بورڈ کن بیانات پر معذرت کا طلبگار ہے؟ کرس گیل کا بورڈ سے سوال

ویسٹ انڈین بلے باز کرس گیل نے اپنے بورڈ سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ اُن سے کن بیانات کی معذرت خواہی کا طلبگار ہے۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ (ڈبلیو آئی سی بی) نے چند روز قبل جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ گیل کی ٹیم میں شمولیت پر اُسی وقت غور کیا جا سکتا ہے جب وہ بورڈ اور اُس کے عہدیداروں کے بارے میں اپنے بیانات واپس لیں اور معذرت طلب کریں۔

عالمی کپ 2011ء کے بعد سے ویسٹ انڈیز کی نمائندگی سے محروم شعلہ فشاں بلے باز کرس گیل بورڈ کے رویے سے مایوس دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں بورڈ اس معاملے کو حل ہی نہیں کرنا چاتا حالانکہ اسے اس قضیے کو جلد نمٹانے کی ضرورت ہے۔

کرس گیل بورڈ کے رویے سے مایوس نظر آتے ہیں

کرس گیل بورڈ کے رویے سے مایوس نظر آتے ہیں

کیریبین میڈیا کارپوریشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجائے اس کے کہ ایک مبہم و غیر واضح بیان جاری کرنے کے بجائے بورڈ کو صراحت سے بیان کرنا چاہیے کہ مجھے کس کس بیان کی معافی مانگنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ پیغام اُس وقت موصول ہوا جب میں علاقائی ٹورنامنٹ میں جمیکا کی نمائندگی کر رہا تھا اور میں اس وقت صرف اور صرف ٹورنامنٹ جیتنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں اس لیے اس معاملے پر ٹورنامنٹ کے بعد ہی کچھ غور کر سکتا ہوں۔

ڈبلیو آئی سی بی نے 20 اکتوبر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ گیل اور بورڈ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے تجزیے، ویسٹ انڈین ٹیم کی انتظامیہ کی رپورٹوں اور بورڈ عہدیداروں کے بارے میں کھلاڑی کے بیانات پر غور کے بعد بورڈ کرس گیل پر واضح کر دینا چاہتا ہے کہ اُن کی ویسٹ انڈین ٹیم میں شمولیت پر اسی وقت غور کیا جائے گا جب وہ اپنے بیانات واپس لیں گے۔

کھلاڑی اور بورڈ کے درمیان تعلقات رواں سال اپریل میں ایک انٹرویو کے بعد تلخ ہو گئے تھے جس میں کرس گیل نے بورڈ انتظامیہ اور کوچ اوٹس گبسن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں مفاہمت کی کوششوں میں ناکامی کے بعد کرس گیل بھارت روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے بھارتی پریمیئر لیگ اور بعد ازاں چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں اپنی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کی نمائندگی کی اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کر کے آئی پی ایل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بنے۔

واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز اِس وقت بنگلہ دیش کے دورے پر موجود ہے جس کے بعد 3 ٹیسٹ اور 5 ایک روزہ مقابلوں کے لیے بھارتی سرزمین پر اترے گی۔

Article Tags

Facebook Comments