق اس امر پر متفق ہیں۔ انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حقیقی فیصلے شواہد کی بنیاد پر ہونے چاہیے اور ان میں ہمدردی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت بدھ کو تمام شواہد کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد فیصلہ دے گی۔

پاکستان کے تین کھلاڑی محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ اس وقت برطانیہ میں دھوکہ دہی و بدعنوانی کے اس مقدمے کو بھگت رہے ہیں جو گزشتہ سال دورۂ انگلستان میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے کے الزام پر ان کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ تینوں کھلاڑی پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے کم از کم 5،5 سال کی پابندی بھگت رہے ہیں اور اگر برطانیہ میں بھی عدالت نے انہیں مجرم ثابت کر دیا تو انہیں سات سال قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

مقدمے کی باضابطہ سماعت کے آغاز سے قبل محمد عامر اعتراف جرم کر چکے ہیں جبکہ محمد آصف اور سلمان بٹ اب تک اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

Facebook Comments