آصف نے عدالت میں آ کر بیان بدلا؛ جج برطانوی عدالت

برطانیہ کی عدالت میں جاری اسپاٹ فکسنگ مقدمہ میں عدالت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ محمد آصف کے معاملے پر اچھی طرح غور کرے کیونکہ انہوں نے اپنی نو بال کرانے کی جو وجہ عدالت میں بیان کی ہے وہ پولیس کو نہیں بتائی گئی تھی۔

ابتدائی پولیس تفتیش میں آصف نے وہ شواہد پیش نہیں کیے تھے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے عدالت کے روبرو پیش کیے: جسٹس (تصویر: Getty Images)

ابتدائی پولیس تفتیش میں آصف نے وہ شواہد پیش نہیں کیے تھے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے عدالت کے روبرو پیش کیے: جسٹس (تصویر: Getty Images)

لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں جہاں عدالت سماعت مکمل کرنے کے بعد اب شواہد کو اکٹھا کرنے اور ان کا جائزہ لینے پر کام کر رہی ہے، میں جج نے شواہد کے مکمل جائزے سے قبل عدالت کے سامنے کہا کہ اپنے ابتدائی پولیس انٹرویو میں محمد آصف نے وہ شواہد پیش نہیں کیے تھے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے عدالت کے روبرو پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ آصف نے اُس وقت یہ بیان پیش نہیں کیا جب پولیس نے ان سے ابتدائی تفتیش کی تھی، اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں نہیں تھے۔ لیکن اب عدالت کے روبرو انہوں نے اپنے بیان میں ترمیم کر کے کہانی کا ایک نیا رُخ پیش کیا ہے۔

محمد آصف نے عدالت کو بتایا تھا کہ کپتان سلمان بٹ نے ان کی تذلیل کی اور کہا "تیز دوڑ چ*****، سو رہا ہے کیا؟"۔ اس گالم گلوچ کی وجہ سے ان سے نو بال سرزد ہو گئی کیونکہ کپتان کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ آصف کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے ان سے نو بال کی وجہ نہیں پوچھی گئی تھی۔

بعد ازاں عدالت نے مقدمے کے دیگر دو فریق محمد عامر اور مظہر مجید کو 3 نومبر کو طلب کرلیا ہے۔ محمد عامر مقدمے کی باضابطہ سماعت سے قبل ہی اعتراف جرم کر چکے ہیں اور عدالت گزشتہ روز اپنے بیان میں کہہ چکی ہے کہ فریقین اس امر پر متفق ہیں کہ مظہر مجید اور محمد عامر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے تین کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر لندن میں دھوکہ دہی و بدعنوانی کا مقدمہ بھگت رہے ہیں، جو گزشتہ سال دورۂ انگلستان کے لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کر نو بالز کرانے اور اس کے بدلے میں رقم حاصل کرنے پر دائر کیا گیا ہے۔ تینوں کھلاڑی بین الاقوامی کونسل کی جانب سے پہلے ہی کم از کم 5،5 سال کی پابندیوں کا شکار ہیں اور یہاں برطانیہ میں اس مقدمے میں مجرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں 7 سال قید کی سزا بھی بھگتنا پڑ سکتی ہے۔

Facebook Comments